سیاسی و مذہبی مضامین

آسان کیوں نہیں ہورہی ہیں شادیاں -محمد مصطفی علی سروری

ایک لڑکی جس کی عمر (40) برس ہے اور جو نیوزی لینڈ میں برسرکار ہے اس کی شادی کی بات چل رہی ہے۔ جس نوجوان سے شادی طئے ہوئی ہے اس کی عمر (45) سال ہے۔ دونوں ہی اس شادی کیلئے رضامند ہیں اور یہ لوگ تو چاہتے تھے کہ ان کی شادی دو برس پہلے ہی طئے ہوجائے لیکن کرونا کا وبائی دور شروع ہوا تو انہیں اپنی شادی ملتوی کردینی پڑی-
قارئین اکرام نیوزی لینڈ کے اس جوڑے کے متعلق مزید یہ بتلانا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ لڑکا ایک مشہور براڈ کارسٹر ہے یعنی میڈیا سے جڑا ہوا ہے اور سب سے اہم بات کہ اس نوجوان کے متعلق بتلایا جاتا ہے کہ اس کا بینک بیالنس 5 ملین ڈالر سے زائد ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ جس لڑکی یا خاتون کے ساتھ اس نوجوان کی شادی ہورہی وہ بھی برسرکار ہے۔ اور اس کی تنخواہ کتنی پُر کشش ہے وہ بھی جان لیجئے کہ اوسطاً اس ہونے والی دلہن کی یومیہ آمدنی ایک لاکھ بتلائی جاتی ہے یوں اس خاتون کی سالانہ آمدنی تمام ٹیکس وغیرہ اور دیگر کٹویتوں کے بعد بھی ڈھائی کڑوڑ سے بھی زیادہ ہے۔ 
آئیے اب ذرا یہ جان لیتے ہیں کہ اس خاتون کی شادی کس طرح سے انجام پانے والی ہے اور اس شادی میں کتنی دھوم دھام ہوگی۔ کیونکہ یہ ایک کڑوڑ پتی خاتون اور مرد کی شادی ہے اور یہ کروڑ پتی ہندوستان کے نہیں بلکہ نیوزی لینڈ کے ہیں۔ 
قارئین آپ لوگ سونچ رہے ہونگے نیوز لینڈ کے مرد و خواتین اگر شادی کررہے ہیں تو اس میں ہمارے لیے کیا دلچسپی کی بات ہے یا ہوسکتی ہے۔
نیوز لینڈ کے رہنے والے اس جوڑے نے دو برس پہلے ہی اپنی شادی کے لیے ایک فنکشن ہال بُک کروادیا تھا۔ نیوز لینڈ کی ویب سائٹ (nzherald.co.nz) کی 16؍اکتوبر کی ایک رپورٹ کے مطابق ان لوگوں نے دو برس پہلے Gisborne  علاقے کے مفاضاتی علاقے میں شادی کے لیے ایک ہال بُک کروایا تھا لیکن اب فنکشن ہال کے مالک کے حوالے سے سے ویب سائٹ نے رپورٹ دی ہے کہ ان ہونے والے میاں بیوی نے یہ کہہ کر اس ہال کی بکنگ منسوخ کروادی کہ وہاں پر شادی کرنے کا مطلب بہت خرچ کرنا ہے اور وہ اتنا خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
قارئین نیوز لینڈ کے جس کڑوڑ پتی خاتون کی شادی کے بارے میں ہم بات کررہے ہیں وہ کوئی اور نہیں بلکہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسنڈا آرڈن ہے جو اب اپنے ساتھی کے ساتھ شادی کے بندھن میں باضابطہ بندھنے جارہی ہے اور وہ اپنی شادی کی جگہ کو صرف اس لیے تبدیل کررہی ہے کہ وہ کافی مہنگی ہے۔
ذرا اندازہ لگائیے جو خاتون ایک دن میں ایک لاکھ کی تنخواہ کما لیتی ہیں وہ اس طرح سے اپنی شادی کو کم بجٹ میں کرنا چاہ رہی ہیں۔ اتنا ہی نہیں رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کی خاتون وزیر اعظم مزید کہتی ہیں کہ میرے لیے یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ میں نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے ہر رکن کو اپنی شادی کی دعوت میں بلاؤں۔
میں ابھی اس مخمصہ میں ہوں کہ کس کو دعوت دوں اور کس کو نظر انداز کروں کیوں کہ میں سب کو اپنی شادی کی دعوت میں بلا بھی نہیں سکتی ہوں۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے میڈیا کے روبرو اس بات کااعلان کیا کہ وہ اپنا ہنی مون منانے کا بھی کوئی پروگرام نہیں رکھتی ہیں۔
کیا نیوزی لینڈ میں دعوت کرنا یا دینا بہت مہنگا سودا ہے۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق جسنڈاآرڈن نے اپنی شادی کے لیے جو مینو طئے کیا ہے اس کے حساب سے فی فرد 100  تا 125  ڈالر کے خرچ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
جو کہ ان کی آمدنی کے حساب سے کوئی بہت زیادہ بوجھ ڈالنے والا نہیں۔ اس کے باوجود وہ فضول خرچی اور بہت سارے مہمانوں کو دعوت دینے میں دلچسپی نہیں رکھتی ہیں۔
قارئین آپ لوگ شاید سونچ رہے ہوں گے نیوز لینڈ کے وزیر اعظم کی شادی کی مثال دے کر برصغیر کے مسلمانوں کو اپنی شادیوں میں کم خرچ کی ترغیب دینا کوئی موزوں بات نہیں۔ انگریزوں کی بات انگریزوں کے لیے بہتر ہوتی ہے۔ اگر ہندوستان کی ہی مثال دیں تو کچھ سمجھ میں آجائے۔
قارئین اس برس 4؍جون کو بالی ووڈ کی مشہور ہیروین یامی گوتم نے فلم ساز ادتیہ دھار کے ساتھ شادی کرلی۔ فلمی میگزین ، فلم فیر کی رپورٹ کے مطابق یہ شادی ہماچل پردیش میں بالکل روایاتی انداز میں سرانجام پائی اور سب سے اہم با ت جو نوٹ کی جانی چاہیے کہ یامی گوتم نے اپنی شادی میں صرف 20 لوگوں کو ہی دعوت دی تھی۔
وہ لوگ جو یامی گوتم کو نہیں جانتے میں بتلادوں کہ اس فلم اسٹار نے اپنے فلمی کیرئیر کے دوران تامل، تلگو اور ہندی کی (22) فلموں میں کام کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یامی گوتم کی دولت کا تخمینہ لگایا گیا ہے کہ وہ 2  ملین امریکی ڈالر دولت کی مالک ہے۔اور اتنی مالدار فلم ایکٹر شادی کے موقع پر کیا خرچ کرتی ہے۔ وہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔
یامی گوتم کی جس فلم ساز کے ساتھ شادی ہوئی ہے وہ بھی کوئی عام شخص نہیں بلکہ ’’اُری‘‘ جیسی فلم بنانے والا فلم ساز ہے۔ اخبار ہندوستان ٹائمز کی 21؍جولائی 2021 کی رپورٹ کے مطابق یامی گوتم نے کہا کہ میں نے جتنا زیادہ شاندار پُر تعیش اور مہنگی شادیاں دیکھی ہیں اور ان میں شرکت کی ہے میرا فیصلہ مضبوط ہوتا گیا کہ مجھے میری شادی بالکل سادگی سے کرنا چاہیے جہاں تک شادی میں صرف 20 لوگوں کی شرکت کا سوال ہے تو فلم ایکٹریس نے بتلایا کہ شادی میں صرف ان ہی لوگوں کو دعوت دی گئی جو اہم اور ضروری تھے۔
فلم ایکٹریس نے مزید بتلایا کہ میں اور میرے شوہر شادی کے دوران فضول خرچی کے خلاف تھے۔ شادیوں میں جس طریقے سے کھانا پھول اور سجاوٹ پر جو غیر ضروری خرچ ہوتا ہے وہ ہمیں بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ یامی گوتم کہتی ہے کہ ہر ایک کو خوش کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس لیے میں نے طئے کیا تھا کہ کیوں نہ صرف ان لوگوں کو دعوت دی جائے جو واقعی خوش ہوتے ہیں۔ 
یامی گوتم نے اپنی شادی کے وقت جس بادامی رنگ کی ساڑی کو زیب تن کیا تھا وہ نئی نہیں تھی بلکہ (33) سال پرانی ساڑی تھی جو کہ یامی گوتم کی ماں نے اپنی شادی کے وقت خریدی تھی۔ صرف ساڑی ہی نہیں شادی کے دن یامی نے اپنی ناک میں جو نتھ پہن رکھی تھی وہ بھی اُس کی دادی کی تھی جو انہوں نے اپنی پوتری کو تحفہ میں دی تھی۔
قارئین آئیے اب میں اس فلم ایکٹریس کی شادی سے جڑے ایک ایسے زاویہ پر بات کروں گا جو کہ بڑا دلچسپ ہے۔ شادی بیاہ ہی نہیں اب تو ہر معمولی تقریب کے لیے مسلمانوں نے ہاں خواتین کا میک اپ پارلر کو جانا معمول بن گیا ہے اور کئی ایک ہٹ فلموں میں کام کرنے والی یہ ہیروئین اپنی شادی کے دن میک اپ کے لیے کہاں جاتی ہے یہ جاننا بھی دلچسپ بات ہوگی۔
قارئین اخبار ٹائمز آف انڈیا کی 11؍جولائی 2021 کی رپورٹ کے مطابق یامی گوتم نے شادی کے دن میک اپ کے لیے کسی بھی بیوٹی پارلر کا رُخ نہیں کیا۔ ایسا نہیں کہ دلہن بغیر میک اپ کے شادی میں چلی گئی۔ اخباری رپورٹ کے مطابق یامی گوتم کا شادی میک اپ گھر پر ہی اُس کی بہن سُریلی گوتم نے کیا اور بال بھی اس کی چھوٹی بہن نے بنادیے۔
آگے مزید کچھ لکھوں اُس سے پہلے یہ بھی بتادینا ضروری سمجھتا ہوں کہ مثال ضرور فلم اسٹار کی تھی، نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کی تھی۔ مثال دراصل اُن کی سادگی کے لیے اور بہت سارا بجٹ وسائل ہونے کے باوجود کم خرچ میں انتہائی سادہ شادی کرنے کے لیے دی گئی ہے اور یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ مثالیں برابری کے لیے نہیں بلکہ چیزوں کو سبق کو سمجھانے کے لیے دی جاتی ہیں۔
جب دنیا کے بڑے بڑے لوگ جن کے پاس بینک بیالنس ہے، مال ہے دولت ہے سب کچھ ہیں۔ وہ اپنی شادیاں سادگی سے کرنا چاہتے ہیں اور کررہے ہیں تو ہم مسلمانوں کو اس سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔
کیوں کہ مسلمان آج ہندوستان میں تعلیمی، معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر کمزور ترین طبقہ بنا ہوا ہے۔ پروفیسر عامر اللہ خان، ماہر معیاشیات ہیں، اُن کے مطابق کرونا کے بحران نے مسلمانوں کی بڑی تعداد کو غربت کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ ان کے مطابق مسلمانوں میں خواندگی کا فیصد 77 ہے لیکن اسکول کالج (تعلیم سے) ڈراپ آؤٹ کرنے والوں یعنی ترک تعلیم کرنے والوں میں مسلمانوں کا فیصد سب سے زیادہ ہے۔ معاشی پریشانیوں کا سب سے زیادہ شکار مسلمان ہیں۔ قرضوں کے دلدل میں سب سے زیادہ مسلمان پھنسے ہیں۔
بے روزگاروں کا فیصد مسلمانوں میں بہت زیادہ ہے۔ ان سب کے باوجود مسلمانوں میں شادی بیاہ کے اخراجات میں کمی کرنے کا کوئی رجحان ہی نہیں ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ دار، مالدار، صاحب ثروت لوگ بچت کرنے کی طرف مائل ہیں اور مسلمان اپنی شادیوں کو مہنگا سے مہنگا کرنا چاہتا ہے۔ بچت تو کچھ نہیں بلکہ آمدنی سے ہزار گنا زائد قرضہ لینے کے لیے تیار ہے اور سود پر قرض لے کر ایک سنت (نکاح) کو سرانجام دینا چاہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں پر ہماری عقل پر ہمارے سونچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پر رحم فرمائے اور ہم سب کو حق کو حق سمجھنے اور باطل کو باطل   سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button