مقبول احمد سلفی
یوٹیوب YouTube پر ویڈیوز بناکر اپ لوڈ کرنے کے نتیجہ میں جو مالی منافع حاصل ہوتا ہے وہ شرعا حلال ہے یا حرام؟
اس پہلو سے کئی سوالات جڑے ہیں۔ کیا جس کمپنی کا پرچار کیا جارہاہے اس کی تجارت حلال ہے ؟
کیا وہ سودی کاروبار سے پاک ہے ؟
اس میں حرام چیزوں کی ملاوٹ، طبی اعتبار سے اشیاء میں کوئی ضرررساں عنصر تو شامل نہیں ہے؟ پرچار مبالغہ آرائی اور جھوٹ کی آمیزش پہ مبنی تو نہیں ہے؟
پرچار میں روح والی تصویر، برہنہ عورت یا ہیجانی کوئی کیفیت تو نہیں ؟ کیا گوگل اس بات کی کسی کو ضمانت دیتا ہے کہ پرچار میں اسلامی اعتبار سے صرف جائز چیزیں ہی شامل ہوں گی؟ کیا منافع کمانے والے کو یہ حق ہے کہ اسلا م مخالف امر کو پرچار سے ہٹا سکے اور صرف اسلامی تجارت کے ضابطہ میں آنے والی تجارت کا ہی پرچار کرے ؟
اتنے سارے سوالات بلکہ اس سے بھی زیادہ سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے اگر ہم گوگل کے پرچار میں بااختیار نہیں ہیں تو بلاشبہ پرچار میں حرام چیزوں کی آمیزش ہوگی کیونکہ یہ یہودی میڈیا ہے اس کے پاس تجارت کا کہاں کوئی ضابطہ ہے ؟ اسے تو مال سے سروکار ہے بس۔ اس کا پرچار کرکے ہم شر کے معاون بنیں گے اگر پرچار شر پر مبنی ہوا۔ اللہ کا فرمان ہے :
وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ(المائدة:2)ترجمہ: نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ اورظلم وزیادتی میں مدد نہ کرو اور اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تعالٰی سخت سزا دینے والا ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے :مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنْ الأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ، لا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنْ الإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ، لا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا( مسلم:2674)
ترجمہ: جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی، اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ (کا بوجھ) ہو گا ۔اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔
یوٹیوب سے پیسہ کمانے والا کوئی بھی مسلم نوجوان اس بات کا اقرار کرنے سے نہیں کترائے گا کہ گوگل کی جانب سے ویڈیوز پر شائع ہونے والے اعلانات میں اسلام سے ٹکرانے والی کوئی بات کبھی بھی نہیں ہوتی۔
جب صورت حال ایسی ہو تو ہم بھی شر کے پھیلاؤ میں حصہ بنیں گے۔ اس کو ایک مثال سے اس طرح سمجھیں کہ آپ نے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی اس میں گوگل نے کسی کمپنی کا اعلان شامل کیا، اس اعلان میں برہنہ لڑکی شامل ہے یا کوئی فحش کام کا اعلان ہے یا حرام کمپنی / اشیاء کا اعلان ہے یا اس اعلان میں جھوٹ اور فریب سے کا م لیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں اس اعلان کو جو بھی دیکھے گا اس کا گناہ ویڈیو لوڈ کرنے والے کے سر جائے گا۔ اس ویڈیو کو دیکھنے والے لاکھوں ہوں تو لاکھوں کا گناہ سر آئے گا۔ دوسری طرف اس کی کمائی بھی حلال نہیں ہوگی۔
ان باتوں کا میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ کوئی مفید کاموں کے لیے یوٹیوب پر دینی ویڈیوز اپ لوڈ نہ کرے، اصل مقصد پرچار کے مقابل مالی منافع کی شرعی حیثیت بتلانا ہے۔ پیسہ کمانا اصل یا اہم نہیں ہے بلکہ کمائی حلال ہے کہ نہیں یہ اصل اور اہم ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر گوگل کمپنی سے جڑنا فری میں ہو، آپ کو اپنی اجرت معلوم ہو اور اعلان مباح چیزوں پر مشتمل اور مباح امور کے متعلق ہونیز ویڈیو بھی فی نفسہ بے عیب ہو تو پھر منافع حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
نوجوانوں کو آخر میں نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اللہ نے آپ کو ویڈیو زبنانے کا جوہر دیا ہے تو اس جوہر سے قوم کو فائدہ پہنچائیں،میں اس سے نہیں روکتا مگر مندرجہ ذیل باتوں کو دھیا ن میں رکھیں۔
٭ زندگی کا اصل ہدف اسے نہ ٹھہرائیں، اپنی تخلیق کااصل مقصد جانیں اور اس کے نفاذ کی کوشش کریں۔
٭ انٹر نیٹ جہاں مفید ہے وہیں مضر بھی ہے، اس کے مضرات کو محسوس کریں اور ان سے بچیں، اللہ کے یہاں حساب دینا ہوگااور اوقات کا خیال کرتے ہوئے حقوق وواجبات کی ادائیگی کریں۔
٭ سستی و جھوٹی شہرت اور حلت وحرمت کی پرواہ کئے بغیر بن محنت مالی منفعت کے حصول اورفواحش ومنکرات کا سبب بننے سے بچیں۔ آپ دنیا سے چلے جائیں گے مگر یوٹیوب کا یہ کالا حصہ باقی رہے گا حتی کہ یوم حساب اس کا حساب بھی چکانا ہوگا۔
٭ اسلام نےانسان کو محنت وعمل پہ ابھارا ہے، عمل اور عامل کی قدر کی ہے لہذا ہم بھی شرف محنت کو اپنائیں اور ہمیشہ حلال رزق کی تلاش کریں، اللہ تعالی نیتوں کے حساب سے آپ کو حلال روزی مہیا فراہم کرے گا کیونکہ انسانوں کو روزی دینے والا ہے۔
٭ آج آبادی کی کثرت کی وجہ سے روزگار کی فراہمی ہرکس وناکس کے لیے مشکل ہوگئی ہے اور فتنے کے دور میں کسب حلال تو اور بھی مشکل ہے۔ ایسے میں ایک مومن کا یہ امتحان ہے کہ اپنے دامن کو فتنہ سے بچاتے ہوئے حلال روزی پر اکتفا کرے خواہ کم ہی روزی نصیب ہو۔
ہر شخص کی روزی اس کی تقدیر میں لکھ دی گئی ہے اورہرشخص کی قسمت میں امیر ہونا بھی نہیں لکھا ہے، اللہ نے سماج کے دوطبقے امیروغریب بنائے ہیں۔ یہ فرق قیامت تک باقی رہے گا۔ اشتراکی نظام نے معیشت میں مساوات پیداکرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوگیا۔
٭ اسلام نے ہمیں جائز طریقے سے محنت کرکے زیادہ سے زیادہ دولت کمانے سے منع نہیں کیا ہے، منع کیا ہے تو کسب معاش کے ناجائز طریقے سے اور جسے غربت ملی یا جسے روزی کی فراوانی نصیب نہیں ہوئی ایسے لوگوں کو صبر کرنا چاہیے۔
اس پر اللہ کی طرف سے دنیا اور آخرت میں بہتر بدلہ ہے۔ یقین جانیں مالدار وہ نہیں جو پیسے والا ہو بلکہ مالدار وہ ہے جو اعمال وتقوی والاہو اور یتیم وہ نہیں جس کے والدین نہ ہوں بلکہ یتیم وہ ہے جواعمال وتقوی سے خالی ہوگرچہ اس کے پاس دولت کا انبار ہو۔
٭ آخری بات کے طور یہ جملہ یاد رکھیں کہ یوٹیوب کے لیے صرف وہی ویڈیو بنائیں جس سے آپ کا اخروی کوئی نقصان نہ ہو۔ عقیدہ ومنہج مخالف ویڈیو، کسی پر الزام تراشی والی ویڈیو، مسلکی عصبیت میں بنائی گئی ویڈیو، اخلاق واعمال برباد کرنے والی ویڈیو، فتنہ وفساد پھیلانے والی ویڈیو یا بدعات وخرافات اور فواحش ومنکرات سے لبریز ویڈیو بنانے کا انجام بہت برا ہے اور اس کا اثر کتنا زیادہ ہے وہ اوپر ہمیں معلوم ہی ہوگیا۔
منافع سے بالا تر ہوکرہم صرف تعلیمی، اصلاحی اور مفید ویڈیوز جو کتاب وسنت پر مبنی ہوں اسے ہی بنائیں اور شیئر کریں۔ جھوٹی کہانیاں بنانے، کارٹون میں وقت ضائع کرنے، ویڈیوز میں غیرضرروی تصنع وتکلف برتنے یا فضول ولایعنی کاموں والے ویڈیوز سے بھی بچیں۔



