آزاد بھارت کی آزاد فضا میں حکومت سازی سیکولرازم کے تھی مرتب کی گئی بھارت کا آئین واضح طور پر مذہب کو سیاست سے علحیدہ کر تا ہوا بنا گیا، جس کا واحد مقصد حکومتی نظام میں کسی بھی مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں رہے گا ، حکومت میں شامل عوام کے منتخب نمائندے ہی قانون سازی کرکے حکومت کے فرائض انجام دے گے، چونکہ یہ ایک غیر فطری عمل ہے ، اس نظام کا بھی رخصت ہونا طے ہے، اللہ نے بنی نوع انسان کو رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے بہترین طرز نظام عطا کیا مزید قران نازل فرما کر انسانوں پر اپنی حجت تمام کردی نیز یہ کہ دیا جو دین اسلام پر چل کر آئے گا وہی قبول کیا جائے گا۔ بہر کیف دنیا پوری میں بسنے والے بے شمار لوگوں نے اللہ کی ہدایات کو پش پست رکھ کر اپنے جداگانہ نظام کی تخلیق کی نتیجہ انسان اللہ کی بنائی حدود کو تجاوز کر گیا اس غیر مناسب نیز غیر فطری رویش نے کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں کو یک کے بعد دیگرے اللہ کی عطا کردہ خوبصورت نعمتوں و رحمتوں کا انکاری بنادیا بے تحاشہ ترقی نے انسان کو اللہ سے دور کردیا۔
بہر کیف اسی طرح کا غیر فطری طرز نظام طرز حکومت بھارت میں رائج کیا گیا ، چونکہ ملک کی تقسیم مذہب کی بنیاد پر تھی، لہٰذا مسلمانوں کی کثیر تعداد نقل مکانی و ہجرت کر گئی ، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کو اپنا ملک تصور کرکے یہ ہجرت کرنے والے افراد وہاں مہاجر کہلائے، اس کے برعکس بہت سے مسلمانوں نے ہجرت نہیں کی اور یہی رہ گئے ، اللہ کی بنائی زمین پر انسانوں کے ذریعے کھینچی گئی سرحدوں کو عبور کرنا مناسب نہیں سمجھا نیز ہجرت کر نے سے انکار کر دیا۔ جنہوں نے ہجرت کی وہ دوسرے ملک کے باشندے بن گئے جو ہجرت کرنے سے رہ گئے وہ بھارتی شہری بنے رہے، چونکہ بھارت میں ابتداء ہی سے سیاست میں مذہب کا کافی اثر ورسوخ رہا بھارتی سیاست مذہبی درس سے کبھی مبراء نہ رہی ، مذہب کا عمل دخل سیاست میں ہمیشہ قائم رہا، اسی کے تحت بابری مسجد شہید کر دی گئی حکومت میں شامل افراد خاموش تماشائی بنے ہوئے نظر آے ، تاہم گزشتہ ستر سال ملک میں حکومت سیکولرازم کے تحت قائم ہوتی رہی جس کا رویہ سیکولر ہونے کے باوجود اقلیت طبقے سے تعلق رکھنے والوں کے تہی غیر مہذب رہا ظلم و ستم کے بے شمار واقعات تاریخ میں رقم ہے، بہر کیف ملک سیکولرازم کا لبادہ اوڑھے دنیا پوری کو مہزب انداز سے بے وقوف بناتا رہا،
دوسری جانب ملک فسطائی طاقتوں کو کسی نہ کسی طرح تحفظ فراہم کرتا رہا ١٩۲٥ میں قائم آر ایس ایس جماعت آج حتمی طور پر ملک پر حکومت کررہی ہے ، اس جماعت کا منشور ہی ملک کو اقلیتوں سے پاک کرنا ہے ، ان پر مظالم تشدد برپا کر کے انہیں ہراساں کرنا ہے ، یہی ان فسطائی طاقتوں کا درس و نصاب ہے، گزشتہ ستر سے زائد سالوں سے فسطائی قوتیں اسی جدو جہد میں کارفرما رہی اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کو یکجا کیا جائے شب وروز کی بے جا کاوشوں نے بلآخر رنگ لایا بکھرے ہوے اکثریت طبقہ اب یکجا ہوچکے یہی وہ طاقت ہے جو آج حکمران بنے ہوئے ہیں ، بہر کیف اب انتہائی تشویشناک صورتحال ملک میں قائم ہو چکی ، ملک میں سیکولرازم کو ترجیح دینے والے افراد اب رفتہ رفتہ رخصت ہو رہے ہیں ،
یہ علامت صاف نظر آ رہی ہے کہ ملک میں سیکولرازم کے ایام گنتی کے رہ گئے ہیں ، بھارت حکومتی سطح پر داخلی طور پر ہندوتوا کے تمام مراحل مکمل کر چکاہے، اقلیت اس راہ میں کانٹا بنا ہوا تھا پر اب نہیں ، حکومت میں شامل فسطائی سرکشوں نے اپنی حکمت عملی کے تحت اقلیتوں کو دیوار سے لگانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر لی ہے، وہ دن دور نہیں جب بھارت کا سیکولر آئن اپنی معیاد مکمل کر چکا ہوگا، نیز نیا غیر سیکولر آئن اس کا متبادل لاکر ملک کا حکومتی نظام اس غیر سیکولر آئن کے تحت چلایا جائے یہ ساری تیاریاں مکمل ہو چکی، نیا نظام خالصتاً ہندوتوا کے نظریات پر مشتمل ہوگا، جس کے لئے نئی عمارت کی تعمیر ازسرنو کی جارہی ہے ، ممکن ہے ۲٠۲۵ تک یہ ہدف حاصل کر لیا جائے ، بھارت ہندو راشٹر کے تحت دنیا میں اجاگر ہوجائے ، ستر سال کی کوشش نے اکثریت کو یکجا کیا تاہم انہیں ستر سالوں میں اقلیت منتشر ہوتی چلی گئی ، مسلکی اختلاف نے امہ کاشیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ، آپسی نااتفاقی و تفرقہ نے فرد فرد اقلیت کو ایک دوسرے سے علحیدہ کر دیا یہ امر اب انتہائی مشکل ہو چکا کہ دوبارہ اقلیتوں میں وہی جوش وہی قوت بحال ہوجائے ۔
وماعالینا الاالبلاغ المبین



