ظہیر الدین بابر اور زہر کا علاج — مغل بادشاہ کی حیرت انگیز داستان
حکیم محمد مختار اصلاحی
تاریخ گواہ ہے کہ ملک گیری کی حرص و ہوس اور اقتدار کے نشے نے کبھی رشتے، ناطے، دوستی و بھائی چارگی، مذہب و مسلک — کسی کا بھی کوئی لحاظ نہیں رکھا۔
بیٹے نے باپ کو نظر بند کیا، باپ نے بیٹے کے خلاف سازشیں کیں، بھائی نے بھائی کی گردن ماری۔ ایک ہی مذہب پر عمل پیرا افراد نے اپنے ہی مذہب کو تہہ تیغ کیا۔
ریاست و سیاست اپنے و پرائے میں کوئی تمیز نہیں کرتی۔ کوئی بھی صدر یا وزیر اعظم یہ نہیں جانتا کہ اقتدار کی رسہ کشی اور سیاست کے اس کھیل میں کل اس کا انجام کیا ہوگا۔
خوش قسمت حکمران بہت کم
تاریخ کے صفحات میں ایسے خوش قسمت حکمراں بہت کم ملیں گے جنہوں نے اپنی پوری زندگی سکون و اطمینان سے بسر کی ہو، ورنہ اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ پھولوں کی سیج پر سونے والوں کو کانٹوں کی چبھن بھی برداشت کرنی پڑتی ہے۔
پانی پت کی فتح اور بابر کی آزمائش
ہندوستان کی مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر نے پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کو شکست دے کر تختِ حکومت پر قبضہ تو کر لیا، لیکن زندگی بھر اسے کبھی سکون نصیب نہ ہوا۔
البتہ یہ ابتلا و آزمائش، دکھ اور درد کا زمانہ ایک لحاظ سے فائدہ مند رہا کہ طب کو اپنی مسیحائی دکھانے کا موقع اکثر ملتا رہا۔
بابر کا طب سے شغف
شہنشاہ بابر طبی طریقہ علاج کا دلدادہ تھا اور ہمیشہ قابل و حاذق طبیبوں کو اپنے قریب رکھتا تھا۔
اس نے اپنی آپ بیتی خود تحریر کی، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس کے حالات خود اسی کی زبانی سنیں۔
زہر دینے کی سازش
بابر اپنی آپ بیتی میں لکھتا ہے:
’’ابراہیم لودھی کی بدنصیب ماں نے جب یہ سنا کہ میں نے ہندوستانی کھانے پکانے کے لیے ابراہیم کے باورچیوں میں سے چار کو ملازم رکھ لیا ہے، تو اس نے اٹاوہ سے احمد چاشنی گیر (سالن چکھنے والا) کو بلایا اور اسے تولہ بھر زہر کی پڑیا ماما کے ہاتھ بھیجی۔‘‘
احمد یہ پڑیا میرے باورچی خانے کے ایک ہندوستانی باورچی کے پاس لایا اور اس سے کہا کہ چار پرگنے جاگیر میں ملیں گے، اگر وہ کسی طرح یہ زہر میرے کھانے میں ملا دے۔
زہر رکابی میں چھڑک دیا گیا
ابراہیم لودھی کی ماں نے ایک اور ماما کو بھی بھیجا تاکہ دیکھ آئے کہ زہر پہنچا یا نہیں۔
حسن اتفاق سے باورچی نے زہر کو پتیلی میں نہیں ڈالا بلکہ رکابی (پلیٹ) پر چھڑک دیا۔
کیونکہ میرا حکم تھا کہ چاشنی گیر سالن پتیلی سے نکال کر ہندوستانی باورچی کو چکھائے۔
مگر نالائق چاشنی گیروں نے رکابی میں سالن نکالتے وقت نگرانی نہیں کی۔
زہر خوراک میں ملا
چینی کی رکابی میں جو پھلکے لائے گئے، باورچی نے کچھ زہر ان پر چھڑک دیا اور اوپر گھی میں بگھاری ہوئی بوٹیاں رکھ دیں۔اگر وہ بوٹیوں پر بھی زہر چھڑک دیتا تو بہت خرابی ہوتی، مگر وہ گھبرا گیا اور آدھا زہر خوف سے چولہے میں پھینک دیا۔
جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر دسترخوان چنا گیا۔
میں نے خرگوش کے گوشت کی رکابی سے کچھ لے کر کھایا اور چند گاجریں بھی لیں۔
پھر چند لقمے زہر والی رکابی سے کھائے۔
بابر کی حالت بگڑ گئی
پہلے تو کوئی چیز بے مزہ محسوس نہیں ہوئی، لیکن جب بوٹیاں کھائیں تو طبیعت بگڑ گئی۔
دو تین مرتبہ ابکائی آئی۔ خدشہ تھا کہ دسترخوان پر ہی قے ہوجائے، اس لیے غسل خانے میں گیا اور وہاں قے کی۔
کھانا کھا کر مجھے پہلے کبھی قے نہیں ہوئی تھی، اس لیے شبہ ہوا اور حکم دیا کہ باورچیوں کو قید کیا جائے۔
زہر کی تصدیق
قے کی ہوئی غذا کتے کو کھلائی گئی تو اس کا پیٹ پھول گیا اور وہ ناتواں ہو کر بیٹھ گیا۔
میرے دو سپاہیوں نے بھی زہر والی رکابی سے کھایا تھا، وہ بھی قے کرتے رہے۔
ایک کی حالت بہت بگڑ گئی تھی، مگر شکر ہے ہم سب بچ گئے۔
سازش کا انکشاف
میں نے سلطان محمد بخش کو تفتیش کا حکم دیا۔ جب باورچی کو خوب پیٹا گیا تو اس نے سب کچھ بیان کر دیا۔
پیر کو دربار کا دن تھا، سب امیروں، وزیروں اور عمائدین کو حاضر ہونے کا حکم دیا گیا۔
مجرم مردوں اور دونوں عورتوں کو دربار میں بلایا گیا۔ جب ان سے جرح کی گئی تو انہوں نے پورا واقعہ تسلیم کر لیا۔
سزا کا نفاذ
بابر نے انصاف کرتے ہوئے سخت سزا دی:
-
چاشنی گیر احمد کے ٹکڑے کرا دیے گئے۔
-
باورچی کی کھال کھنچوا دی گئی۔
-
ایک عورت کو ہاتھی کے پاؤں تلے کچلوا دیا۔
-
دوسری کو بندوق سے اڑا دیا۔
ابراہیم لودھی کی ماں کو قید میں ڈالا گیا، اور جب کابل بھیجی گئی تو راستے میں اس نے دریائے سندھ میں کود کر خودکشی کر لی۔
’’خس کم جہاں پاک‘‘ — بابر کے یہ الفاظ اس واقعے کا خلاصہ ہیں۔
زہر کا علاج — بابر کا تجربہ
بابر نے زہر کے علاج کا ذکر ان الفاظ میں کیا:
’’حاذق طبیبوں کے مشورے سے پہلے ایک پیالہ گرم دودھ گل مختوم ملا کر ہم سب کو پلایا گیا۔
پھر تریاق فاروق دودھ کے ساتھ دیا گیا۔ دوسرے دن جب مسہل دی گئی تو اجابت کے ساتھ سیاہ رنگ کا مادہ خارج ہوا۔‘‘
تریاق فاروق — زہر کا تریاق
تریاق فاروق طبِ یونانی میں زہروں کے علاج کے لیے ایک کامیاب مرکب ہے۔
یہ حکیم اندروماخس ثانی نے ترتیب دیا تھا، جس میں کل ستّر دوائیں شامل تھیں۔
بعد میں ارسطو نے کچھ دوائیں کم کر دیں۔
آج کل اس مرکب کی کئی دوائیں نایاب ہو چکی ہیں، تاہم بہت سے اطباء اس میں رد و بدل کر کے ایک مؤثر تریاق تیار کرتے ہیں۔
یہ آج بھی زہروں کے اثرات ختم کرنے میں کارگر سمجھا جاتا ہے۔
بابر کا فلسفیانہ اختتام
آخر میں بابر نے ایک ترکی شعر لکھا، جس کا مفہوم ہے:
’’چوٹ کھائی، بیمار ہوا، زندہ ہوں، موت کا مزہ چکھا تو زندگی کی قدر ہوئی۔‘‘
یہ واقعہ نہ صرف ایک تاریخی سبق ہے بلکہ طبِ یونانی کی معجزاتی طاقت اور انسانی حوصلے کی مثال بھی ہے۔



