سیاسی و مذہبی مضامین

زکوٰۃ سے غرباء کی امداد ہی نہیں، غربت سے نجات بھی مطلوب

✍️نقاش نائطی 📞966562677707

کیا ہم اللہ کے وفادار بندے ہیں یا محض دنیا کے ملازم؟

جب کسی دولت مند شخص کو یہ معلوم ہو کہ اس کا نوکر صرف تنخواہ کے لیے وقت گزاری کر رہا ہے اور اپنی پوری صلاحیتوں کو کام میں نہیں لا رہا، تو کیا وہ ایسے ملازم کو برداشت کرے گا؟ یا جیسے ہی کوئی بہتر ملازم ملے، اسے نوکری سے نکال دے گا؟

اسی طرح، اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں، باوجود اس کے کہ ہم ان کے لائق نہیں تھے۔ مگر کیا ہم ان نعمتوں کا شکر ادا کر رہے ہیں؟ خاص طور پر زکوٰۃ جو کہ فرض ہے اور اس کا نہ دینا وعیدوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اللہ نے زکوٰۃ اور صدقات کے عوض بے شمار انعامات کا وعدہ کیا ہے، اور جو لوگ اپنی دولت کو صحیح مستحقین تک پہنچاتے ہیں، ان کے لیے جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔

ہمیں غور کرنا چاہیے کہ آیا ہم اللہ کے وفادار بندے ہیں یا محض دنیا کے عارضی ملازم، جو بس رسمی عبادات کرکے اپنی "ڈیوٹی” پوری کر رہے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ کی بارگاہ میں ہماری نیکیاں قبول ہوں، تو ہمیں اپنی زکوٰۃ، صدقات اور عبادات کو اخلاص کے ساتھ ادا کرنا ہوگا۔

زکوٰۃ اور صدقات کے فوائد:

 اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔
 مال میں برکت اور حفاظت ہوتی ہے۔
 آخرت میں بلند درجات حاصل ہوتے ہیں۔
 ضرورت مندوں کی مدد ہوتی ہے، جو اسلامی بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔

زکوٰۃ و صدقات: کیا ہم درست طریقے سے ادا کر رہے ہیں؟

آج کے دور میں کئی مسلمان تونگر اور روساء اپنی زکوٰۃ و صدقات کو محض دکھاوا اور نام و نمود کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ وہ بڑی بڑی رقوم مدارس و مساجد کو عطیہ دے کر معاشرتی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں کیا ان کا مال صحیح مستحقین تک پہنچ رہا ہے؟

اکثر دیکھا گیا ہے کہ زکوٰۃ کی رقم غیر مستحق افراد، پیشہ ور فقیروں، اور غیر مسلم بھکاریوں کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے، جو ایک منظم طریقے سے مسلمانوں کی زکوٰۃ ہڑپ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، وہ لوگ جو حقیقی معنوں میں حاجت مند ہیں، معاشرتی بے حسی کے سبب محروم رہ جاتے ہیں۔

صحیح طریقے سے زکوٰۃ و صدقات ادا کرنے کا اسلامی طریقہ

بیت المال کا نظام اسلامی تاریخ میں زکوٰۃ کی منصفانہ تقسیم کا بہترین ذریعہ تھا۔ آج کے دور میں جب تک بیت المال کا مؤثر نظام قائم نہیں ہوتا، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زکوٰۃ و صدقات مخلص اداروں کے ذریعے مستحقین تک پہنچائیں۔

مخلص علماء و زعماء کے قائم کردہ ادارے جیسے مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل، جماعت المسلمین کے بیت المال نظام، روٹی بینک، کپڑا بینک اور قوم کی بچیوں کی مالی امداد کے لیے مخصوص ادارے بہترین انتخاب ہو سکتے ہیں۔

 زکوٰۃ و صدقات کی منظم اور شفاف تقسیم سے نہ صرف مستحقین کی مدد ہوگی، بلکہ مسلم معاشرے میں پیشہ ور فقیروں اور غیر ضروری بھکاریوں کی افزائش بھی روکی جا سکتی ہے۔

زکوٰۃ اور صدقات کا درست مصرف نہ صرف آخرت میں کامیابی کا سبب ہے، بلکہ اسلامی معاشرے کی ترقی اور فلاح و بہبود میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہمیں اپنی زکوٰۃ کو محض نام و نمود کے لیے خرچ کرنے کے بجائے صحیح مستحقین تک پہنچانے کا عزم کرنا ہوگا۔

زکوٰۃ اور صدقات کا صحیح مصرف: بھیک یا خود کفالت؟

اللہ کے رسول محمد ﷺ کی زندگی ہمیں بہترین راہنمائی فراہم کرتی ہے کہ ضرورت مندوں کی مدد کیسے کی جائے۔ جب ایک صحابی نے مدد کے لیے رجوع کیا، تو آپ ﷺ نے اسے براہ راست بھیک نہیں دی، بلکہ اسے خود کفیل بنانے کا راستہ دکھایا۔ آپ ﷺ نے اس سے اضافی سامان منگوایا، اسے فروخت کرایا، اور پھر ایک کلہاڑی دلوائی تاکہ وہ لکڑیاں کاٹ کر روزگار حاصل کر سکے۔ چند دنوں میں وہی سائل مدینہ کے بازار میں لکڑیوں کا تاجر بن چکا تھا۔

ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

 ہمیں ضرورت مندوں کو بھکاری بنانے کے بجائے انہیں خود کفالت کی راہ دکھانی چاہیے۔

 زکوٰۃ و صدقات کو اس طرح استعمال کرنا چاہیے کہ مستحقین اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

 مستقل بھیک دینے سے بجائے، ہمیں مستحق افراد کو ہنر سکھانے، کاروبار کے مواقع فراہم کرنے، اور روزگار پر لگانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

 اگر ہم واقعی اسلامی فلاح و بہبود چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے زکوٰۃ و صدقات کا درست استعمال یقینی بنانا ہوگا۔

حل کیا ہے؟

 اپنے زکوٰۃ و صدقات کو تعلیم، ہنر مندی، اور خود کفالت کے منصوبوں پر لگائیں۔

 ایسے فلاحی اداروں کے ذریعے مدد کریں جو مستحقین کو خود روزگار کے قابل بناتے ہیں، جیسے روٹی بینک، کپڑا بینک، اور بیت المال کے منظم نظام۔

 مستقل بھیک دینے کے بجائے مستحقین کو کوئی ہنر سکھانے یا کاروباری معاونت فراہم کرنے پر غور کریں۔مسلمانوں کو محض بھیک دینے کا عادی نہیں بنانا چاہیے بلکہ انہیں خود کمانے اور عزت و وقار کی زندگی جینے کا موقع دینا چاہیے۔ یہی حقیقی فلاح و بہبود کا راستہ ہے جو نبی کریم ﷺ نے ہمیں سکھایا

معاشی استحکام: بھیک نہیں، روزگار دو

اسلامی تعلیمات اور نبی کریم ﷺ کی سنت ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی کو کھانے کے لیے ایک وقت کی روٹی دینا وقتی مدد ہے، لیکن اسے خود کمائی کرنے کے قابل بنانا حقیقی فلاح و بہبود ہے۔ ہمارے معاشرے میں چھوٹے تاجر، ٹھیلے والے، اور محنت کش طبقہ دن رات محنت کر کے حلال روزی کماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان سے خریداری کر کے ان کی معیشت کو مستحکم کریں اور گھر میں بیٹھی خواتین کے ہاتھ سے بنی اشیاء خرید کر ان کی مالی خود کفالت میں مدد دیں۔

بنگلہ دیش ماڈل: محمد یونس اور مائیکرو فنانسنگ

محمد یونس، جو بنگلہ دیش کے مشہور سوشل ورکر ہیں، نے "مائیکرو فنانسنگ اسکیم” متعارف کر کے یہ ثابت کیا کہ کم مقدار میں دیے گئے قرض بھی معاشی استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے غریب مزدور پیشہ لوگوں کو نہایت آسان شرائط پر قرض فراہم کیے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر خود کفیل بن سکیں۔ ان کے اس ماڈل نے ہزاروں لوگوں کو بھیک مانگنے کے بجائے محنت کر کے کمانے کے قابل بنایا اور بنگلہ دیش کو دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل کر دیا۔ اسی ماڈل کی کامیابی کی بدولت انہیں 2006 میں نوبل انعام بھی دیا گیا۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

چھوٹے کاروباریوں اور محنت کشوں کی حوصلہ افزائی کریں اور ان سے خریداری کریں۔

گھریلو صنعتوں جیسے خواتین کے ہاتھ کے بنے کھانے، کپڑے، اور دیگر مصنوعات خرید کر انہیں مالی استحکام دیں۔

مائیکرو فنانسنگ جیسے ماڈلز پر کام کریں تاکہ سود سے پاک چھوٹے قرضوں کے ذریعے لوگوں کو روزگار دیا جا سکے۔

 مستقل بھیک دینے کے بجائے، فلاحی کاموں کو ایسے منصوبوں میں لگائیں جو لوگوں کو خود کفیل بنائیں۔اگر ہم زکوٰۃ و صدقات کو محنت کش طبقے کو سپورٹ کرنے اور روزگار پیدا کرنے پر خرچ کریں تو ہمارا معاشرہ غربت اور بھیک مانگنے کے کلچر سے نجات پا سکتا ہے۔ خود کفالت ہی اصل اسلامی معیشت کا اصول ہے، اور یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

معاشی استحکام اور خود کفالت کی راہ

دنیا میں ترقی کے لیے معاشی خود کفالت سب سے اہم عنصر ہے۔ یہی اصول ہمیں اسلامی تعلیمات میں بھی نظر آتا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ کے پاس ایک غریب شخص مدد کے لیے آیا تو آپ نے اسے محنت اور خود روزگاری کی راہ دکھائی، نہ کہ صرف صدقہ دے کر واپس بھیج دیا۔

بنگلہ دیشی ماڈل اور محمد یونس کی جدوجہد

محمد یونس نے اسی اسلامی اصول پر عمل کرتے ہوئے بنگلہ دیش میں مائیکرو فنانسنگ متعارف کروائی، جس نے لاکھوں غریب افراد کو سود سے پاک قرضے فراہم کر کے انہیں خود کفیل بنایا۔ یہ ماڈل اتنا کامیاب ہوا کہ بنگلہ دیش جیسے غریب ملک کی GDP میں نمایاں اضافہ ہوا، اور آج وہ دنیا کے تیز ترین ترقی پذیر ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ 2006 میں، عالمی طاقتوں کو نوبل امن انعام کسی مغربی ملک کے مسیحی یا یہودی اسکالر کے بجائے محمد یونس جیسے مسلمان کو دینا پڑا، جو ان کی اقتصادی فلاح و بہبود کی کامیابی کا اعتراف تھا۔

"مچھلی دو نہیں، جال دو” – حقیقی مدد کا اصول

محمد یونس کا مشہور قول تھا:
"اگر کسی غریب کو ایک وقت کا کھانا دو، تو وہ پھر بھی محتاج رہے گا، لیکن اگر اسے مچھلی پکڑنے کا جال دو، تو وہ زندگی بھر خود کفیل ہو جائے گا۔”

یہی فلسفہ ہمیں اسلامی تعلیمات میں بھی نظر آتا ہے کہ محتاجوں کو مستقل بھیک دینے کے بجائے، انہیں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

خود کفالت اور حلال روزی: بنگلہ دیشی ماڈل سے سیکھیں

حلال روزی اور خود کفالت اسلام کے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ محنت و مزدوری کو ترجیح دی اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کی۔

معذور افراد کے لیے روزگار کے مواقع

بنگلہ دیش کے محمد یونس نے اسی اسلامی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے، معذور و بے سہارا افراد کے لیے پبلک ٹیلیفون بوتھ لگوانے کا منصوبہ متعارف کروایا۔ یہ اس وقت کی اہم ضرورت تھی کیونکہ:

عام لوگ ٹیلیفون بوتھ پر انحصار کرتے تھے۔

 معذور افراد کو باعزت روزگار فراہم ہوا۔

بھیک مانگنے کے بجائے، وہ خود اپنا روزگار کمانے لگے۔

یہ ایک چھوٹا سا مگر مؤثر اقدام تھا، جس نے نہ صرف ان معذور افراد کو خود کفیل بنایا بلکہ بنگلہ دیشی معیشت کو بھی سہارا دیا۔ آج بنگلہ دیش میں بھیک مانگنے کا رجحان کم ہو چکا ہے اور وہاں کے لوگ چھوٹے کاروبار اور صنعتوں سے منسلک ہو کر ترقی کی راہ پر گامزن ہیں

اللہ رب العزت نے اپنی مخلوق انسانیت کے لیے روزگار کے ذرائع پیدا کیے، تاکہ وہ محنت سے حلال رزق حاصل کر سکیں۔ اسی فلسفے پر عمل کرتے ہوئے محمد یونس نے بے روزگار اور غریب افراد کو خود کفیل بنانے کا مشن شروع کیا۔ ان کی یہ خدمات اللہ کی بارگاہ میں تو قبولیت پائیں گی ہی، لیکن دنیا نے بھی انہیں بھرپور سراہا۔

بنگلہ دیش کے غیر معروف محمد یونس، جنہوں نے ایکیسویں صدی کے آغاز میں مائیکرو فنانس اور غریب افراد کو خود مختار بنانے کے لیے جدوجہد کی، آج 2024 میں بنگلہ دیش کے صدر مملکت بن چکے ہیں۔ یہ ان کے کار خیر کا نتیجہ ہے کہ وہ دنیا میں عزت اور مقام حاصل کر چکے ہیں۔

پاکستان کی حالتِ زار: معاشی عدم استحکام اور عالمی سطح پر بے توقیری

اس کے برعکس، پاکستان میں حکمران طبقات، زردار اور محافظین بیرونی امداد پر انحصار کرتے رہے۔ عرب ممالک، امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں سے مالی مدد لینے کی عادت نے پاکستانی قوم کو خود کفالت کے بجائے محتاجی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ نتیجتاً، 25 کروڑ کی آبادی کا ایک بڑا طبقہ یا تو بھیک مانگنے پر مجبور ہے یا پھر دھوکہ دہی کے مختلف طریقوں سے اپنی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عالمی سطح پر پاکستانیوں کے مسائل

پاکستانی شہریوں کو حالیہ برسوں میں مختلف عرب اور افریقی ممالک سے نکالا جا رہا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کے مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں غیر قانونی کاروبار، غلط ویزوں پر بیرون ملک جانا، اور پاکستانی معیشت کی کمزوری شامل ہیں۔

مدینہ میں یہودیوں کی تجارت کا غلبہ تھا، اور وہ عربوں کو سود پر قرض دے کر انہیں معاشی طور پر کمزور رکھتے تھے۔ لیکن جب اللہ کے رسول ﷺ نے زکوٰۃ کا نظام متعارف کرایا، تو تھوڑے ہی عرصے میں مدینہ میں کوئی زکوٰۃ لینے والا باقی نہ رہا۔ زکوٰۃ کے لغوی معنی پاکیزگی ہیں، اور اس کا بنیادی مقصد دولت کو پاک صاف رکھنا اور غربت و افلاس کو ختم کرنا ہے۔ زکوٰۃ کے منظم نظام کے ذریعے مسلم معاشرے میں مالی استحکام پیدا ہوا، جس سے بھیک مانگنے کی ضرورت ختم ہوگئی اور فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی گئی۔

مسلم اکثریتی معاشرے میں ہر سال بڑی مقدار میں زکوٰۃ نکالی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود فقراء و مساکین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ زکوٰۃ کی غیر منظم تقسیم اور ہماری عدم دلچسپی ہے۔ اکثر لوگ زکوٰۃ کو بوجھ سمجھ کر جلد از جلد ادا کر کے بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں، بجائے اس کے کہ اسے کسی منظم طریقے سے تقسیم کریں۔ اگر زکوٰۃ کو منصوبہ بندی کے تحت مستحقین میں تقسیم کیا جائے، انہیں کسی پیشے یا چھوٹے کاروبار سے جوڑا جائے، تو مسلم معاشرے سے غربت، فاقہ کشی اور تنگ دستی ختم ہو سکتی ہے اور ایک خوشحال اسلامی سماج تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

کچھ سال پہلے رمضان المبارک میں ایک رئیس نے کئی کروڑ روپے خرچ کر کے لاکھوں خواتین کے لیے کپڑے خریدے اور خیراتی اداروں کے ذریعے تقسیم کروائے۔ لیکن اگر یہی رقم ضرورت مندوں کو خود کفیل بنانے پر خرچ کی جاتی تو اس کا زیادہ فائدہ ہوتا۔ اگر اس رقم سے 100 نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار کے لیے مالی مدد دی جاتی، تو کم از کم 50 فیصد نوجوان اپنی تجارت میں کامیاب ہو کر مستقل روزگار حاصل کر لیتے۔ اس طرح وہ زکوٰۃ لینے والوں کے بجائے زکوٰۃ دینے والے بن جاتے اور اپنے خاندانوں کو عزت کے ساتھ روزی روٹی فراہم کرتے۔ زکوٰۃ کو صرف خیرات کی بجائے خود کفالت کے منصوبوں میں استعمال کرنے سے مسلم معاشرے میں غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔

ہم اپنی ذاتی تجارت میں محنت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ترقی کی منازل طے کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے مالدار طبقے کروڑوں کی زکوٰۃ کو منظم انداز میں تقسیم کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ اگر زکوٰۃ کو مستحقین کو خود کفیل بنانے کے لیے صحیح معنوں میں استعمال کیا جائے تو مسلم معاشرے میں بھوک، افلاس اور بھیک مانگنے کی لعنت کا خاتمہ ممکن ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارت میں مسلم مخالف حکومتیں، جیسے مدھیہ پردیش کی سنگھی ڈبل انجن سرکار، بھیک مانگنے پر پابندی عائد کر کے فقرا کو این جی اوز کے ذریعے روزگار سے جوڑ رہی ہیں۔

اجین میں بھکاریوں کو پکڑ کر روزگار مراکز میں منتقل کیا گیا اور عام عوام کو بھی بھیک دینے پر جرمانے لگائے گئے، حالانکہ یہی ملک ہے جہاں ہندو مذہب میں بھکشا کو مذہبی تقدس حاصل ہے، اور جس کے وزیر اعظم نے خود اعتراف کیا کہ اس نے اپنی جوانی میں تیس سال تک بھکشا مانگ کر گزاری۔ اگر ہم اپنی زکوٰۃ کو درست سمت میں استعمال کریں تو مسلم معاشرہ بھی محتاجی سے نجات پا سکتا ہے۔

مسلمانوں کی اقتصادی خودکفالت – زکوٰۃ اور صدقات کا مؤثر استعمال

بھارت میں 300 ملین مسلمانوں اور دنیا بھر کے 2 بلین سے زائد مسلم معاشرے کو نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بھیک مانگنے کی روایت سے بچنا چاہیے۔ اسلامی اصولوں کے تحت نکالی جانے والی زکوٰۃ اور صدقات کو ایسے مؤثر انداز میں خرچ کیا جائے کہ مستحقین اگلے چند سالوں میں خود زکوٰۃ دینے والوں میں شامل ہو سکیں۔ اگر ہم پارسی تاجر برادری کی طرح اپنے وسائل کو درست طریقے سے منظم کریں، تو پوری مسلم قوم کو غربت سے نکال کر ایک خودمختار اور باوقار تجارتی قوم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاشی انقلاب نہ صرف مسلمانوں کو مالی طور پر مستحکم کرے گا بلکہ اسلام کے سماجی انصاف کے اصولوں کو بھی عملی جامہ پہنائے گا

بے شک! زکوٰۃ کا اصل مقصد صرف فوری مدد فراہم کرنا نہیں، بلکہ مستحقین کو خود کفیل بنانا ہے تاکہ وہ کل کو زکوٰۃ لینے والے نہیں، بلکہ زکوٰۃ دینے والے بن جائیں۔ اگر زکوٰۃ کو صحیح مصرف میں لگایا جائے، خصوصاً غریب بچوں کی دینی و عصری تعلیم، ہنر سیکھنے اور معیشتی مضبوطی کے لیے، تو یہ نہ صرف انفرادی زندگی میں تبدیلی لائے گی بلکہ مجموعی طور پر مسلم معاشرے کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

بدقسمتی سے، زکوٰۃ کی تقسیم میں بعض غیر متوازن ترجیحات دیکھنے میں آتی ہیں۔ بڑی بڑی عمارتوں کی تعمیر، غیر ضروری اخراجات، اور مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچانے کا رجحان بعض اوقات اصل مستحقین کے حق کو مار دیتا ہے۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ زکوٰۃ کے نظام میں شفافیت لائی جائے، ایسے منصوبے ترتیب دیے جائیں جو مستقل بنیادوں پر لوگوں کو خود کفیل بنانے میں مدد دیں، اور زکوٰۃ کی رقم کا صحیح مصرف یقینی بنایا جائے۔

یہی وقت ہے کہ مسلم امہ اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرے اور زکوٰۃ کے ذریعے غریبوں کو خودمختار بنانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ کیا آپ کے خیال میں اس حوالے سے کوئی ٹھوس ماڈل یا منصوبہ پہلے سے موجود ہے، یا اس پر اجتماعی سطح پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے؟

قرآن کریم میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں، جیسا کہ سورہ التوبہ (9:60) میں ذکر کیا گیا ہے:

1 فقیر – وہ جو انتہائی تنگدست ہوں اور اپنی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکتے ہوں۔

2 مسکین – وہ جو فقیر سے کچھ بہتر حالت میں ہوں لیکن پھر بھی مالی مشکلات کا شکار ہوں۔

3 عاملین زکوٰۃ – وہ لوگ جو زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم پر مقرر کیے گئے ہوں۔

4 مؤلفۃ القلوب – وہ غیرمسلم یا کمزور ایمان والے افراد جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہو (یہ مصرف بعض فقہاء کے مطابق مخصوص حالات میں لاگو ہوتا ہے)۔

5 رقاب – غلاموں یا قیدیوں کی آزادی کے لیے۔

6 غارم – وہ مقروض لوگ جو جائز ضروریات کی وجہ سے قرض میں ڈوبے ہوں اور خود اسے ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔

7 فی سبیل اللہ – اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، جیسے دینی و تعلیمی ادارے، جہاد، رفاہی کام، اور دیگر نیک مقاصد۔

8 ابن السبیل – مسافر جو راستے میں مشکلات کا شکار ہو جائے اور مالی مدد کا محتاج ہو۔

📌 تعلیم اور زکوٰۃ

فقیر، مسکین، اور فی سبیل اللہ کے زمرے میں دینی و عصری تعلیم کے لیے زکوٰۃ خرچ کرنا شامل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ مستحقین کے فائدے کے لیے ہو، نہ کہ محض عمارتوں کی تعمیر پر۔ اگر زکوٰۃ کو صحیح انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ غریبوں کو خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل جیسے سو سالہ مرکزی ادارے میں زکوٰۃ کی مختلف مدات کو مدنظر رکھتے ہوئے عزت دار گھرانوں تک ماہانہ راشن اور دیگر ضروریات پہنچانے کا مؤثر نظام موجود ہے، جہاں سالانہ کروڑوں کی زکوٰۃ مستحقین تک پہنچانے کا انتظام ہوتا ہے۔ لیکن کیا ہم اپنی زکوٰۃ کا بڑا حصہ ایسے مستند اداروں کو دے رہے ہیں، یا پھر نام و نمود کی خاطر کوئی اور ہماری زکوٰۃ حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے؟ اس کا محاسبہ ہمیں خود کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زکوٰۃ کو مکمل طور پر نکالنے اور اسے صحیح مستحقین تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ وما علینا الا البلاغ۔


📢 اردو دنیا نیوز – واٹس ایپ گروپ

🌍 ادب، خبریں، اسلامی معلومات اور دیگر دلچسپ موضوعات کے لیے ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں۔
🔗 گروپ جوائن کرنے کے لیے لنک پر کلک کریں:
Join Now

متعلقہ خبریں

Back to top button