افسانچے
شکیل مصطفی (مالیگاؤں)
(۱) آدمی یا درندے
معمول کے مطابق شبنم اسکول سے گھر جارہی ہے۔ اس نے اپنے بھاری بستے کوسنبھالا۔ آج اُسے راستے میں کئی کُتے ایک ساتھ نظر آئے۔ کتیا بے چاری اپنی دُم دبائے اُن سے بچتی رہی۔
یکایک ایک تیز آندھی چلی۔
آندھی اپنے ساتھ مٹی، کاغذ اور دوسرے ذرّات سمیٹے آگے بڑھتی رہی۔ آندھی کے زور پر شبنم رک گئی تھی۔ اس نے اپنی بند آنکھوں کو کھولا۔ اس کے ارد گرد ڈھیر سارے اخباری کاغذ کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔
اس نے کاغذ کا ٹکڑا اُٹھایا تو دیکھا۔
ننھی آصفہ کے ساتھ مردوں کے جُھنڈ نے۔۔۔۔۔۔
شبنم یہ سوچ کر کانپ گئی۔
میری عمر بھی آصفہ کی طرح ہے۔ اور
کُتوں کے غول کے آگے مردوںکا جھنڈ بھی دکھائی دے رہا ہے۔
(۲) آخری سہارا
خان عطاء اللہ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بیٹی کو ڈی ایڈ کروانے کے بعد اُس کی شادی کردی۔ بڑا بیٹا ذکی بہت ذہین تھا اس لیے اُن کے انگریزی زبان کے دوستوں کے مشورے پر اُسے انگریزی تعلیم دلوائی، دوسرا بیٹا شمیم کچھ کمزور تھا اس لیے اسے اردو ذریعۂ تعلیم سے بہرہ ور کیا۔ تیسرا بیٹا ندیم بہت شرارتی تھا۔ پڑوس والے اور محلے کے ذی فہم حضرات بھی اُس سے بہت نالاں تھے۔ جھگڑا، مارپیٹ اُس کا مشغلہ بن گیا تھا۔ کیا چھوٹے، کیا بڑے او ربزرگ تک اُس سے بیزار تھے۔ خان عطاء اللہ نے اسے مکتب میں داخل کردیا تاکہ وہ ادب و تہذیب سے روشناس ہوجائے۔
کچھ دن تو ٹھیک تھے مگر یہاںمولانا حضرات بھی پریشان دکھائی دے رہے تھے مگر جلد ہی اللہ، رسول اور پندو نصائح سے کچھ شکایتیں کم ہوگئیں۔
وقت کی دوڑ کہاں تھمنے والی تھی۔ ندیم کا دل حفظ میں نہ لگا مگر اساتذۂ کرام کے مشفقانہ برتاؤ کی وجہ سے وہ حافظ نہ بن سکا لیکن عالم ضرور بن گیا۔
وقت گزرتارہا۔ ذکی ڈاکٹر بن گیا۔ شمیم جونیئر کالج میں لکچرار ہوگیا اور ندیم انتہائی معمولی تنخواہ پر ایک دینی مدرسہ میں پڑھانے لگا۔ خان عطاء اللہ کے دونوں بڑے بچوں نے نظریں پھیر لیں مگر ندیم اپنی کم تنخواہ میں بھی والدین کو خوش رکھتا تھا۔
(۳) عجیب الفطرت
خالدہ کو خریداری کا اچھا خاصہ تجربہ تھا۔ وہ پھلوں کے بازار کی جانب مُڑی تو دیکھا کہ بہت ہی عمدہ قسم کے تازہ امرود ہیں۔ اُس نے دام پوچھے۔ پھل والے بھائی نے ۶۰؍روپیہ کلو کہا۔ خالدہ نے ۵۰؍ روپیہ کلو امرود مانگے۔ پھل والے نے ۵۵؍ روپیہ کلو کہا۔ مگر وہ ضد پر اڑی رہی کہ بھائی ۵۰؍روپیہ میں امرود دے دو۔ چارو نا چار اُس پھل والے نے امرود دے دیا۔ اس نے امرود کی تھیلی اپنے ہاتھ میں لی اورپرس کو بغل میںدباکر اپنے ڈوپٹے کو سیدھا کیا۔
تب میلے کچیلے کپڑے پہنے ایک بھکارن اپنی گود میں معصوم بچی کو لیے اُس سے کہنے لگی۔
مالکن۔ میری بچی کو تیز بخار ہے مدد کرو۔ اس نے دیکھا۔بخار کی شدت سے بچی کا چہرہ تپ رہا تھا۔
اُس نے پرس میں سے سو کا نوٹ نکالا اور بھکارن کو دیتے ہوئے کہا۔ فوراً قریبی کلینک میں اِسے لے جاؤ۔
(۴) کس کا حق؟
شادی کے منڈپ میں بھی اب لوگ نگرانی کرنے لگے ہیں۔ عجیب زمانہ آگیا ہے۔
لوگ اب یہ سمجھتے ہیں کہ بن دعوتی حضرات بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر منڈپ میں گھس کر کھاتے ہیں جس کے سبب کھانا گھٹ جاتا ہے۔
ایسے لوگوں کو روکا جائے۔ اس لیے دو چار افراد آنے والوں پر نظر رکھتے ہیں۔
میں نے دیکھا۔کل کی شادی میں ضیافت کے وقت کچھ ایسا ہی نظم کیا گیا تھا۔
مگر دعوت کے اختتام پر کھانے کی دو ڈیگیں بچ گئیں۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ بچا ہوا کھانا خراب بھی نہ ہو۔ اور کسی کے پیٹ میں چلا بھی جائے۔
کسی نے کہا۔ مدرسہ میں بھیج دیا جائے۔ کسی نے کہا ۔ پہلا حق پڑوسیوں اور گلی والوں کا ہوتا ہے۔ دوسرا حق رشتہ داروں کا ہوتا ہے۔ سب اپنی اپنی کہتے رہے۔
مگر شادی کے منڈپ میں بچھے دسترخوان پر کھانے کا حق ان کا بھی تھا جن کا رزق انھیں یہاں تک کھینچ لایا تھا۔ جنہیں نگرانی والے حضرات نے بن دعوتی کہہ کر انھیں بھگا دیا تھا۔
(۵) نئی ڈگر کی پھسلن
شیخ نسرین کے والد خوش تھے۔
کہ گاؤں کی رہنے والی ان کی بیٹی کا داخلہ پونا کے میڈیکل کالج میں ہوگیا۔ ہمیشہ نظروں کے سامنے والی بیٹی اب ہوسٹل میں رہے گی۔ وہ نسرین کو ہوسٹل چھوڑنے کے لیے گاؤں سے چلے۔
لکژری کا سفر تھا۔دونوں باپ بیٹی بڑے آرام سے باتیں کر رہے تھے۔ نسرین کے والد چونکہ دیندار تھے۔
وہ نسرین کو اپنی آبرو اور ناموس کی حفاظت کی تاکید کرتے رہے۔
نسرین نے اپنے والد کو پختہ یقین دلایا۔ ابا۔۔۔ آپ بے فکر رہیں۔ میں پڑھی لکھی ہوں۔ میں اپنی حفاظت بھی کرسکتی ہوں۔
دن گزرتے رہے۔ وقت، ماحول اور حالات نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا۔
کالج کا آزادانہ ماحول، نوجوانوں کی فرینڈ شپ نتیجے میں گاؤں کی پاکدامن نسرین اپنے ساتھ پڑھنے والے نوجوان دیپک کی محبت میں گرفتار ہوگئی۔
دیپک ایک لاپرواہ، امیر گھرانے کا اکلوتا عیش پرست اور خوب صورت لڑکیوں کا شوقین بگڑا نوجوان۔
خوب صورت لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر جنسی لذت حاصل کرنا اس کا مشغلہ تھا۔
اب اس کے جال میں نسرین تھیں۔
وہ نسرین کے اخراجات پورے کر رہا تھا۔ اور بدلے میں نسرین سے ملنے والی جنسی لذت سے وہ شرشار تھا۔
نسرین بھی خوش تھی۔ اخراجات کا بار اب گھر والوں پر کم ہوتا جارہا تھا۔
ایک رات نسرین ہوسٹل کے بیڈ پر کروٹیں بدل رہی تھی۔ آج اسے نیند بھی نہیں آرہی تھی۔ اور کچھ پریشان او ربوجھل سی محسوس کر رہی تھی۔ کروٹیں بدلتے بدلتے آخر اس کی آنکھ لگ گئی۔
خواب میں کوئی اسے کہہ رہا تھا۔
تمھارے والد اور گھر والے تمھیں ڈاکٹری کرارہے ہیں ۔ یا فحاشی کا پیشہ کرنے کے لیے یہاں بھیجا ہے۔
تم انھیں کیا جواب دوگی؟ سوچ لو۔۔۔!



