سیاسی و مذہبی مضامین

بچوں کا ادب

بچوں کا ادب
شکیل مصطفی (مالیگاؤں)

بچّے ملک و قوم کا عظیم سرمایہ ہوتے ہیں۔ راقم الحروف یہ بات کھلے طور پر کہہ رہا ہے کہ ہمارے یہاں نثری اصناف ہو یا اصنافِ سخن بڑے بڑے طرم خاں ہیں جو ادب پر سیر حاصل لکھنا، پڑھنا اور بولنا جانتے ہیں مگر بچوں کے ادب پر جس قدر عملی کام کی ضرورت تھی اور ہے بھی اب تک نہیں ہوئی۔حالات ہر زمانے میں بگڑتے رہے ہیں اور اُن میں سدھار بھی آتا رہا ہے۔ آج جب کہ ملٹی میڈیا کا زمانہ ہے اب پہلے کی بہ نسبت سرپرستوںپر، اساتذۂ کرام ر اور معاشرہ پر بڑی ذمہ داریاں آگئی ہیں کہ وہ تربیتِ اطفال کے ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر سرپرستوں نے اپنی ذمہ داریوں کو چھوڑ دیا تو یقینا بچوں کو ایک بڑے طوفانِ بدتمیزی سے بچایا نہیں جاسکے گا۔ اساتذۂ کرام کی بھی دلچسپی کا ہونا ضروری ہے کہ وہ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے بچوں کے ادب پر گوشۂ اطفال پر خصوصی توجہ دیں۔

بچوں کی اخلاقی، معاشرتی، تہذیبی تربیت کا اثر ماحول کے لیے بھی مؤثر ثابت ہوگا۔ ہماری معاشرتی و اخلاقی گراوٹ کا حال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ہمارا فرض اولین ہے کہ ہم اپنے بچوں کی معاشرتی تربیت پر خصوصی دھیان دیں۔ ہماری ذمہ داری بچے کو ایک اچھا، تربیت یافتہ انسان بننے میں معاون ثابت ہوگی۔

بعض ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ بچہ خالی الذہن ہوتا ہے اُس کے ذہن میں سچائی، متانت، ایمانداری، حسن سلوک، بہادری، جفاکشی، سائنسی علوم، ماحولیات کا تحفظ، قومی اتحاد جیسی اخلاقی قدریں بچپن سے ہی پیوست کردی جائیں تو سماج پر، معاشرہ پر اور خاندان پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ ہمارے سماج میں ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، اُستاد، تاجر، مزدور اور سیاست داں مل جائیں گے مگر کیا سب کے اندر انسانیت، مروت اور اعلیٰ صفات کے انسان بننے کی اہلیت ہوگی؟ کچھ پیشے ایسے ہیں جن کی تربیت سے بچہ وہ پیشہ تو اختیار کرلے گا مگر ہمدردی، رواداری اور دردِ دل کا احساس اس کے اندر موجزن ہوگا؟

محترم قارئین! ذرا سوچئے، بچوں کے ادب کے ذریعے بچوں میں سیرت حضرت محمدؐ، اُمہات المومنینؓ، خلفائے راشدینؓ، صحابیاتؓ کی روشن زندگی کو اُجاگر کیا جاسکتا ہے۔ بچوں کا ادب بچوں میں حسنِ اخلاق، پیشہ ورانہ تربیت، محنت کرنے والوں کی عزت، تحریری صلاحیت، مطالعہ کا فروغ اور ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے۔ ملک کے بڑے بڑے اخبارات میں شائع بچوں کا ادب، بچوں کے ادب پر مشتمل اخبارات و رسائل تربیتِ اطفال میں معاون ہوں گے۔
ابتدائی جماعت سے لے کر ثانوی جماعت تک بچوں میں ادب سے محبت کرنے کے لیے ان نصابی و غیر نصابی تعلیم کی سرگرمیاں ضروری ہیں۔ کھیل کود اور ثقافتی سرگرمیوںتک ادب کو نہ رکھتے ہوئے گاہے بہ گاہے نصابی تعلیم جب کلاس میں دی جارہی ہے اُس وقت بھی اساتذۂ کرام طلباء میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے مختلف سرگرمیوں کو انجام دے سکتے ہیں۔ بچوں کے ادب پر مشتمل ڈرامے، حمد خوانی کے مقابلے، نعت خوانی کے مقابلے،بیت بازی کے مقابلے، کہانی نویسی کے مقابلے جیسی سرگرمیوں سے بچوں کا ادب فروغ پائے گا اور بچوں کی چھپی ہوئی صلاحیتیں اُجاگر ہوں گی ویسے تو اساتذۂ کرام اپنے تئیں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں کچھ سرپرست حضرات اپنے بچوں کے لیے بڑے فکرمند نظر آتے ہیں اور اُن کی فکرو نظر کا کمال ہے کہ وہ اپنے یہاں ماہانہ رسائل قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان سے منگاتے ہیں۔ اہل اردو اور سرپرست حضرات بھی بڑی تعداد میں طفلِ اطفال کی تربیت میں جڑ جائیں تو معاشرہ میں مزید نکھار آجائے گا۔ الحمدللہ اب بچوں کے رسائل و اخبارات بڑی تعداد میں شائع ہو رہے ہیں اور اُن کے خریدار بھی بڑھ رہے ہیں۔ لیکن ادب اطفال کے ویبنار/سیمینار میں اُن حضرات کو مدعو کیا جاتا ہے جو بچوں کے ادب سے کوسوں دور ہیں یا پھر ایسے افراد کے ہاتھوں میں کمان دی جاتی ہے جو جنسیات پر افسانے اور ناول لکھتے رہے ہیں۔ یہ ایسے ادیب ہیں جنہیں بچوں ادب سے کوئی مطلب نہیں۔ بچوں کے ادب پر ایسی نوٹنکی بند ہونی چاہیے۔ سرکار ایسے لوگوں کو بچوں کے ادب کے نام پر مالی تعاون نہ دے۔ کچھ رسائل مالکان حکومت کو اپنا رسالہ فروخت کرنے کے لیے سرکاری افسران کی قدم بوسی کرتے ہیں۔ (نعوذباللہ)۔ اللہ پاک ایسے رسائل مالکان سے سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین

بچوں سے التماس ہے کہ وہ اپنی زبان و ادب کو فروغ دینے کے لیے بچوں کے ادب پر لکھی کتابیں،رسائل واخبارات کو پڑھیں، لکھیں اور زندگی میں آگے بڑھیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button