ڈی کے سنگھ
کورونا وائرس وباء کی دوسری لہر سے غیرمناسب انداز میں نمٹنے کا وزیراعظم نریندر مودی حکومت پر الزام عائد کیا جارہا ہے جس سے حکومت کا امیج بہت زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ خود بی جے پی وزراء اور قائدین، مرکزی و ریاستی حکومتوں پر تنقیدیں کرنے لگے ہیں۔ حکومت کی شبیہ کو بہتر بنانے کی خاطر بی جے پی اور دوسری ہندوتوا تنظیموں کی سرپرست تنظیم ’’آر ایس ایس‘‘ نے مختلف شعبوں سے وابستہ اہم شخصیتوں کی ایک لیکچر سیریز شروع کی ہے اور اسے ’’لامحدود مثبت سوچ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اس سیریز کے تحت اپنے پہلے لیکچر میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے ایسا لگتا ہے کہ جو باتیں کی ہیں، اس سے بی جے پی کے کئی لیڈروں کو حیرت ہوئی۔اتوار کو بی جے پی کے جنرل سیکریٹری برائے تنظیم بی ایل سنتوش نے اترپردیش کے سابق چیف منسٹر اکھیلیش یادو کو ایک ’’سیاسی گِدھ‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی کیونکہ سماج وادی پارٹی سربراہ نے نے قومی سطح پر ٹیکہ اندازی مہم کا مطالبہ کیا تھا۔
بی ایل سنتوش نے ٹوئٹ کے ذریعہ اکھیلیش یادو سے پوچھا ’’آپ کو کیا ہوا جی…! ایک دن آپ کہتے ہیں کہ میں مودی ویکسین نہیں لوں گا اور آج آپ ٹیکہ اندازی مہم کی وکالت کررہے ہیں، تاریخ آپ جیسے سیاسی گِدھوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ بی ایل سنتوش کے اس ٹوئٹ سے حوصلہ پاتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئی ٹی سیل سربراہ امیت مالویہ نے اروند کجریوال کی حکومت کو نشانہ بنایا۔
امیت مالویہ کے مطابق دہلی میں کورونا وائرس سے بے شمار اموات ہورہی ہیں اور اروند کجریوال کی حکومت، ان اموات پر پردے ڈال رہی ہے۔ وہ حقیقی تعداد بتانے سے گریز کررہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں پر بی جے پی قائدین کے حملے ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جبکہ اس سے ایک دن قبل ہی موہن بھاگوت نے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر قومی اتحاد پر زور دیا تھا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ فی الوقت ملک صحت عامہ کے بحران سے گزر رہا ہے۔
ایسے میں ایک دوسرے پر انگلیاں اُٹھانے سے گریز کرنا چاہئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی قائدین نے جس طرح اپوزیشن قائدین اور اپوزیشن زیراقتدار ریاستوں کے چیف منسٹروں پر جارحانہ تنقیدی حملے کئے ہیں، وہ آر ایس ایس سربراہ کے خطاب سے متاثر ہوکر تو نہیں کئے گئے۔ بی جے پی نے سوشیل میڈیا کیلئے مختلف ٹیموں کی خدمات حاصل کی ہیں اور اس کی سوشیل نیٹ ورکنگ ٹیمیں ہمیشہ مصروف رہتی ہیں۔
ان ٹیموں کو اگر بی جے پی کے سوشیل میڈیا جنگجو کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت کو واضح طور پر کلین چٹ نہ بھی دی لیکن اسے شک کا فائدہ ضرور دیا ہے۔ حالانکہ مودی حکومت کووڈ۔ 19 سے نمٹنے میں بدنظمی کا شکار ہوگئی ہے۔
اپنے خطاب میں موجودہ حالات کیلئے موہن بھاگوت راست طور پر مودی حکومت کو ذمہ دار قرار دے سکتے تھے لیکن انہوں نے حکومت کیلئے ایک نئی مصیبت کھڑی کرنے کے بجائے یہ کہہ کر حکومت کو شرمندگی سے بچایا کہ ’’کیا جنتا، کیا شاسن ، کیا پرشاسن، سبھی غفلت میں آگئے‘‘۔ ایک بات ضرور ہے کہ آر ایس ایس سربراہ نے بڑی ہوشیاری سے ملک چلانے والے سوئم سیوکوں اور سابق پرچارکوں پر الزامات عائد نہیں کئے،
کیونکہ ان سیوکوں نے پہلے ہی ایودھیا میں رام مندر حاصل کرنے اور جموں و کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت حاصل خصوصی موقف بھی ختم کردیا ہے، لیکن بی جے پی کے سوشیل میڈیا جنگجو بھاگوت کے مثبت خطاب کو بہت زیادہ پڑھنے لگے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اجتماعی ذمہ داری اور خوداحتسابی کا مشورہ دیا ہے، لیکن حکومت کے بارے میں ان کے جو ریمارکس تھے، اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
خود مرکزی وزیر پرکاش جاؤڈیکر نے آگے بڑھتے ہوئے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ حکومت کے خلاف بڑھ چڑھ کر پروپگنڈہ کیا جارہا ہے۔بی جے پی سوشیل میڈیا سیل کے سربراہ امیت مالویہ غلط نہیں ہیں۔ انہوں نے کجریوال حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کجریوال حکومت کا جہاں تک معاملہ ہے، اسے کووڈ ڈیٹا فنڈنگ اور پہلی و دوسری لہر سے پیدا شدہ بحران سے نمٹنے میں اس کی نااہلی کے تعلق سے جواب دینا ضروری ہے،
لیکن بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے انچارج کو چنندہ طور پر کسی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے بڑا محتاط رہنا چاہئے کیونکہ بی جے پی زیرقیادت کئی ریاستوں گجرات، مدھیہ پردیش، کرناٹک اور آسام اسی طرح کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ بی جے پی زیراقتدار گوا کے سرکاری میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں پچھلے ہفتہ مسلسل چار دن سے اموات کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور ایک اندازہ کے مطابق وہاں 83 اموات ہوئی ہیں۔
گوا کے وزیر صحت آکسیجن کی قلت کو ان اموات کا ذمہ دار قرار دیا اور ہائیکورٹ کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بی جے پی والے شفافیت کی بات کررہے ہیں، ایسے میں مرکزی حکومت نے کووی شیلڈ کے ڈوز یا خوراک کے ذریعہ 6 تا 8 ہفتے کے وقفے کو بڑھاتے ہوئے 12 تا 16 ہفتے کردیا
جبکہ برطانیہ نے دو خوراکوں کے درمیان 12 ہفتوں کے وقفے کو کم کرتے ہوئے 8 ہفتے کردیا ہے، ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ہند نے یہ فیصلہ کیوں کیا۔ کئی لاکھ لوگ دوسری خوراک کے منتظر ہیں، انہیں حکومت سے ایک واضح جواب چاہئے۔



