تبصرہ:
نامِ کتاب:رومن اعداد 
مصنف:سید اختر علی
(رابطہ:09673407199)
مبصّر:کیپٹن ڈاکٹر ایم۔ایم۔شیخ ،روضہ باغ،اورنگ آباد(مہاراشٹر)۔
رابطہ:09823784760
انسان کو فطرت کو قابو کرنے میں ہزاروں برس لگ گئے۔وہ جنگلوں سے ڈرتے ڈرتے باہر نکلا۔ پیڑ پودوں کی مدد سے اپنی رہائش کا انتظام کیا۔شکار کر کے اور جنگلی پھلوں وغیرہ کو کھا کر اپنے پیٹ کی آگ بجھائی۔ پتھر کو رگڑ کر آگ پیدا کرنا سیکھا۔پھر اس کو کھانا بنانے کی چاہ ہوئی اور اس نے کھانا بنانے کی ٹیکنالوجی ایجاد کی ۔وہ پھر آہستہ آہستہ پانی کے ذرائع کے کے قریب رہنے لگا۔
بستیاں بنائیں اور پھر کیا تھا انسانی تہذیب و تمدّن کا کارواں شروع ہوا۔تہذیب و تمدن کی اس نئی دنیا میں بہت سی چیزوں سے بے بہرہ انسان نے گننے ،شمار کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا۔پتہ نہیں پھر اس نے گننے کے عمل کو کس طرح ترقی دی۔اس کے لیے اہرامِ مصرمیں دیواروں اور چٹانوں وغیرہ پر بنے نقش و نگار اور آڑی ترچھی بولتی لکیریں کی آوازوں کو سننا پڑے گا کہ اب حضرت ِ انسان نے اعداد کی ابتداء کر دی ہے۔
اعداد کا علم ایک قدیم ترین علم ہے۔اس علم میں انسان کی شروع سے ہی دلچسپی رہی ہے۔گننے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس نے مختلف طریقے اپنائے۔ انسانی تہذیبوں میں مصر، سندھ ، روم اور یونان کی تہذیب و تمدن کی تاریخ مرتب ہوئی۔اس میں رومی تہذیب نے اعداد کو مزیّن کیا اور رومن اعدادوجود میں آئے۔ فاضل مصنف کوشاید رومن اعداد نے متاثر کیا اور اس لیے کتاب’’رومن اعداد‘‘لکھنے کی یہی وجہ بنی ہوگی۔
روم کی بنیاد 850ق۔م۔سے 750ق۔م۔کے درمیان پڑی۔اس زمانے میں اس علاقے کے باشندے اپنی اپنی بستیاں بنا کر رہا کرتے تھے۔ان میں ایٹوریائی قوم بڑی ترقی یافتہ تھی۔ یہ اٹلی کے شمال مرکزی علاقے کے ایک بڑے حصے کو گھیرے ہوئی تھی۔بعد میں دیکھا گیا کہ رومن اعدادخاص طور پر ایٹوریائی اعداد سے راست اخذ کیے گئے۔قرون ِ وسطیٰ میں حساب داری تحریروں میں رومن اعداد ملتے ہیں۔ساتھ ہی قدیم دستاویزات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اضافی رومن اعداد کا استعمال بھی شروع ہوچکا تھا۔ہندو-عربی اعداد کی واقفیت ،اس کے استعمال کی سہولیات اور دیگر افادیتوں سے رومن اعداد کا استعمال دھیرے دھیرے ماند پڑ کر ختم ہوگیا۔آج کی دنیا پرہندو-عربی اعدادکا راج ہے اور امید ہے کہ کوئی اور عددی نظام اس کی جگہ نہیں لے پائے گا۔
ہم جانتے ہیں کہ رومن اعدادسات حرفی علامات ہیں۔سابق پروفیسر جمال نصرت صاحب(واٹر اینڈ لینڈ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ،لکھنئو،سابق سپر انٹیندنگ انجینئر،ارّیگیشن ڈپارٹمنٹ،یو پی۔اور ایڈوائزر ،گرائونڈ واٹر ڈپارٹمنٹ،یو پی اور الہٰ آباد ہائی کورٹ واٹر اشیوز) نے اس کتاب میں لکھے گئے اپنے قیمتی مضمون ’’کتاب’رومن اعداد‘پر ایک نظر‘‘میں سوال اٹھایا ہے کہ ’لیکن یہ سات ہی کیوں؟‘۔پھر جواب بھی دینے کی کوشش کی ہے کہ شاید اس کا جواب یہ ہو کہ’’ سات سمندر ، سات زمین، سات آسمان،قوس قزح کے سات رنگ،سات ستارے،سات سہیلیوں کا جھمکااور سات بہنوں کے بھائی والی داستان ہو۔‘‘سات بنیادی رومن حرفی علامات یہ ہیں:I,V,X,L,C,D,Mََ۔
علی گڑھ مسلم یونیور سٹی کے سابق پروفیسروریاضی داں،یونیورسٹی آف اسلامک سائسنسیس،نلائی ، ملیشیا کے ریسرچ فیلو نیٖز مولانا آزاد نیشنل اردو یونیور سٹی،حیدر آبادکے وزیٹنگ پروفیسرظفر احسن صاحب نے مذکورہ کتاب پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’رومن اعداد‘‘مصنف سید اختر علی کی بہترین کاوش ہے۔کتاب میں ان اعداد کا تاریخی پس منظر،رومن اعدادلکھنے کے اصول اوراستعمال اور ان کے حدودوغیرہ کو بیان کیا ہے۔کتاب میں سات ابواب ہیں اور ہر باب اپنی الگ شناخت بناتا ہے جو کہ قابلِ مبارک باد ہے۔آپ نے کہا کہ کتاب کی حیثیت دستاویزی ہے۔
اسی طرح کتاب کے پشت پر ڈاکٹر محمد اسلم پرویز صاحب،سابق وائس چانسلر،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدر آباد،بھارت رقم طراز ہیں:’’عزیزی سید اختر علی کواردو میں سائنسی(علمی) مواد کی ترسیل پر ملکہ حاصل ہے۔ حساب و اعدادتو گویا ان کی انگلیوں پر ناچتے ہیں اور وہ ان کو نئے نئے اچھوتے اور دلچسپ پیرائے میں قاری کوپیش کرتے ہیں۔زیرِ نظر کتاب ایسا ہی ایک انوکھا شاہکار ہے جس میں موصوف نے رومن اعداد کی وہ تفصیل پیش کی ہے جو ہر پہلو کا بھر پور احاطہ کرتی ہے۔‘‘
کتاب کی زبان عام فہم اور آسان ہے۔قابل مصنف نے مثالوں کے ذریعہ اسے اور آسان بنانے کی کوشش کی ہے۔خوبصورت گیٹ اَپ والی اس کتاب کو لائبریری میں ضرور ہونا چاہیے۔یقیناً ریاضی کے اساتذہ ،طلبہ اور باذوق قارئین کے لیے یہ کسی بیش قیمت تحفہ سے کم نہیں۔مختصراً یہ کہ سید اختر علی کی یہ کتاب ریاضی کی کتابوں کی دنیا میںگراں قدر اضافہ ہے۔152صفحات والی اس کتاب کو مصنٖف سے رابطہ کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں میں ان کے اس کارنامہ پر مبارک باد دیتا ہو ںاور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ان کا قلم اسی طرح خوب سے خوب تر کی تلاش کرتا رہے اور انھیں اسی طرح کامیابیوں سے ہمکنار کرتا رہے ۔ آمین۔



