سیاسی و مذہبی مضامین

جمہوریت کی بقاء

شکیل مصطفی (مالیگاؤں)

جمہوریت کی بقاء

ملک کی آزادی کے بعد سے زیادہ وقت کانگریس پارٹی کو حکمرانی کا موقع ملا مگر ملک کی ترقی، فلاح و بہبود کا کام ندارد؟ فرقہ وارانہ فسادات، عبادت گاہوں کی بے حرمتی اور مسلم کش فسادات ہمارا مقدر رہے۔ آزادی سے پہلے کی کانگریس پارٹی اور آزادی کے بعد کی اس کی سرگرمیاں ان میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ کانگریس پارٹی کے حکمراں چاہے وہ کسی بھی مذہب کے ہوں انہوں نے مسلمانوں، دلتوں پسماندہ ذات اور اکثریتی طبقہ کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس لیے انھیں پے در پے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

۲۰۱۴ء میں اُس پارٹی کو اقتدار ملا جس نے رام رتھ نکالا تھا۔ لوگوں نے خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم سب نے وکاس کے نام پر ووٹ دیئے۔ وعدے کے مطابق غریب متوسط طبقہ کے اکاؤنٹ میں ۵۰۰ ؍روپئے اُس وقت آئے جب پوری دنیا پر کرونا وائرس کا خوف طاری تھا۔ بھارتیوں کی یہ بھی خوش قسمتی کہئے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو دوسرا موقع ملا۔ انہوںنے دوسری اننگ میں سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے ساتھ ساتھ اب سب کا وشواس کا بھی نعرہ جوڑ دیا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ نریندر مودی جی جیسے تعمیری ذہن کی شخصیت کو ملک کی ترقی کرنے سے اکثریتی طبقہ کی جنگجو تنظیمیں آڑے آرہی ہیں۔ جیسے گائے کے نام پر کسی معصوم کی جان لے لینا اور فسادات وغیرہ۔ اگر اتنے پر بس ہوتا تو کوئی بات نہ تھی مسلم اقلیت کے محنتی طلباء نے دن رات ایک کرکے یو پی ایس سی کی پڑھائی کی اور کامیابی حاصل کی تو ملک کے چینل نے نوکر شاہی جہاد کا نام دے دیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے جہادی اب یو پی ایس سی میں کامیاب ہو رہے ہیں کیوں؟ کیسے؟ جیسے زہر اُگلے جارہے ہیں۔ تعلیم کسی ایک قوم کی میراث کبھی نہیں رہی۔ سبھی نے ملک کی آزادی میں اپنی جانیں نچھاور کی ہیں مگر نشانہ صرف قوم مسلم پر سادھا جاتا ہے؟

اس ملک میں قدیم زمانے سے دو الگ الگ ذاتوں اور فرقوں کے درمیان شادیاں ہوئی ہیں۔ تاریخ کاباب اگر ہم الٹ کر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا۔ کیرالہ میں ایک ہندو ڈاکٹر لڑکی نے اسلام قبول کرکے مسلم ڈاکٹر لڑکے سے شادی کی جس پر اُس کے والدین کو اعتراض تھا۔ ہائی کورٹ نے شادی کو ردّ کردیا تھا۔ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا اور وہاں فیصلہ میں کہا کہ شادی باہمی رضامندی کی چیز ہے خیر معاملے کا فیصلہ ہوگیا۔ اگر کوئی مسلم لڑکی ہندو سے شادی کرے تو کوئی بات نہیں ہوتی یہی اگر ہندو لڑکی مذہب تبدیل کرکے مسلم لڑکے سے شادی کرلے تو ہندو تواوادی فوراً سرگرم ہوجاتے ہیں۔ لوجہاد کے نام پر ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جمہوریت کے متعلق مختلف سیاسی وسماجی مفکرین کی علاحدہ علاحدہ آراء ہیں لیکن کسی ملک کے جمہوری نظام کا جائزہ لینا ہے تو اس ملک کی عوام جو بلاشبہ اکثریتی یا اقلیتی ہوسکتے ہیں؟ اس کا پس منظر جان لیں ہماری سمجھ میں آجائے گا کہ جمہوری نظام کتنا پائیدار ہے؟ جمہوریت میں لوگوں کو بولنے اور تنقید کرنے کا کتنا حق حاصل ہے؟

ملک کا سیاسی نظام کیسا ہے؟ اپوزیشن مضبوط ہے یا نہیں؟ کیا آئین کی مکمل حفاظت ہو رہی ہے یا نہیں؟ آئین کی رو سے اقلیت کی عبادت گاہیں اور اُن کی عصمت و عفت محفوظ ہیں یا نہیں؟ ہر کسی کی جان و مال کی حفاظت ہو رہی ہے یا نہیں؟ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو کتنی آزادی حاصل ہے؟ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کس سمت رواں دواں ہے؟ کیا سماج دشمن عناصر پر قدغن لگانے کی کوششیں کی گئی یا نہیں؟ اگر ہم ان سوالات پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ان سوالات کے جوابات کا بذات خود جواب ڈھونڈنے سے قاصر ہوں گے؟

آج ملک کے حالات کس قدر تشویشناک ہیں یہ سوچنے اور سمجھنے کا مقام ہے۔ سچ بات کہنے والوں کو دیش کا غدار کہا جاتا ہے۔ اپوزیشن تو برائے نام ہے۔ اقتدار پر قابض نشے میں ہیں۔ ملک میںدلت اور اقلیت کیا محفوظ ہیں؟ کیا خواتین کی عزت و عفت محفوظ ہے؟ اقلیت کو بے سہارا کیا جارہا ہے؟ اور حکومت کی خاموشی؟ شرپسند عناصر کے حوصلے بلند ہیں۔ حکومتی چینل (گودی میڈیا) سے شاید کبھی حقائق کی عکاسی ہو؟ یا شاید فلاحی کام کی تشہیر ہوئی ہو؟

جمہوریت ایک بہترین نظام حکومت کا نام ہے۔ جمہوریت کی حفاظت ہر صورت ہونی چاہیے ہم بھارت کے جان نثاران، بھارت جنت نشاں کے رہائش پذیر گنگا جمنی تہذیب کے علم بردار ہیں ہمیں ملک کی جمہوریت کی بقاء کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ جن افراد سے ملک کی سا لمیت و جمہوری نظام پر فرق آتا ان پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے۔ جب بھی کسی قوم پر یک طرفہ حملہ ہو، تمام بھارتی اقوام کو مل کر اس کا جواب دینا چاہیے تب ہی ہم جمہوریت کی پاسداری کرسکیں گے۔

مزید مضامین کے لیے کلک کریں

متعلقہ خبریں

Back to top button