سیاسی و مذہبی مضامین

حکومت کی ناکامی سے شہریوں کی زندگیاں تباہ

برکھا دت
جس طرح ایک ماہر کینسر، کینسر میں مبتلا ہوجاتا ہے یا پھر ایک ماہر جلدی امراض کسی جلدی مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے، اسی طرح پچھلے ہفتہ میں بھی ایک کہانی بن گئی۔ وہی کہانی جسے میں گزشتہ 15 ماہ سے پیش کررہی تھی اور دنیا کو یہ بتا رہی تھی کہ کورونا وائرس کی وباء نے ہندوستانی شہریوں پر کس قدر خطرناک اثرات مرتب کئے۔ میں نے نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کی مصیبتوں، لیبر کیمپوں، عارضی آسرا گھروں، ریلوے اسٹیشنوں اور بس اسٹانڈس پر پھنسے ہوئے ہزاروں مزدوروں کی کہانیاں پیش کی ہیں۔

ان لوگوں کے بارے میں میں نے رپورٹنگ کی جو کورونا وائرس وباء کی زد میں آکر اس دنیا سے کوچ کرگئے اور اپنے پیچھے درد و الم کی ختم نہ ہونے والی کہانی چھوڑ گئے۔ اس وباء نے راتوں رات کئی خاندانوں کو تباہ و برباد کردیا۔ ایسے ہی کربناک دور سے مجھے بھی گزرنا پڑا۔

میرے سر سے میرے والد اسپیڈی دت کا سایہ اُٹھ گیا۔ وہ بھی کورونا وائرس کی زد میں آکر فوت ہوئے۔ مجھے ان کی موت سے اسی طرح ایک تباہی و بربادی، محرومی، ویرانی اور غصہ و برہمی کے تجربہ سے دوچار ہونا پڑا جس طرح اس عالمی وباء کے ذریعہ دوسرے متاثر خاندانوں کو گزرنا پڑا تھا اور اب تک میں نے ان خاندانوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا تھا۔

میرے والد ایرانڈیا کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار تھے لیکن بنیادی طور پر دل سے ایک موجد تھے۔ ایک ایسے شخص جو بعض وقت مشینوں کو توڑنے سے پیار کرتا تھا تاکہ انہیں دوبارہ جوڑنے کی اور ٹھیک ٹھاک کرنے کی خوشی و مسرت حاصل کرسکے۔ میں یہ مضمون اپنے پیارے والد کی موت کے تقریباً 72 گھنٹے بعد لکھ رہی ہوں اور میں بار بار ان کے یوٹیوب چیانل کا مشاہدہ کرتی جاتی ہوں۔ ان کی موت کا غم مجھے اس قدر ہوا ہے کہ آنسو تھمنے کا نام نہیں لیتے۔

بس زندگی میں ایسا لگتا ہے کہ جو کچھ کہنے سے اور کرنے سے رہ گیا وہ افسوس کا باعث بن گیا۔ (انہوں نے 747 جمبو کی تکمیل کے بعد ایک آرٹیکل لکھا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وہ آرٹیکل ’’ہندوستان ٹائمس‘‘ میں شائع ہو لیکن میں اس آرٹیکل کو ’’ہندوستان ٹائمس‘‘ کیلئے بھیجنے میں ناکام رہی)

کئی بزرگوں کی طرح میرے والد بھی فوری طور پر اسپتال جانے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اسپتال میں اپنی زندگی کے آخری چند دن خاندان سے دور رہے۔ شاید انہیں ڈر تھا کہ وہ دواخانے میں شریک کئے جانے کے بعد اپنے خاندان سے دور ہوجائیں گے۔ ہم نے جب انہیں دواخانہ میں شریک کروایا تب ابتداء میں ڈاکٹروں کا یہ ایقان تھا کہ ہلکا سا انفیکشن ہے اور ان کے جسم میں آکسیجن کی سطح مستحکم ہے اور ڈاکٹروں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا تھا کہ انہیں گھر ہی میں رکھ کر علاج کیا جائے۔

گھر میں بھی میرے والد کی صحت پر میدانتا کے ماہر ڈاکٹرس کی ایک ٹیم نظر رکھی ہوئی تھی، لیکن جب حالت خراب ہوتی ہے تو اچانک ہی خراب ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ غیرمتوقع طور پر درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا۔ یعنی بخار کی شدت بڑھ گئی۔ ساتھ ہی ان کے جسم میں آکسیجن کی سطح بگڑ گئی۔ ان کی حالت دیکھ کر ہم لوگ ڈر گئے اور ایک خانگی ایمبولنس کا انتظام اس ایقان سے کیا کہ میدانتا کی ایمبولنس کا انتظار کرنے کی بہ نسبت اس ایمبولنس کے ذریعہ ہمیں اسپتال پہونچنے میں مدد ملے گی۔

جب ہم نے دیکھا کہ ہمارے گھر پر جو ایمبولنس آئی وہ ایک ٹوٹی پھوٹی ماروتی ویان تھی، جس میں ایک سنگل سلینڈر تھا اور کوئی ارکان عملہ نہیں بلکہ ایک ڈرائیور تھا۔ اس ڈرائیور نے مجھے یقین دلایا کہ سلنڈر کام کرتا ہے۔ بہرحال ہم اپنے والد کو لئے اس ماروتی ویان میں سوار ہوگئے اور اسپتال پہونچنے تک ہمیں ایک گھنٹہ سے زائد وقت لگ گیا۔ اس دوران میرے والد کافی بے چینی محسوس کررہے تھے۔

حالانکہ دہلی پولیس سے بار بار اپیلوں کے باوجود ایمبولنس کیلئے کوئی سبز راہداری کا انتظام نہیں کیا گیا تھا، کیونکہ کرفیو کے علاقوں میں سڑکوں کو بند کرنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ جس وقت ہم میدانتا ہاسپٹل پہنچے، میرے والد کے جسم میں آکسیجن کی سطح بہت زیادہ گر گئی تھی۔ ایمرجنسی شفٹ کے ڈاکٹر کا ماننا تھا کہ انہیں آئی سی یو بیڈ کی ضرورت ہے۔ میدانتا میں ان کا بہتر انداز میں علاج کیا گیا، ممکنہ طبی نگہداشت کی گئی اور میدانتا کے ڈاکٹروں اور نرسیس نے جس طرح خدمات انجام دیں، اس کا شکریہ ادا کرنے میرے پاس الفاظ نہیں۔

بہرحال اپنی زندگی کے آخری دو دن میرے والد کو وینٹیلیٹر پر رکھا گیا۔ جس وقت ہم اپنے والد کو اسپتال کے قریب شمشان گھاٹ آخری رسومات انجام دینے کیلئے لے گئے تو میں نے وہ بھی مناظر اور حالات دیکھے جو اکثر اپنی رپورٹس میں پیش کیا کرتی تھی۔ وہاں بھی کم از کم تین خاندانوں کو اپنے عزیزوں کی آخری رسومات کی انجام دہی کیلئے ایک ہی ٹوکن نمبر دیا گیا۔

وہاں بحث و مباحث کا آغاز ہوا، لڑائی چھڑ گئی، نتیجہ میں میری بہن کو مدد کیلئے پولیس طلب کرنی پڑی۔ بحیثیت صحافی میں نے ہمیشہ یہ سوالات اٹھائے ہیں، کاش! ویکسین پروگرام بہت پہلے شروع کیا جاتا، تب میرے والد کے زندہ رہنے کے امکانات بہتر ہوتے۔ انہوں نے صرف ایک ہی ٹیکہ لیا تھا جبکہ انہیں دوسرا ٹیکہ لینا تھا کہ کووڈ کی زد میں آگئے۔

میں یہ بھی سوچتی ہوں کہ کاش! اس وقت میں مختلف ایمبولنس کا انتخاب کرتی یا انتظار کرلیتی تو آج وہ زندہ رہتے، لیکن مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ کم از کم انہیں اپنی زندگی کیلئے لڑنے کا موقع تو ملا کیونکہ ایسے ہزاروں ہندوستانی ہیں جن کی میں کہانیاں ہر روز پیش کرتی ہوں جو بند اسپتالوں کے دروازوں کے باہر دم توڑ رہے ہیں۔

ان کیلئے آکسیجن کا کوئی انتظام نہیں۔ بے شک آج میں یتیم ہوں، لیکن اب بھی میں ان لوگوں سے زیادہ خوش نصیب ہوں جنہیں ہندوستانی ریاستوں نے یتیم کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button