سیاسی و مذہبی مضامین

دربھنگہ : جمال اویسی کی شاعری میں بڑی کشش ہے

جمال اویسی کی شاعری میں بڑی کشش ہے : پروفیسر سید محمد احتشام الدین المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے دفتر میں’’ ایک شام جمال اویسی کے نام ‘‘کا انعقاد

کے-میں-اویسی
www.urduduniya.in

دربھنگہ (نمائندہ)جمال اویسی 1980 کے بعد شعری افق پر نمودار ہونے والے شعرا میں اپنی انفرادی شناخت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں جمالیاتی رنگ و آہنگ کی پیش کش انھیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہے۔ جمال اویسی کی شاعری میں انسانیت کا نوحہ تو ہے ہی ساتھ ہی زوال پزیر تہذیبی اقدار پر بھی انھوں نے بڑی خوبصورتی سے اپنے احساسات کو شعری پیکر عطا کیا ہے۔

یہ باتیں سی ایم کالج دربھنگہ کے پروفیسر سید محمد احتشام الدین نے 27 جنوری کی شام المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے دفتر میںمنعقدہ ایک پروگرام’’ ایک شام جمال اویسی کے نام‘‘ کی صدارت کرتے ہوئے کہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کی شاعری میں وجودی تجربات کی وسعت نے انھیں انفرادی اہمیت عطا کی ہے۔ ان کی نظموں میں ایک ایسی کشش ہے جو قاری سے خود کو پڑھوانے کی طاقت رکھتی ہے۔

جمال اویسی پرانے موضوعات کو اپنے انداز میں پیش کرنے کے ہنر سے واقف ہیں۔اس شعری نشست میں ایم آر ایم کالج میں استاد ڈاکٹر جمال اویسی نے اپنی کچھ نمائندہ نظمیں سنائیں اور خوب داد وصول کی۔نشست میں عبدالحی نے ڈاکٹر جمال اویسی کا مختصر تعارف پیش کیا اور ان کی شاعری پر بھی اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر ملت کالج دربھنگہ میں شعبہ اردو کے استاد ڈاکٹر شاہنواز عالم نے جمال اویسی کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری میں ان کی اپنی ذات کا اظہار بھی ملتا ہے۔

وہ اپنی نظموں میں، غزلوں میں کچھ اس طور سے موجود ہیں کہ انھیں ان کی تخلیق سے الگ نہیں کیا جاسکتا، عموماً شاعر یا تخلیق کار اپنی تخلیق سے الگ ہوجاتا ہے جب کہ جمال اویسی صاحب اپنی تخلیق کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

وہ ایک حساس دل رکھتے ہیں اورحادثات و واقعات سے جلدی متاثر ہوتے ہیں اور بطور تخلیق کار اپنے جذبات و احساسات کو بڑے خوبصورتی سے نظم یا غزل کے سانچے میں ڈھال دیتے ہیں اور ایک شاعر کی کامیابی اسی میں پنہاں ہے۔

ڈاکٹر منصور خوشتر نے کہا کہ غزل ہو نظم جمال اویسی کا جو اختصاص مجھے محسوس ہوتا ہے وہ شاعری میں جذبہ کے ساتھ فکر کی آمیزش ہے بلکہ وہ اپنے سوچے ہوئے افکار کے ساتھ جذباتی طور پر بندھ جاتے ہیں جس کے سبب ان کی شاعری کا منفرد اسلوب سامنے آتا ہے۔ ’’نظم نظم‘‘ میں احمد الاحمد سریز کی تین نظمیں بھی مجموعہ کے آخر میں دکھائی دیتی ہیں

جن کے مطالعہ کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ جمال اویسی کو بھی ہر بڑے شاعر کی طرح ایک آئیڈیل انسان کی تلاش ہے جس کا سراغ وہ ماضی کی دھند میں جاکر کرتے ہیں۔اس نشست میںافلاک منظر،حامد انصاری ،جاوید اختر اور دیگر حضرات بھی موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button