سیاسی و مذہبی مضامین

قاتل ڈور کا خونی کھیل۔

قاتل ڈور کا خونی کھیل۔

ازقلم: امام علی مقصود شیخ فلاحی۔

متعلم: جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔

اسلام‌نے زندگی کے ہر میدان میں رہبری کی ہے، اور اسلام میں ہر چیز کا حل موجود ہے ، کیونکہ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے، جو ہمیشہ ہمیش رہنے والا ہے، یہ ایک ایسا مذہب ہے جو انسانوں کی فطرت کا بھی خیال رکھتا ہے اور انسانی فطرت میں سے ایک فطرت یہ بھی ہے کہ وہ سیر و تفریح کرے اور کھیل کود کرے، یہی وجہ ہے کہ انسان جب اپنے پیر پر کھڑا بھی نہیں ہوپاتا ہے، اچھے سے بول بھی نہیں پاتا ہے، اچھے سے کھا بھی نہیں پاتا ہے، ماں کا سہارا لئے رہتا ہے تبھی سے وہ کھیلنا شروع کردیتا ہے۔
لیکن عام طور سے لوگوں کا ذہن یہ بن چکا ہے کہ اسلام میں کسی بھی کھیل کود کی اجازت نہیں ہے ، اسلام ایک شدت پسند مذہب ہے، اس مذہب میں تفریح وغیرہ کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، یہی وجہ ہوتی ہے کہ اسلام میں جو مذہبی رہنما ہوتے ہیں ، نہ وہ کبھی کھیل کود میں حصہ لیتے ہیں ، نہ کبھی اس میں حصہ لینے پر کسی کو کہتے ہیں۔

جبکہ یہ سراسر غلط، اور بد فہمی ہے، کیونکہ اسلام میں تو بہت سارے ایسے کھیل ہیں جسے سنت کا درجہ حاصل ہے جیسے تیر اندازی کرنا، تیراکی کرنا، گھوڑا دوڑائی کرنا، کشتی اور کبڈی کھیلنا، یہ وہ کھیل ہیں جو اسلام میں پسندیدہ ہیں ، اور اس کھیل میں تو اصحاب رسول نے بھی حصہ لیا ہے ۔ بہر حال معلوم ہوا کہ اسلام میں کہیں ایسا نہیں ملتا ہے کہ جس میں کھیل وغیرہ پر پابندی عائد کی گئی ہو۔
لیکن بعض کھیل کود ایسے ہیں جسے اسلام منع کرتا ہے جیسے تاش بازی کرنا، کیرم بورڈ کھیلنا، لوڈو اور ویڈیو گیم کھیلنا اور پتنگ بازی کرنا وغیرہ۔
اب اسلام میں اسکی ممانعت کیوں ہے ؟ ایک الگ اور طویل موضوع ہے ، جس بحث نہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں، سواے ایک کھیل کے اور وہ ہے پتنگ بازی، کیونکہ وقت بھی فی الحال اسی کا چل رہا ہے ، اسی لئے پتنگ کو اپنا موضوع بنانا مناسب سمجھتا ہوں۔

قارئین! اگر پتنگ بازی کی تاریخ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ پتنگ اڑانے کا اولین تحریری حوالہ سن 200 قبل مسیح میں ملتا ہے، جب چین میں سپہ سالار ہان سینگ نے دشمن کے ایک شہر کے باہر پڑاؤ ڈال رکھا تھا، لیکن وہ براہِ راست حملے کا خطرہ مول لینے کے بجائے ایک سرنگ کھود کر شہر میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ لیکن اسے یہ اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ سرنگ کتنی لمبی کھودنی پڑے گی، اس لیے اس نے پڑاؤ کے مقام سے شہر کی فصیل تک کا فاصلہ ناپنے کی ٹھانی۔

اس نے دیکھا کہ ہوا اس سمت کی ہی چل رہی ہے جہاں وہ سرنگ کے ذریعے حملہ آور ہونا چاہتا ہے اور وہ یہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے پڑاؤ والے علاقے سے اس جانب ہوا کے ساتھ کاغذ اڑتے جاتے ہیں۔
بس یہ دیکھ کر اس نے ایک کاغذ لیا، اور اس میں ایک درخت کے چند تنکے باندھ دیے تاکہ اسے ہوا کا دباؤ حاصل ہو سکے جو اس کے اڑنے میں مدد گار ثابت ہو، اور پھر ایک لمبے دھاگے کی مدد سے اسے اڑا دیا۔

جب وہ کاغذ مطلوبہ مقام تک پہنچ گیا تو اسے ناپ کر واپس کھینچ لیا، اور ڈور کو ناپ کر فاصلہ معلوم کر لیا۔ یہی دنیا کی پہلی پتنگ تھی، جو ایک جنگی مقصد حاصل کرنے کے لیے اڑائی گئی تھی۔

پھر اس کے بعد چین سے پتنگ سازی کا یہ فن کوریا پہنچا۔
وہاں بھی ایک جرنیل کی کہانی ملتی ہے، جس کی فوج نے آسمان پر ایک تارا ٹوٹتے ہوے دیکھا، اور اسے برا شگون سمجھ کر میدانِ جنگ سے منہ موڑ لیا۔ جرنیل نے اپنی فوج کا وہم دور کرنے کے لیے سپاہیوں کو بہت سمجھایا بجھایا لیکن وہ نہ مانے ۔ آخر جرنیل نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے ایک بڑی سی سیاہ پتنگ تیار کی، اور اس کی دم سے ایک شعلہ باندھ کر رات کے اندھیرے میں اسے اڑایا تو فوج کو یقین آگیا کہ آسمان سے جو تارا ٹوٹا تھا وہ واپس آسمان کی طرف لوٹ گیا ہے، اور اس طرح محض ایک پتنگ کے زور پر جرنیل نے اپنی فوج کا حوصلہ اتنا بلند کر دیا کہ وہ لڑائی جیت گئی۔

فوج کے بعد یہ کارگر نسخہ بدھ راہبوں کے ہاتھ لگا جو بدروحوں کو بھگانے کے لیے عرصہء دراز تک پتنگوں کا استعمال کرتے رہے۔

چین اور کوریا سے ہوتا ہوا جب پتنگ بازی کا یہ فن جاپان پہنچا تو عوام میں اتنا مقبول ہوا کہ جاپان میں ایک سخت قانون نافذ کر دیا گیا جس کے تحت صرف شاہی خاندان کے افراد، اعٰلی سِول اور فوجی افسران، اور چند مراعات یافتہ معزز شہریوں کو پتنگ اڑانے کی اجازت دی گئی۔

مشرقِ بعید سے پتنگ بازی کا مشغلہ کب اور کس طرح برصغیر پاک و ہند پہنچا، اس بارے میں تاریخ کوئی واضح اشارہ نہیں دیتی، البتہ اس ملک میں پتنگ بازی کی اولین دستاویزی شہادتیں مغل دور کی مصوری میں دکھائی دیتی ہیں۔

غیر‌ مسلم مورخ ڈاکٹر بی ایس نجار نے اپنی کتاب
(punjab under the later Mughal)
اسکا تذکرہ کچھ یوں کیا ہے: حقیقت رائے باگھ مل پوری سیالکوٹ کی کتھری کا پندرہ سالہ لڑکا تھا، جسکی شادی پٹالہ کے کشن سنگھ بٹھہ نامی سکھ کی لڑکی کے ساتھ ہوئی تھی۔ حقیقت رائے کو مسلمانوں کے اسکول میں داخل کیا گیا تھا، جہاں ایک مسلمان ٹیچر نے ہندو دیوتاؤں کے بارے میں کچھ باتیں کیں، تو حقیقت رائے نے اسکے خلاف احتجاج کیا، اور اس نے پیغمبر اسلام اور سیدہ فاطمہ الزھراء زہرا کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کیا، اس جرم پر حقیقت رائے کو گرفتار کر کے عدالتی کارروائی کے لئے لاہور بھیجا گیا، اس واقعہ سے پنجاب کی ساری غیر مسلم آبادی کو شدید دھچکا لگا۔

پھر کچھ ہندو افسر زکریا خان جو اس وقت لاہور کا گورنر تھا اسکے پاس پہنچے تاکہ حقیقت رائے کو معاف کردیا جائے، لیکن زکریا خان نے کوئی سفارش نہ سنی اور سزائے موت کے حکم پر نظر ثانی کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے اجرا میں پہلے مجرم کو ستون سے باندھ کر اسے کوڑوں سے سزا دی گئی، اسکے بعد اسکی گردن اڑا دی گئی، یہ سن 1734 کا معاملہ ہے، جس پر پنجاب ساری غیر مسلم آبادی ماتم کرتی رہی، لیکن خالصہ کمیونیٹی نے آخر اسکا انتقام مسلمانوں سے لےلیا اور سکھوں نے ان‌ تمام لوگوں کو جو اس واقعہ سے متعلق تھے انتہائی بے دردی سے قتل کردیا۔
ڈاکٹر صاحب آگے چل کر صفحہ نمبر 279 پر تحریر کرتے ہیں کہ پنجاب میں بسنت کا میلہ (پتنگ بازی) اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

لیکن پھر بھی بہت سے مسلمان اس تہوار میں حصہ لیتے ہیں ، اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم بھی سکھو میں کے ساتھ ہیں ، حقیقت رائے کے ساتھ ہیں ، جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس تہوار کا زبردست بائیکاٹ کیا جاتا، اپنے مسلم بھائیوں کا ساتھ دیا جاتا اور ناموس رسالت کو بجایا جاتا ، لیکن ایسا نہ کرکے اور اس تہوار کو مناکر کے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم سکھوں کے ساتھ ہیں، اور حقیقت رائے کے ساتھ ہیں۔
کیا انہیں معلوم نہیں؟ کہ یہ تہوار اسی شخص کی یاد گار میں منایا جاتا ہے جس نے پیغمبر اسلام کو توہین کی تھی۔ کیا انہیں معلوم نہیں؟ کہ یہ تہوار اسی شخص کی یاد گار میں منایا جاتا ہے جس نے فاطمہ الزھراء کو برا بھلا کہا تھا ؟
لیکن نہیں پھر بھی اس کھیل میں حصہ لئے جارہے ہیں، اپنے بچوں پتنگ دلائے جارہے ہیں۔

قارئین! یہ پتنگ بازی نہیں بلکہ فائرنگ بازی ہے۔
جس طرح توہین رسالت کے جرم میں حقیت رائے کی گردن اڑائی گئی تھی ، اسکی یاد میں منانے والا تہوار بھی لوگوں کی کردیں اڑا رہا ہے۔
کیونکہ یہ ایک ایسا کھیل ہے جس سے ہزاروں لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں، نہ جانے کتنوں کے گردن کٹ جاتے ہیں ، یہ ایک ایسا کھیل ہے جو بالعموم چھت پر کھیلا جاتا ہے، پتنگ باز پتنگ آسمان میں لگانے کی جستجو میں پیچھے کو ہٹتا رہتا ہے اور پیچھے کے حال سے بالکل بے خبر رہتا ہے، پھر اسی حالت میں دھڑام سے نیچے گرجاتا ہے جس سے اسکی جان چلی جاتی ہے، اور اسکا ساتھی جب اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بھی ساتھ میں نیچے کو جا گرتا ہے جس سے اس کی بھی جان چلی جاتی ہے۔
اسی طرح پتنگ اڑانے کے لئے جو ڈور استعمال کی جاتی ہے وہ ایک خاص انداز میں بنائی جاتی ہے، جس میں کانچ وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے،جو جانی و جسمانی نقصان کا باعث بنتا ہے، اسی طرح پتنگ اور ڈور لوٹنے کی چکر میں سڑکوں اور گلیوں میں اکسیڈنٹ کا بازار گرم ہوتا ہے، جس کی خبریں اگلے دن جاکر اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔
اسکے علاوہ نہ جانیں کتنے پرندوں کی جانیں چلی جاتی ہیں، کیونکہ وہ ڈور جس سے پتنگ اڑایا جاتا ہے اس‌ میں کانچ کی شمولیت ہوتی ہے تاکہ وہ دوسرے پتنگوں سو بآسانی کاٹ سکے ، لیکن کیا کریں کہتے ہیں نا ! آٹے کے ساتھ گھن بھی پس جاتے ہیں ، یہی حال پرندوں کا بھی ہوتا ہے وہ بیچارے اپنا کام کرتے ہیں لیکن ، اپنا دانہ پانی چنتے ہیں ، لیکن جب وہ چند پتنگوں کے درمیان آجاتے ہیں تو وہ بھی اپنی جان کھو بیٹھتے ہیں۔
اسی لئے میں یہ کہتا ہوں کہ یہ پتنگ بازی نہیں بلکہ فائرنگ بازی ہے، کیونکہ جس طرح پستول کے گولی سے لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں، اسی طرح پتنگ کے ڈور سے بھی لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں۔
جس طرح پستول میں اگر گولی نہ ہو تو جانیں محفوظ رہتی ہیں، اسی طرح اگر پتنگ میں ڈور نہ ہو تو جانیں محفوظ رہتی ہیں۔
اسی لئے قارئین سے میری گزارش ہے کہ وہ اس کھیل سے خود بھی بچیں اور اپنے معاشرے کو بھی بچائیں ، اور اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کہیں معاشرہ اس قاتل ڈور کے لپیٹ میں نہ آجائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button