سیاسی و مذہبی مضامین

قرآن مقدس! اس کی حفاظت ہم خود کریں گے

محمدطفیل ندوی

اللہ رب ا لعزت جس کی حفاظت خوداپنے ذمہ لےلیں تواس کا کوئی کچھ نہیں کرسکتابعثت #نبوی سےقبل جب ابرہہ کعبۃ اللہ کو ڈھانے کیلئے اپنےپورےمضبوط وطاقتور ہاتھی اور لائولشکر کیساتھ مکہ کی طرف آیا تو اس نے اس وقت کے کعبۃ اللہ کے متولی حضرت عبدالمطلب کے پاس آکران سےکہا میں کعبہ کوڈھانے آیا ہوں اورتمام #جانوروں کو اپنے قبضے میں لے لیا لیکن حضرت عبدالمطلب نے پورے یقین واطمینان کیساتھ کہا میں اپنے اونٹ کامالک ہوں میرااونٹ واپس کردوکعبہ کامالک اللہ ہے وہ اپنے گھر کی حفاظت خود کریگا اور بچالے گا یہ سن کر ابرہہ اپنے فرعونی لہجہ میں کہنے لگا کہ اے سردار مکہ!سن لیجیے!

میں #کعبہ کو ڈھا کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا،اور روئے زمین سے اس کا نام و نشان مٹا دوں گا کیونکہ مکہ والوں نے میرے گرجا گھر کی بڑی بے حرمتی کی ہے اس لئے میں اس کا انتقام لینے کیلئے کعبہ کو مسمار کردینا ضروری سمجھتا ہوں۔

ایک سال قبل سویڈن کے شہر مالمو میں قرآن کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اسے بھی منہ کھانی پڑی ابھی حالیہ دیوالیہ پن اور بدبوار ذہنیت کاشکار وسیم رضوی جس کے بارے میں یہ کہاجاسکتاہے کہ ’’ناچ نہ آئیں توآنگن ٹیڑھا‘‘یہ ملعون و مردود وقتا فوقتا ایسی ایسی حرکت کرتاہے جس سے #میڈیا میں سرخروہوجاتاہےاور وہ یقینی طورپر موضوع بحث بن جاتا ہے کبھی بابری مسجدکولیکر اپنی شیطانی حرکت سےکود پڑتاہے توکبھی مدارس اسلامیہ کیخلاف اپنی بیہودہ زبان کااستعمال کرتاہےکبھی حضرت عائشہ ؓ کی زندگی پر فلم بناکر حضرت ؓ کی توہین کرتاہےاورہمیشہ منہ کی کھاتاہے اوراب حالیہ اس نے قرآن مقدس کی چند آیات کو لےکردہشت گرد اورتشددسے منسوب کرکے عدالت عظمی میں پیش کیاہے

یقینایہ شیطانیت کا ذہن رکھنے والا ملعون مجرم ہےکیوں کہ اسلام کبھی دہشت گردی کی دعوت نہیں دیتا یہاں تک کہ میدان جنگ میں بھی عورت کی حفاظت، بچوں کی حفاظت ،بوڑھے وضعیف کی حفاظت اور بے جا ملک کی خوشحالی وہریالی کونقصان نہ پہونچاو کی دعوت دیتاہے مگر یہ بات تو ذہن میں رکھناہوگا کہ جو امن وسکون نہیں چاہتا اس کیخلاف سخت کاروائی کی جائے گی اگرکوئی چوری کرتاہے تواسلامی شریعت کے مطابق اس کاہاتھ کاٹاجائیگا اگرکوئی کسی کمزورپرظلم کرتاہے تواس کےظلم کابدلہ لیاجائیگا۔

ہمارےملک کا ایک نظام ہے جوہرملک میں ہے وہ نظام ہے پولس انتظامیہ کا ان کے ہاتھ میں ڈنڈابھی ہوتاہےاوربندوق اوردیگر خوفناک تحفظات اشیاءبھی لیکن ایسانہیں کہ وہ ہر وقت اپنا ڈنڈا اوراپنی بندوق استعمال کرتےہوں بلکہ جہاں اس کی ضرورت محسوس ہوتی وہاں وہ استعمال کرتے ہیں اگرچہ اسے دیکھنے کیساتھ کئی انسان ڈروخوف کاشکار ہوجاتے ہیں جس بناپرہم انہیں دہشت گرد نہیں کہہ سکتے وہ ملک کی حفاظت اور اس کی سالمیت کیلئے ہے

جو ضروری بھی ہےاسی طرح قرآن مقدس میں جوآیات ہیں اس کابھی پس منظر ہیں ۔ کیاحضرت علی ؓ نے اس قرآن مقدس کی تلاوت نہیں کی تھی کیا انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ آیتیں دہشت گردی کی دعوت دیتی ہےاورساتھ ہی اس نے قرآن مقدس کی آیت مبارکہ کیخلاف اپنی ناپاک ذہنیت کیساتھ خلفائے راشدین کے تین جلیل القدرصحابی رسول حضرت ابوبکرؓ ،عمرؓ،عثمان ؓکیلئے اپنی بیہودہ حرکت لےکرسامنے آیاہے سب سے پہلے تویہ سمجھناچاہیےکہ یہ قرآن مقدس کوئی انسان کی لکھی ہوئی کتاب نہیں بلکہ یہ تو کلام اللہ ہے اوراس کی حفاظت کاوعدہ بھی کیاہے

آپ پر جب وحی کانزول ہوتا تو اس سورت یاآیت کو آپ صحابہ کرامؓ سےجوچیزملتی اس پر لکھوالیتےلیکن جب آپ اس دیناسے تشریف لےگئےاور حضرت ابوبکرؓ کادورخلافت آیاتوحضرت عمر ؓ نے آپ ؓ سے کہا کہ قرآن مقدس کوجمع کردیا جائےان کےدل میں یہ بات اسلئے آئی کہ بہت سے صحابہ کرام ؓ جوحافظ قرآن تھے شہید کیے جارہے تھے ان کا شہید ہونا یہ ڈرتھا کہ کہیں قرآن مقدس نامکمل رہےاورجو آیت مقدسہ مختلف اشیاء پر کچھ ہڈیوں پر، کچھ کپڑوں پر،کچھ لکڑیوں اوردیگرچیزوں پرلکھی ہوئی ہیں وہ کہیں بکھرنہ جائیں اورامت محمدیہ ان احکامات وہدایات سے محروم نہ رہ جائیں لیکن حضرت ابوبکرؓ کادل یہ گوارہ نہ کیا کہ جوکام حضور نےنہیں کیا وہ میں کیسے کروں مگر کچھ دنوں بعد آپ کے دل میں خیال آیااورحضرت عمر ؓ کے بقول یکجاکرنےکی کوشش کی اورچندصحابی رسول ﷺ جونبی کریمﷺ کے زمانہ حیات میں حافظ قرآن اورکاتب قرآن تھے ان کے ذریعے لکھواکر کتابی شکل میں جمع کیا آگے چل کر حضرت عمرؓ کے بعد حضرت عثمان غنی ؓ کادورخلافت آیا توآپ نے جومختلف طرزپر لکھاہوانسخہ اورقرات تھی سب کوجلاکر موجودہ شکل میں جو ترتیب ہمارے درمیان ہےاس کوعام کیا تاکہ ساری امت مسلمہ ایک قرآن مقدس کی بالترتیب تلاوت کریں اوریہ جتنے بھی اموراورمراحل اس سلسلے میں طےہوئے کچھ اپنی طاقت وقوت کی بنیادپرنہیں بلکہ حضرت عثمان نے یہ سب کام صحابہ کرام ؓکےمشورہ سےکیاجس کیلئے حضرت علی ؓ نے فرمایاکہ تم اس سلسلے میں حضرت عثمانؓ کو بالکل برامت کہو نہ ان کے بارے میں اپنےذہن کے اندرکوئی غلط خیال لاوانہوں نے جوکچھ کیاہے وہ ہمارے مشورےکےبعدکیاہے۔

انہوں نے ایک مجلس میں ہم سے پوچھا تھا کہ بتاوقرآن کے پڑھنےکے سلسلے میں جواختلافات ہورہے ہیں کوئی کسی طرح پڑھ رہاہے کوئی کسی طرح جس سے آپس میں اختلاف پیداہورہےہیں توتمہارےخیالات کیا ہیں میرے ذہن میں یہ بات آتی ہےکہ قرآن مقدس کے جتنے نسخے ہیں ان کوختم کردوں اورایک قرات پر امت کوجمع کردوں توسارے صحابہ ؓ نے یک زبان ہوکرکہا تھا کہ آپ کی رائے اس وقت بالکل صحیح ہےہم سب آپ کی رائے پر متفق ہیں اس کے بعدحضرت عثمان ؓ نے وہ تمام نسخے جودیگرصحابہ ؓ کے پاس تھے جلا دیئے اس واقعہ کے بعد حضرت علی ؓ نے حضرت عثمان ؓ کےسلسلےمیں کہاکہ اگر میں عثمان ؓ کی جگہ ہوتا تو میں بھی یہی کرتا۔اورصحابہ کرام ؓ کاعمل اوران کاطورطریقہ اورہم سب کوان کے طریقے پراپنی زندگی کو ڈھالنا ہمارےلئے راہ نجات ہے۔

اور ہدایت کا ذریعہ ہے نبی کریم نےتوان کیلئے خود فرمایا’’اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم‘‘میرےصحابہ ستاروں کے مانند ہیں ان میں سے جن کی اقتداکروگےراہ  پا جاو گے تواس ملعون کایہ کہناکہ ان تینوں صحابہ ؓنے اپنی طاقت کااستعمال کرکے اپنے من مانے طریقےسے اس میں پیش کیا تویہ سراسر جھوٹ اوربہتان ہیں بلکہ یہ کہہ کر اس ملعون نے شیعہ اورسنی کے درمیان ایک زبردست فرقہ وارانہ ماحول پیداکرنےکی کوشش کی ہےجوانشاءاللہ ناکام ہوگا ۔

لیکن ہمیں بھی اپنی انمول خداکی دی ہوئی زندگی کوسنوارناہوگااوراپنی زندگی کو قرآن مقدس کی تعلیمات پرڈھالناہوگاکیوں کہ قرآن کریم کی اس عظمت وجلالت کاتقاضابھی یہی ہےکہ اس کے حقوق کی کماحقہ رعایت کی جائے اہل ایمان اسے اپنے لئے حرزجان بنائیں، اسکی تلاوت سے ذہن وقلب سرشارکریں، اس پرعمل کرکے اپنی زندگی سنواریں ،اوراس کی تعلیم وتدریس کواپنی ترجیحات میںسرفہرست رکھیں ،درس قرآن کی محفلوں کااہتمام کریں اوراس کے آداب وشرائط کاپوراخیال رکھیں تاکہ ان کابھرپور فائدہ اٹھایاجاسکے۔

اس میں کوئی گنجائش نہیں کہ اللہ رب العزت کی جانب سے قرآن کی صورت میں انسان کوجونصیحت نامہ ملاہے وہ اتناجامع ہے کہ زندگی کےتمام شعبوں پرمحیط ہے وہ اس قدرواضح ومدلل ہےکہ اس میں ذرابھی پیچ وخم نہیں وہ اس قدردل نشیں ہےکہ ذہنوں کواپیل کرتاہے اوردلوں میں گھر کرجاتاہے قرآن میں دی گئی نصیحت کاایک امتیازی پہلویہ بھی ہےکہ یہ پوری کتاب میں پھیلی ہوئی ہے جہاں سے پڑھیے جس صفحہ کی آیات پر غورکیجئے کچھ نہ کچھ نصیحت یا تذکیر کی بات ضرورملتی ہے،

کہیں عبادت الہی، مقررہ فرائض کی بجا آوری ،اللہ کاپسندیدہ طرززندگی اختیار کرنےکی ہدایات ملتی ہے،توکہیں والدین اقرباء،پڑوسی، غرباءومساکین کیساتھ حسن سلوک اورانسانی حقوق اداکرنےکی تلقین کی گئی ہے،کہیں انفاق پرفی سبیل اللہ اورضرورت مندوں کی حاجت روائی کی تاکید ہے ،توکسی جگہ مالی معاملات میں دیانت داری سےکام لینے اوراپنے وغیر،دوست ودشمن، امیروغریب کی تفریق کےبغیرسب کیساتھ انصاف برتنے پر زور دیا گیا ہے

گویا #قرآن کی نصیحت انسان کے ہر طبقے اورزندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتی ہے اوراس نصیحت پرعمل کرنیوالوں کودونوں جہاں میں فوزوفلاح کی ضمانت ملتی ہے درحقیقت انسان کیلئے سب سے بڑی بھلائی اور کامیابی اسی میں ہے کہ وہ ایمان کی دولت سے مالامال ہوجائےخالق ومالک اوررب العالمین سے اس کارشتہ جڑجائے اورمضبوط ہوجائے اورہرطرف سے یکسوہوکراللہ کی بندگی میں لگ جائےاسی میں اس کی عافیت ونجات ہے اوراخروی زندگی میں ہمیشہ ہمیش کاسکون اسی پرمنحصرہے۔

آخرمیں اس حقیقت کااظہار بھی ضروری معلوم ہوتاہے کہ نبی کریم اورصحابہ کرام ؓ نے قرآنی تعلیمات وہدایات پرپوری طرح عمل کرکے امت کویہ دکھایاکہ قرآن کتاب عمل ہےاس پرعمل کئے بغیر اس کاحق ادانہیں ہوسکتااس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ حضوراکرم کی پوری زندگی قرآن کےسانچے میں ڈھلی ہوئی تھی اپنےقول وعمل سے قرآنی آیات کی تشریح وتوضیح فرماناآپ کے پیغمبرانہ مشن کاایک اہم حصہ تھا بلاشبہ آپ کی حیات مبارکہ قرآنی ہدایات وتعلیمات کاپرتوتھی یہی وجہ ہےکہ اللہ رب العزت نے اسے لوگوں کیلئے بہترین نمونہ قراردیا اوراخروی کامیابی کیلئے اپنی اطاعت کیساتھ اپنے رسول کی اطاعت کوبھی لازمی بتایا ارشادربانی ہے۔لقدکان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ یقیناتمہارےلئے رسول اللہﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے،

واطیعوااللہ والرسوال لعلکم ترحمون اللہ کی اطاعت کرواوررسول کی اطاعت کروتاکہ تم پررحم کیاجائے،ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فازفوازاعظیمااورجوشخص اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرےاس نے بڑی کامیابی حاصل کی،خوش نصیب ہےوہ شخص جس کو خداکی کتاب کی تلاوت نصیب ہوجواس پرشب وروز غورکرے۔

جس کاسینہ اس کی آیات سے بھراہواہواورجس کے دل ودماغ پراس کے احکام کی حکومت ہوایسے شخص پر اس دنیا کےشاہان تخت وتاج کوبھی رشک کرنا چاہیےکیوں کہ ان کوجوکچھ ملاہے وہ بہت جلد فناہونیوالاہے اوراس کی دولت لازوال ہے وہ اپنے تما م سازوسامان کے باوجود کل خداکےغضب سے اپنے آپ کوبچانہیں سکیں گے اوراس پرخداکے انعامات کی بارش ہورہی ہوگی۔

میرےعروج کی لکھی تھی د استان جس میں
مرے زوال کاقصہ بھی اسی کتاب میں ہے

جنرل سکریٹری ! امام الہندفائونڈیش

متعلقہ خبریں

Back to top button