
انجنئیرمحمد ریاض الحق
(ڈائرکٹر انڈین انسٹیٹیوٹ اف فاؤنڈیشن اسٹڈیز آکولہ)
طلباء و نوجوان کسی بھی ملک و قوم کا بہترین سر ما یہ اور اس کے درخشاں مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔طالب علم علم حاصل کرنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے فرشتے اپنے پر پھیلا تےپانی کی مچھلیاں تک اس کے لئے دعا کرتی ہے . علم کا حاصل کرنا نبیوں کی میراث حاصل کرنا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے طالب علم، علم کی تلاش میں راستہ طے کرےگا اللہ تعالی اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرمائے گا۔ رسول اللہﷺ کو دنیا میں بھیجنے کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ کتاب و حکمت کی تعلیم سےلوگوں کو آراستہ کرنا، ساتھ ہی ساری دنیا کو علم سکھانا۔ رسولﷺ علم سیکھنے اور سکھانے میں بڑی دلچسپی رکھتے تھے۔
ایک مثالی طالب علم ہونے کے لئے جن صفات کا ہونا ضروری ہے آئیے ہم اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
حصول علم:
طالب علم اس شخصیت کا نام ہے جو ہر وقت علم کا طالب ہوتا ہے، اس کے لئے ہمہ تن گوش رہتا ہے، اس میں ہر وقت تعلیم کے حصول کی خواہش گردش کرتی رہتی ہے۔ وہ اپنے وقت کو ضائع کرنے کی بجائے علم کے حصول کے لیے سر گرم عمل رہتا ہے۔
زندگی کا مقصد :
مثالی طالب علم کی زندگی بامقصد ہوتی ہے، وہ اپنی زندگی کے مقصد کو متعین کرتا ہے، اپنے passion کو profession بنانے کی کوشش کرتا ہے، ساتھ ہی اپنی زندگی کا ایسا مقصد بناتا ہے جو اس کے لئے اس کے خاندان معاشرے اور ملک کے لیے مفید ہوں جسے پا کر وہ دونوں جہاں میں کامرانی سے ہمکنار ہو سکے۔
کیرئیر کا انتخاب :
اپنا کریئر ایسا منتخب کرتا ہے جس میں اس کی دلچسپی ہو۔ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے بعد نا صرف اپنی بلکہ ملک و ملت کی بھی خدمت کرتا ہے۔ اپنے کریئر سے انسانوں کی خدمت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
معمولات زندگی :
رات میں جلد ی سونا اور صبح سویرے جلدی اٹھنا اسکی عادت ہوتی ہے۔ وہ نماز و تلاوت کا پابند ہوتا ہے۔ مثالی طالب علم کا بنیادی مقصد معرفت الٰہی ہوتا ہے، وہ یہ چاہتا ہے کہ تعلیم کے ذریعے اس کے اندر شرافت, رحم دلی ہمدردی، دماغ کی خوبی ،مروت سلیقہ مندی، اخلاقیات اور وہ ساری صفات پیدا ہوجائے جو ایک اچھے اور کامیاب انسان کے اندر ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذہنی صلاحتوں کی بہترین نشو نما کے لیےسخت محنت کو اپنا شعار سمجھتاہے، منفی نقطہ نظر سے دور رہ کر مثبت انداز میں سوچتا ہے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کارعمل میں لاتا ہے۔
مضامین کا انتخاب :
دلچسپی اور صلاحیتوں کے مطابق تعلیمی مضامین کا انتخاب کرتا ہے وہ امنگوں حوصلوں سے بھر پور ہوتا ہے ۔ وہ اپنے شعبہ میں ماہر ہوتا ہے اسی کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں کا بھی کچھ نہ کچھ علم ضرور رکھتا ہے۔
خود کا ارتقاء :
مثالی طالب علم وہ ہوتا ہے جو یہ چاہتا ہے کہ تعلیم کے ذریعے میری ہمہ جہت شخصیت کا ارتقاء ہو، میں اچھا دوست، اچھا شہری، ملت اسلامیہ کا بہترین فرد، اپنے علمی میدان کاماہر، کاروبار حیات سے مکمل واقفیت رکھنے والا ، زمانے کے اتار چڑھاؤ اور تبدیلیوں پر گہری نظر ر کھنے والا، وقت اور حالات کے تقاضوں سے باخبر اور دین اسلام کا گہرائی سے شعوری علم رکھنے والا اور عمل کی دنیا کا کامیاب طالب علم بنوں۔
اسکول میں کردار :
مثالی طالب علم اپنی اسکول و کالج میں resource personماہر فرد کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں کی مدد کرتا ہے، وہ بھیڑ میں گم نہیں ہوجاتا بلکہ ایک چمکتے ہوے ستارے کی مانندنظر آتا ہے۔ اس کی روشنی سے دوسرے طلبہ کو فائدہ ہی فائدہ ہوتا ہے، وہ حسن اخلاق کا دامن نہیں چھوڑتا، ہر ایک سے ادب سے پیش آتا ہے اس کا انداز گفتگو بہت پیارا ہوتا ہے، بہت شیرینی الفاظ میں بات کرتا ہے ۔ جب گھر سے نکلتا ہے تو دوسروں کی فلاح بہبود، چاہنے والوں کی حیثیت سے نکلتا ہے، اس کی ذات سے خیرہی کے چشمے بہتے ہیں، وہ اپنے معلم کا دل و جان سے احترام کرتا ہے۔ معلم کی بات کو نظر انداز نہیں کرتا بلکہ معلم کی نصیحت سننے کے لیے بے چین رہتا ہے وہ اپنے والدین کا فرماں بردار ہوتا ہے، ان کا خدمت گزار ہوتا ہے،حسن اخلاق وادب احترام کا پیکر ہوتا ہےجس کی وجہ سے سب اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس کے رویہ سے دوست و احباب، استاد والدین ،رشتہ دار سب ہی اس سے محبت کرتے ہیں، اس کا کردار قابل تعریف ہوتا ہے وہ پڑھائی میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امتحانات میں اچھے نمبرات حاصل کر کے بہترین مقام حاصل کرتا ہے۔
مثالی طالب علم اسکول و کالج کا driving force ہوتا ہے وہ کالج و کیمپس کی رنگ ریلیوں میں مبتلا نہیں ہوجاتا ، بلکہ اپنے رنگ اخلاقیات میں انہیں رنگ دیتا ہے۔ مثالی طالب علم کالج و کیمپس میں صف اول کا طالب علم ، اپنی فیلڈ میں ماہر بننے کے لئے اپنے مقصد کو حصول کے لیے منصوبہ بند کام کرتا ہے وہ قلیل وطویل مدتی منصوبہ بناتا ہے اسےمعلوم ہوتا ہیکہ وقت کا ہرلمحہ بہت قیمتی ہے وہ وقت کے مکمل استعمال کے ساتھ اپنے ٹائم ٹیبل پر سختی سے عمل کرتا ہے وہ اپنا ہر کام وقت پر کرتا ہے وہ کبھی اپنے کاموں میں ٹال مٹول نہیں کرتا ہے وہ اپنے کاموں کو بڑی سلیقہ مندی سے انجام دیتا ہے اپنے کاموں کو وقت پر پورا کرنے کی حددرجہ کوشش کرتا ہے جس کے نتیجے میں اس کے کاموں میں حسن پیدا ہوتا ہے، وہ اپنے پریکٹیکل assignment وقت پر مکمل کرتا ہے۔ وہ باقاعدگی سے اپنی پڑھائی کرتا ہے اس میں فاصلہ نہیں آنے دیتا، وہ اپنی forgetting curve کو سو فیصد رکھنے کیلئے اعادہ کرتا ہے۔
اعادہ کا طریقہ کار:
اسکول کے آنے کے بعد ہفتے میں مہینے میں تین مہینے میں چھ مہینے میں تقریبا پورے سال میں 25 مرتبہ اعادہ کرتا ہے وہ اسکول سے آنے کے بعد چار کام کرتا ہیں دن بھر کا اعادہ ،گھر کا کام، آنے والے کل کی تیاری اپنی کمزوریوں کو تلاش کر کے دور کر نا اور مطالعہ کرتا ہے۔مثالی طالب علم ہر جگہ ہر موقع پر صاف ستھرا رہتا ہے اپنے اطراف کی جگہ، کتابوں اور کاپیوں کو بھی صاف ستھرا رکھتا ہے۔
پڑھائی کا طریقہ کار:
مثالی طالب علم رٹہ نہیں لگاتا بلکہ بنیادی تصورات کوسمجھتا اور انھیں مضبوط کرتا ہے۔ جو موضوع سمجھ میں نا آے اس کی بنیاد سے مطالعہ کرتا ہے، جب تک سمجھ میں نہ آئے تب تک محنت کرتااور اللہ سے دعا کرتا کہ اے اللہ مجھے یہ concept سمجھادے اگر سمجھ میں آجائے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے, وہ اس کے لیےاستاد کی مدد لیتا ہے دوستوں سے ڈسکشن کرنا، پڑھنا،سمجھنا ، نوٹس اور کلیدی الفاظ تیار کرتا اس کا شیوا ہوتا ہے،اور ساتھ ہی ساتھ اس کی انطباق کوسمجھنا اور اپنی روز مرہ زندگی میں استعمال کرنا اس کے لیے کوشش کرتا ہے۔ اور اپنے دوستوں سے شئیر کرتا ہے۔ وہ جانتا ہےکہ کتاب زبانی رٹ لینے کا نام علم نہیں اصل بات یہ ہے کہ اس علم سے خود بھی فائدہ اٹھائے اور دوسروں کوبھی اس علم سے فائدہ پہنچے مثال کے طور پر صرف کافی مقدار میں کھانا کھالینا کوئی خوبی نہیں، بلکہ اصل خوبی یہ ہے کہ خوراک جسم کا حصہ بنے اس سے جسم میں طاقت آئے ہم اچھے سے اچھا کام کر سکے اسی طرح صرف کتا بیں رٹ لینا کوئی اہم بات نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اس علم سے عملی زندگی بہتر ہو۔ وہ اپنے ریاستی نصاب کے ساتھ ساتھ قومی نصاب کا بھی مطالعہ کرتا ہے۔ تمام مضامین کے مشکل سوالات کی زیادہ سے زیادہ مشق کرتا ہے۔ مثالی طالب علم اپنے نصاب کے ساتھ ساتھ غیر نصابی کتابوں کا بھی مطالعہ کرتا ہے ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ اس میں قائدانہ صلاحیت، حکمت و دانائی، سیکھنے کی مہارت، محققانہ سوچ ، تخلیقی کردار فیصلہ سازی وغیرہ صفات پیدا ہو تی ہیں۔
علم سے محبت :
مثالی طالب علم کو علم سے محبت ہوتی ہے یہ محبت صرف ایک زمانے میں نہیں ہوتی ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے ایک اچھا طالب علم ہمیشہ اپنے آپ کو طالب علم ہی سمجھتا ہے، طالب علم تو علم کا طالب ہے اور جب تک زندہ رہتا ہے علم کی ہی طلب ہی کرتا ہے۔ 



