سیاسی و مذہبی مضامین

مدد ملے نہ ملے آبرو تو جاتی ہے

قارئین ایشوریا کون تھی اور اس کے متعلق جاننا کیوں دلچسپی سے خالی نہیں

مدد ملے نہ ملے آبرو تو جاتی ہے
محمد مصطفی علی سروری

   ایشوریا19 سالہ ریڈی، دہلی یونیورسٹی کے ایل ایس آر کالج کی اسٹوڈنٹ تھی لیڈی سری رام کالج دہلی کا ایک باوقار کالج ہے جہاں پر ایشوریا نے بی ایس سی آنرس میں داخلہ لیا تھا۔ قارئین ایشوریا کون تھی اور اس کے متعلق جاننا کیوں دلچسپی سے خالی نہیں۔ ان سوالات کے جوابات میں آپ کو اس کالم کے ذریعہ دینا چاہوں گا۔ ایشوریا کا تعلق شاد نگر علاقے سے تھا جو ریاست تلنگانہ کا ایک موضع ہے۔ وہ ایک اسے گھر سے تعلق رکھتی تھی جو نہایت غریب تھا۔ ان کی غربت کا اندازہ ان کے ایک کمرے کے گھر سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔ اس غریب خاندان کی لڑکی کا سفر شاد نگر سے دہلی تک کیسے ممکن ہوا وہ بھی جان لیجیے۔ غریب ہونا کوئی عیب نہیں۔ ایشوریا اس نکتہ کو بہت اچھے انداز میں سمجھتی ہے۔ اس لیے اس نے تعلیم کو ترقی کا زینہ بنایا اور تعلیم کے میدان میں محنت کرنے سے کسی طرح پیچھے نہیں ہٹی۔ اس لڑکی کے والد یومیہ اجرت پر کام کرتے تھے۔ جب ایشوریا نے دسویں کے امتحان میں 9.5 جی پی اے حاصل کیا تو والدین کو پتہ چلا کہ تعلیم میں ان کی لڑکی تو نہایت تیز ہے اور دسویں کے شاندار نتیجے کا پھل یہ ملا کہ ایک پرائیویٹ کالج نے ایشوریا کو فری میں انٹرمیڈیٹ کی تعلیم فراہم کی۔ آگے بڑھنے کی چاہت میں اس لڑکی کو یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ تعلیم ہی وہ واحد طریقہ ہوسکتا ہے۔ اخبار دی انڈین ایکسپریس کی 22/ نومبر 2020ء کی رپورٹ کے مطابق 12 ویں کے امتحان میں اس لڑکی نے 98.5 فیصد مارکس حاصل کیے اور ارادہ کرلیا کہ وہ یونین پبلک سرویس کمیشن کا امتحان لکھے گی۔ کم عمر تھی، غریب تھی مگر ذہین تھی اور اس لڑکی نے یہ طئے کرلیا کہ اگر اس کو سیول سرویس کا امتحان لکھنا ہے اور اس قومی امتحان کے لیے تیاری کرنا ہے تو اس کے لیے دہلی سے بہتر دوسری کوئی جگہ نہیں ہوسکتی اور قارئین کرام ذرا تصور کیجیے گا، ایک کمرے کے گھر میں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے والدین کی اس لڑکی نے طئے کیا کہ وہ اپنی ڈگری کی تعلیم تلنگانہ میں نہیں بلکہ دہلی میں ہی حاصل کرے گی۔ غریب ماں باپ کی اس بیٹی کو اس کے شاندار مظاہرہ کی بنیادوں پر دہلی کے لیڈی سری رام کالج میں داخلہ بھی مل گیا لیکن اپنی بچی کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے ایشوریا کے والد گھنٹا سرینواس ریڈی نے اپنے ایک کمرے کے گھر کو بھی رہن رکھ دیا اور دو لاکھ روپئے حاصل کر کے اپنی بچی کو دہلی میں پڑھائی کا خرچہ جمع کرلیا۔ ساتھ ہی باقی کی رقم سے ایشوریاکے والدنے اپنے لیے میکانک کی دوکان بھی کھول لی۔ مگر حالات کی ستم ظریفی یہ رہی کہ کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن نے تعلیمی اداروں کو بند کرنے پر مجبور کردیا۔ صرف تعلیمی ادارے ہی نہیں، کاروبار بھی بند ہوگیا۔ ایشوریا اگرچہ دہلی میں گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رہی تھی مگر لاک ڈاؤن کے سبب وہ بھی واپس اپنے گھر شاد نگر لوٹ گئی اور دوسری طرف لاک ڈاؤن نے اس کے والد کے کاروبار کو بھی بند کردیا۔ اب ایشوریا کی کلاسس آن لائن ہو رہی تھیں۔ جو وہ فون سے اٹینڈ کر رہی تھی لیکن بی ایس سی کے پریکٹیکل امتحانات کے لیے اس لڑکی کو لیاپ ٹاپ کی ضرورت تھی جو کہ اس کے والد کے بس کی بات نہیں تھی۔ گھر کے خراب معاشی حالات اور کالج کی اسکالر شپ کا بند ہوجانا ایسی وجوہات تھیں کہ ایشوریا شدید ڈپریشن میں چلی گئی۔ کالج انتظامیہ کو توجہ دلائی کہ لیاپ ٹاپ کی غیر موجودگی مسئلہ ہے۔ لوگوں سے سنا کہ سونو سود ایکٹر لوگوں کی مدد کر رہا ہے تو ایکٹر کو بھی مدد کے لیے درخواست کی لیکن کالج سے کوئی مدد نہیں ملی اور نہ ہی سونو سود مدد کرسکا۔ لیکن اپنی تعلیم کے حوالے سے فکر مند اس غریب لڑکی کے لیے گوارہ نہیں ہوا کہ وہ کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلاتی۔ لڑکی نے اپنا ہاتھ بڑھایا مگر اس ہاتھ سے قلم اٹھایا اور پھر ایک نوٹ لکھا اپنی مادری زبان تلگو میں اور بتلایا کہ وہ اپنی وجہ سے اپنے خاندان کو مزید مالی پریشانیوں میں ڈالنا نہیں چاہتی ہے۔ اس کی تعلیم کا خرچہ برداشت کرنا پہلے ہی ایک بوجھ بن گیا ہے اور جب وہ آگے پڑھ نہیں سکتی تو زندہ بھی رہنا نہیں چاہتی ہے۔ پولیس کے حوالے سے اخبارات نے لکھا کہ ایشوریا ریڈی نےخود کشی کرلی اور تلاشی لینے پر یہ خود کشی کا نوٹ برآمد ہو

قارئین کرام ایسی کئی مثالیں ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ غربت اور معاشی مسائل کے باوجود کئی ہندوستانی نوجوان اور طلبہ ہیں جو تعلیم کے سہارے آگے بڑھنے اور اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔ لیکن کرونا وائرس کے بعد پیدا شدہ ناگہانی حالات نے کئی ایک سنگین مسائل پیدا کیے ہیں۔ عام طور پر معاشی مسائل اور مالی مسائل کا تو سب ذکر کرتے ہیں لیکن ان حالات میں سماج کے معاشی طور پر پسماندہ طبقات پر جو اثرات مرتب ہوئے ہیں اس کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔

محترمہ شاہجہاں صدیقی، اسسٹنٹ پروفیسر اندرا پریہ درشنی ڈگری کالج کے مطابق نامپلی کے اس کالج میں آج بھی کئی لڑکیاں ایسی ہیں جو آن لائن کلاسز میں شرکت نہیں کر رہی ہیں اور قارئین یہ بات تعجب کی ہے کہ ان لڑکیوں کے کلاس اٹنڈ نہیں کرنے کی وجہ موبائل ڈاٹا کے مسائل ہیں۔ محترمہ شاہجہاں صدیقی کے مطابق کئی لڑکیاں لینگویج کی کلاس اٹنڈ نہیں کر رہی ہیں اور پوچھنے پر پتہ چلا ہے کہ ان کے موبائل کا سبجیکٹ ڈاٹا پلان انہیں اجازت نہیں دیتاکہ وہ کالج کی ساری آن لائن کلاسز میں شریک ہوں۔ اس لیے وہ لوگ اصل   کی کلاسس میں شریک رہتی ہیں اور لینگویج کی کلاس میں نہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے جو ڈاٹا پلان مارکٹ میں ہے اس کے لیے کم سے کم دو سو روپئے کا پلان ہے اور ذرا سونچئے کہ شہر حیدرآباد کے ایسے کئی گھرانے ہیں جہاں موبائل فون کا ریچارج کرنے سے پہلے سونچنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر اسلم فاروقی، این ٹی آر گورنمنٹ ڈگری کالج، محبوب نگر میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ان کے مطابق جن گھروں میں تین چار بچوں کو ایک ساتھ آن لائن کلاسیں ہیں ان کے ہاں واقعی مسئلہ ہے کہ سب بچوں کو کیسے موبائل فون، ٹیابلیٹ اور پھر اس کا ریچارج کرواکر دیا جاسکے۔

ڈاکٹر اسلم فاروقی کے مطابق آن لائن کلاسیس میں حاضری کا اعظم ترین فیصد آج بھی 80 ہے اور 20 فیصدی طالبات کو آج بھی فون سے لے کر موبائل ڈاٹا کا مسئلہ درپیش ہے۔ جس کی وجہ سے وہ لوگ کلاس میں آن لائن پابندی سے شرکت نہیں کرپا رہے ہیں۔ مسلسل فون کے ذریعہ آن لائن کلاسس سے طلبہ کی صحت پر بھی اثرات پڑنے کی ڈاکٹر اسلم فاروقی نے تصدیق کی ہے۔

کیا معاشی مسائل اور دیگر وجوہات کے سبب آن لائن کلاسیس میں شرکت صرف مسلمانوں کے لیے مسئلہ ہے؟ جی نہیں یہ ایسے مسائل ہیں جس سے بلا کسی امتیاز کے بہت سارے لوگ متاثر ہیں۔
عابڈز جیسے شہر حیدرآباد کی مرکزی علاقے میں لڑکیوں کا مشہور اسکول ہے۔ اس اسکول میں زیر تعلیم لڑکیوں کے سرپرست کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی کہ جب کویڈ 19کے سبب آن لائن کلاسیس شروع ہوئی تو اسکول انتظامیہ نے فوری طور پر سروے کیا کہ کیوں بعض لڑکیاں آن لائن کلاسیس میں شرکت نہیں کر رہی ہیں۔ سروے سے پتہ چلا کہ عابڈز کے مشہور و معروف اسکول میں زیر تعلیم لڑکیوں کے بھی بعض سرپرست ایسے ہیں جو مختلف وجوہات کے سبب اپنی لڑکیوں کے لیے موبائل فون کا انتظام نہیں کرپا رہے ہیں۔ معیاری تعلیم اور بھاری فیس کے لیے مشہور ان اسکولس کے انتظامیہ نے بھی کویڈ 19 کے ناگہانی حالات میں اپنی انسانیت کا ثبوت دیا اور دوسرے باضمیر والدین اور سرپرستوں کے تعاون سے ان لڑکیوں کے لیے موبائل اور ٹیابلیٹ کی فراہمی کا انتظام کیا۔ اور جو لڑکیاں صرف اس وجہ سے آن لائن کلاس میں شرکت نہیں کر رہی تھی کہ ان کے پاس موبائل فون نہیں ہے، ان کی مدد کا راستہ ڈھونڈ نکالا۔
قارئین کیا یہ ایک اہم مسئلہ نہیں ہے کہ مسلمانوں میں بھی بڑی تعداد میں طلباء و طالبات اپنے تعلیمی سفر کو منقطع کر رہے ہیں اور اس کے بنیادی اسباب میں خانگی اسکولس میں فیس کی ادائیگی سے لے کر سرکاری اسکول و کالجس میں آن لائن کلاسیس کے لیے موبائل فون اور انٹرنیٹ کے اخراجات ادا کرنے کی استطاعت کا نہ ہونا ہے۔

مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لیے اور معاشی طور پر انہیں خود مکتفی بنانے کے لیے چلائے جانے والے سبھی پروگراموں کی کامیابی پر اس وقت بہت برا سوالیہ نشان اٹھ کھڑا ہوگیا ہے۔ کویڈ 19 نے تمام شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبہ کو اس طرح متاثر کیا ہے کہ جو تعلیم کل تک اسکول اور کالج و کلاس رومس میں ہوا کرتی تھی آج وہ آن لائن او رانٹرنیٹ کے ذریعہ ہو رہی ہے۔ جس کے لیے موبائل فون، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر یا لیاپ ٹاپ جیسے لوازمات ضروری قرار پائے ہیں۔

اسکولی فیس کے ساتھ ساتھ موبائل فون اور فون آگیا تو اس کے ساتھ سوال کہ ہر بچے کے لیے الگ فون اور اتنا ہی نہیں ہر فون پر انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے اخراجات نے تعلیم کے لیے نئے چیالنجس کھڑے کردیئے ہیں۔

قارئین کرام سب سے تشویش کی بات تو یہ ہے کہ کویڈ 19 کے سبب پیدا شدہ حالات نے کئی ایک مسلم نوجوانوں کو ترک تعلیم پر مجبور کردیا ہے یا حالات نے ایسے کروٹ لی کہ طلبہ مجبور ہو رہے ہیں۔ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ طلبہ پر کس قدر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اگر ان سارے حالات میں آپ کے اپنے بچے، آپ کے عزیزوں کے بچے اپنا تعلیم کا سفر جاری رکھ پارہے ہیں تو خدائے بزرگ و برتر کا شکر ادا کیجئے گا اور پھر کوشش کریں کہ آپ کسی ایسے طالب علم کے کام آئیں جو مندرجہ بالا مذکورہ وجوہات کے سبب تعلیم سے اپنا ناطہ توڑنے پر مجبور ہوگیا ہے یا مجبور ہو رہا ہے۔

کیونکہ جس مذہب اسلام میں ایک مسلمان کو دوسرے کا بھائی مانا گیا ہے وہاں پر مجھ سے بھی روزِ محشر سوال ہوگا کہ میرے اطراف و اکناف ایسے افراد تھے جو مختلف مسائل کے سبب حصول تعلیم سے محروم ہو رہے تھے اور میں اپنی فضول خرچیوں میں خوش تھا؟ اچھا جناب صرف میں ہی نہیں ہم سب مسلمان ہیں تو سوال تو ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ ہوگا۔ کیا ہم نے تیاری کرلی ہے؟ آیئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت ہم سبھی مسلمانوں کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور ہم کو اس بات کی بھی توفیق دے کہ ہم دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرنے والے نہیں بلکہ آسانیاں بانٹنے والے بنیں۔ آمین۔ یارب العالمین۔

 کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ  ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں 

 sarwari829@yahoo.com

مزید مضامین کےلیے کلک کریں

متعلقہ خبریں

Back to top button