ایک میرے حق میں سچی گواہی کی بات تھی
اترے دروغ گوئی پہ کیسےکھرے کھرے(زاھدآزاد)ْ
ممبئی کی ایک شام نیپال کے معروف شاعر وصحافی زاھد آزاد جھنڈانگری۔ کے نام ۔
عروس البلاد ممبئی میں جشن جمہوریہ کے موقع پر ایک شام نیپال کے مشہور ومعروف شاعر وصحافی زاھدآزاد جھنڈانگری ک ناے اعزاز میں جشن جمہوریہ محفل شعر وادب کی جانب سے منعقد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی دوستی ایجوکیشنل سوسائٹی ساکی ناکہ کے جمال احمد خاں تھے
پروگرام کی صدارت عبد الرؤف چودھری اور نظامت کا فریضہ ممبئی کے معروف شاعر یوسف دیوان نے نہایت ھی حسن وخوبی سے ادا کیا جس میں ممبئی میںمقیم مختلف اضلاع کے شعراء کرام نے شرکت کی ۔اختر الہ آبادی۔ عالم نظامی۔استاد شاعر اصی بیاروی ۔اسید پرتاپ گڑھی۔پروگرام کے آرگنائزر قادر ھاشمی ۔یوسف رانا۔وغیرہ نے اپنا کلام پیش کیا.
مہمان خصوصی جمال احمد خان نے زاھدآزاد جھنڈانگری کا تعارف کراتے ھویۓ کہا کہ آپ نے نیپال میں انڈو نیپال مشاعرے کی 1988/میں ڈالی جسمیں ہندوستان کے معروف شعراء شرکت فرماچکے ھیں۔آپ نے 2010/شعراء و صحافی حضرات کے لیے اعزاز وایوارڈ کا سلسلہ شروع کیا
جس کے لئے محترم زاھدآزاد جھنڈانگری صدر انجمن ارتقاء اردو ادب نیپال خصوصی مبارکباد و اعزاز کے مستحق ہیں آج ھم انکے اعزاز میں ایک شام منعقد کرکے فخر محسوس کرتے ھیں۔ایک شام زاھدآزاد جھنڈانگری کے نام منعقد کیا جا رھا ھم اس کے لیے ان کے دلی ممنون ھیں کہ آپ ہمارے لئے وقت نکالا
چند پسندیدہ اشعار پیش خدمت ھیںشعراء کے پسندیدہ اشعار
مرے دل میں جاہ وحشمت کبھی تھی نہ ھے نہ ہوگی
مجھے اس جہاں کی چاھت کبھی تھی نہ ہے نہ ھوگی
(یوسف دیوان ممبئی
دل میں خدا کا خوف آنکھوں میں ڈر تو ھے
دو دن کی زندگی ھے مگر معتبر تو ھے
(عاصی بیاروی )
یہ تو اچھا ھوا سانسوں پہ بس نھی اسکا
ورنہ دنیا مجھے زندہ نھی رھنے دیتی ( عالم نظامی)
رب نے مجھے خلوص کا پیکر بنادیا
قطرے کی آرزو تھی سمندر بنا دیا
(اختر الہ آبادی)
میری نظر میں وہ ھیں محترم نصیب اللہ
وطن کی راہ میں قربان ہونےوالے لوگ
(نصیب اللہ بستوی)
سورج سے میں نے اعلان جنگ کر دیا
جگنو تمام میری حمایت میں آگئے
(عمران راشد مالیگاؤں)




