ناپسند مردوں سے شادی کے بعد پریشان کیوں ہیں بیٹیاں؟
حافظ مجاہد الاسلام عظیم آبادی
یہ خاص تحریر اس بہن، بیٹی اس لڑکی کے نام جو بے حدپریشان ہے اور جس نے مجھے میری ایک ویڈیو کے کمینٹ میں بتایا کہ اس کی نسبت ایک ناپسندیدہ شخصیت کے ساتھ طے کردی گئی ہے۔مجھے معلوم ہے آپ خوش نہیں ہیں،اور میں جانتا ہوں آپ بے حد اداس رہتی ہیں۔میں آپ سے ایک بات کہنا چاہونگا ،زندگی کا مقصد پسندیدہ انسان سے شادی ہونا ہی نہیں ہے۔
زندگی کا مقصد پسندیدہ بیٹی بننا،بہن بننا، ماں بننا،خالہ، پھوپو، دوست، بننا بھی ہے۔زندگی کا مقصد ایک مضبوط عورت بننا بھی ہے۔میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ زندگی کے خواب صرف شادی تک محدود نہ کریں۔ان خوابوں کو قبر کی دیواروں تک وسیع کریں، وہ ناپسند شخص ہی اب آپ کا شوہر ہے اور اس کی فرمانبرداری آپ پر فرض ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہیکہ ہر لڑکی کے نصیب میں من چاہا مرد (شوھر) نہیں ہوتا۔کبھی زندگی کی خیر ان چاہے مرد کے ساتھ بھی بانٹنی پڑتی ہے۔زندگی صرف شادی تک کا نام نہیں ہے،
زندگی نسلوں کی تربیت کا نام ہے۔خواہ وہ کوئی بھی ہو اس لیے نہ چھوڑیں کہ من چاہی مرادیں نہیں ملیں بلکہ اس لیے چھوڑیں کہ مقصد حیات حاصل کرنے کی چاہ آپ کے دل میںہے۔ہرمسئلے کا حل ’’برداشت‘‘ہے۔یہ ایک ایسا ہنر ہے جو آپ کو ہر درد سے نجات دلا دیتا ہے۔برداشت کرنے کا ہنر سیکھ لیں۔۔۔۔ان چاہے مرد کو بھی اور ان چاہی مرادوں کو بھی۔آپ کی زندگی آسان ہوگی۔
جو چلتا ہے وہ رک سکتا،جو دوڑتا ہے وہ رک سکتا، مگر جو تیرتا ہے وہ رک نہیں سکتا،اگر وہ رکے گا تو ڈوب جائے گا۔اور آپ بیٹیاں بھی ان تیرنے والوں کی مثل ہیں۔آپ رکیں گی تو ڈوب جائیں گی، اور وہ اکیلی نہیں ڈوبیں گی وہ خاندان کی عزت و وقار اور شان ساتھ لیکر ڈوب جائیں گی۔مثل تیراک بیٹیاں اپنی زندگی کا ہر سفر جاری رکھتی ہیں۔پانی کی لہریں موافق ہوں یا نہ ہوں، تیراک اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔
اسی طرح بیٹیاں بھی سفر جاری رکھتی ہیں۔اگر آپ ناپسندیدہ مرد سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو اپنے پسندیدہ مرد کو کہیں کہ وہ آپ کے والدین کو جیتے، آپ کو جائز طریقے سے حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے، لیکن کوئی غیرشرعی حرکت ہرگز نہ کریں، کسی کو پسند کرلینا کوئی بری بات نہیں ہے، مگر اس پسند کے ساتھ شریعت کے حدود کو توڑنا غلط ہے، مانا کہ شادی ہر کس وناکس کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے،لڑکا ہو یا لڑکی سب کی خواہش یہی ہوتی ہیکہ اس کو اس کا من پسند جوڑا ملے، ازدواجی زندگی خوشگوار ہو تو پوری زندگی سنور جاتی ہے اسی لیئے تاجدار انبیاء نے کہا کہ ’’ پوری دنیا مال ودولت سے لیث ہے مگر اس میں بہترین دولت نیک بیوی ہے‘‘(سنن نسائی) پسند کی شادی کرنا اور اپنی پسند کو اپنے والدین کے سامنے رکھنا کوئی برا فعل نہیں، یہ وہ فعل ہے جس کی اجازت رب کریم کا کلام دیتا ہے،مگر نکاح سے پہلے کوئی بھی فعل بد گناہ عظیم ہے، سچی محبت ہے تو صحیح راستہ اختیار کر کے اسے انجام تک پہونچائیں، یہ یورپ کی تہذیب و تمدن کا پٹا اپنے گردنوں سے اتار پھینکیں، سماج و معاشرہ کیا کہے گااس کی فکر نہ کریں آپ کے کس فعل سے آپ کا رب آپ سے روٹھ جاتا ہے اس کی فکر کریں، لوگ آج ہیں کل نہیں رہیں گے لیکن وہ رب آج بھی ہے کل بھی تھا اور آئندہ بھی رہے گا،
برداشت کریں مگر کوئی غلط کام نہیں، خواہشات سب کے اندر ہوتی ہیں اور اس کی تکمیل کا جائز طریقہ بھی کلام اللہ نے بتلایا ہے لہذا اس جائز طریقے کو سینے سے لگا لیں، اگر کوئی لڑکا آپ سے محبت کرتا ہے اور نکاح سے انکار یا نکاح کی بات سن کر ٹال مٹول کرتا ہے تو جان لیں کہ وہ محبت نہیں کرتا، اگر حقیقی محبت ہے تو اللہ کی رضا کیلئے ہونی چاہیئے، نکاح سے پہلے اپنے پسندیدہ شخص سے بات کرنا تو دور شریعت اگر ملنے کی بھی اجازت دیتا ہے تو ایک محرم کی موجودگی میں، یہ سب جانتے ہوئے بھی اگر آپ کسی غیرمحرم سے خلوت اختیار کرتی ہیں تو اس کا مجرم کون؟اگر وہ شخص آپ کا استعمال کرتا ہے تو اس کا مجرم کون؟
اگر وہ شخص آپ کے حد درجہ قریب آ جاتا ہے تو اس کا مجرم کون؟
ایک بات یاد رکھیں لڑکی کے بغیر اجازت کے کوئی لڑکا اس کے اتنے قریب نہیں آ سکتا کہ اس کا ہاتھ بھی چھو سکے، آپ چھوٹ دیں گی تو ظاہر ہے وہ اس کا استعمال کریگا، چلیں مانا کہ آپ کا ارادہ نکاح کا تھا اور اسی ارادے سے آپ نے باتیں کی اور خلوت اختیار کی جبکہ شریعت اس کی اجازت نہیں دیتا مگر پھر بھی اگر یہ فعل بد آپ نے کیا تو پھر نکاح ہوا کیوں نہیں؟ والدین کی رضامندی ہونے کے باوجود بھی اگر نکاح نہیں ہوا تو اس کا مجرم کون؟ معذرت کے ساتھ اپنے شعور پہ پڑے خوش فہمی کے تالوں میں آگاہی کا تیل ڈالیں اور انہیں کھولیں۔
جوانی کے جوشمیں کسی لڑکی کو متاثر کرنے والا مرد قابل ستائش نہیں ہوتا،قابل ستائش وہ مرد ہے جسے آپ باپ اور بھائیوں کے سامنے کھڑا کریں تو وہ اسے رد نہ کرسکیں۔اگر آپ کا پسندیدہ مرد ایسا نہیں ہے تو میرا مشورہ ہے اپنے ناپسندیدہ مرد کو قبول کرلیں۔ایک دن وہ آپ کے لیے پسندیدہ مرد بن جائے گا ان شاء اللہ۔میں آپ کی اداسی ختم کرنے کے لیے اور تو کچھ نہیں کرسکتا ہاں میں اپنے الفاظ سے آپ کو تسلی ضرور دے سکتا ہوں، اگر ناپسندیدہ مرد سے شادی ہوئی ہے تو اسے قبول کریں ، شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور اگر سب کچھ کرنے کے بعد بھی آپ کو سکون نہیں ملتا تو اس رب سے دعاء خیر کریں ،
اسکا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا ، وہ اپنے بندوںکو یوں تڑپتا ہوا نہیں چھوڑسکتا،اس کی صفت رحمان ہے اس کے غضبپر اس کی رحمت و شفقت ہاوی ہے، اور رہے وہ والدین جو اپنی پسند اپنی بیٹیوں پر تھوپتے ہیں تو ان سے گزارش کرونگا کہ ذرا رب کائنات کے کلام اور سرور انبیاء کے ارشادات کو پڑھ لیں، جیسا کہ نبی کونین کا ارشاد ہے ’’ دو محبت کرنے والوں کیلیئے میں نکاح سے بہتر کچھ نہیں پاتاہوں‘‘ (نسائی) یا تو آپ اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اپنی بچیوں کی پسند کو ترجیح دیں یا اس حدیث کے برخلاف عمل کرتے ہوئے اپنی پسند اپنی بیٹیوں پر تھوپ دیں اور قیامت کے دن جواب دینے کیلئے تیار ہو جائیں،شاید کچھ لوگ یہ کہیں کہ والدین اپنے بچوں کیلیئے غلط فیصلہ تو نہیں کریں گے نا۔
بالکل صحیح بات ہے ، لیکن اس سے پہلے اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیئے کہ والدین کو اپنی بیٹیوں کی پسند اور ناپسند کے بارے میں کتنا علم ہے، ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں تو بیٹی کو اپنی پسند کا اظہار کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے ،تو پھر ایسی صورت میں والدین کا کیا فرض بنتا ہے؟ ذرا ہوش کے ناخن لیں اور اپنی بچیوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ مت کریں، انہیں زندگی بسر کرنی ہے اور وہ اپنی پسند کا اظہار کرنے کا پورا حق رکھتی ہیں، اب رہیں وہ لڑکیاں جن کے شوہر ان پر ظلم و ستم ڈھاتے ہیں تو اس کا بھی علاج شریعت مطہرہ نے بتلایا ہے، بغیر کسی جھجھک کے آپ خلع لے سکتی ہیں
سنت نبویہ میں اس کی دلیل ثابت بن شماس رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی کی حدیث ہے۔ثابت بن شماس رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اورکہنے لگی: اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت بن قیس پر کوئی دینی یا اخلاقی عیب نہیں لگاتی، لیکن میں اسلام میں کفرکوناپسند کرتی ہوں۔تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرما یا کہ آیا تواس کا باغ واپس کرتی ہے؟
یہ باغ انہوں نے اسے مہر میں دیا تھا، تووہ کہنے لگی جی ہاں، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنا باغ قبول کرلو اوراسے چھوڑدو۔ صحیح بخاری حدیث نمبر (5273)۔علماء کرام نے اس قصہ سے یہ استنباط کیا ہے کہ جب عورت اپنے خاوند کے ساتھ رہنا نہ چاہیتومہر لوٹا دے اور خلع واقع ہو جائے گا ، میں رب تعالیٰ کی بارگاہ میں سبھی بیٹیوںکے لیے ہاتھ اٹھا کر خیر مانگتا ہوں۔اللہ سبکے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ آمین۔



