سیاسی و مذہبی مضامین

نہ ایک روپیہ کم نہ ایک روپیہ زیادہ   

نہ ایک روپیہ کم نہ ایک روپیہ زیادہ   
مدرے منیر احمد

نہ ایک روپیہ کم نہ ایک روپیہ زیادہ   
مدرے منیر احمد ، وانم باڑی
عرفان حسین ریاست پنجاب کے شہر لدھیانہ میں چمڑے کا کاروبار کرتے تھے ، وہ وہاں سے چمڑا خرید کر مدراس روانہ کرتے تھے۔ سارا کاروبار قرض پر ہوتا تھا۔ سال رواں میں لاک ڈائون اور کوویڈ کی وجہ سے اس کے خریدار کو کافی نقصان کا سامنا ہوا۔ ان لوگوں نے اس کو قرض واپس نہیں ادا کئے۔ مقامی لوگ رقم کا سختی سے تقاضا کرنے لگے، نوبت جھگڑے اور مار پیٹ تک آگئی۔ تنگ آکر وہ وہاں سے نکل کر مدراس آگیا۔ اکبر لیدرس ایک بڑی فرم تھی۔ایک دن بعد نماز عصر اکبر لیدرس کا مالک اکبر جو عرفان کا کلاس فیلو تھا سے آمنا سامنا گیٹ پر ہوئی، دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔ اکبر نے بتایا کہ اس کو سنگاپور کی ایک فرم سے بڑا آرڈر ملا ہے۔ اس کو چمڑے کی سخت ضرورت ہے۔ اس لئے اگر وہ چاہے تو اس کے لئے چمڑا خرید سکتا ہے۔عرفان نے کہا نیکی اور پوچھ پوچھ میں تو اسی وقت کا انتظام کررہا تھا۔تمہارا آفر تو مجھے ایک نعمت خداوندی ہے۔ اکبر نے کہا اچھا تو کل دس بجے آفس آجانا میں وہیںپر پانچ لاکھ کا ڈی ڈی لے لینا۔ عرفان پانچ لاکھ لے کر لدھیانہ پہنچا اور اپنے تمام قرضداروں کو جمع کیا، اور کہا کہ میں آپ کا تمام کا پرانا قرض دے دیتا ہوں۔ اس کے بدلے میں مجھے آپ نے نئے طور پر قرض دینا ہوگا۔ سبھی نے حامی بھرلی۔ اور رقم لے کر چل دئے ۔ اگلے دن وہ مال کے لئے فون کیا تو انہوں نے کہا کہ مال تو ضرور دینگے۔ مگر رقم کی ادائیگی نقد ہوگی۔ قرض کی گنجائش نہیں ۔ عرفان اب خالی ہاتھ ہوچکا تھا۔سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ وہ فوراً اکبر صاحب کو فون لگایا اور سارا حال سنایا ۔ تمام بات سن کر اکبر نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ایسا کرو کہ اور مزید پانچ لاکھ بھیجتا ہوں۔ اس سے کام شروع کرو، اس طرح کاروبار کرتے کرتے چھ ماہ گزر گئے۔ مار کیٹ میں عرفان کی کھوی ہوئی ساکھ دوبارہ بحال ہوگئی۔ اب لوگوںپھر سے اس پر اعتماد کرنے لگے ، پانچ لاکھ تک کا قرض ملنے لگا۔ جیسے ہی پانچ لاکھ کا مال مل گیا تو اکبر نے فون کرکے کہا کہ اب اس کو مال کی ضرورت نہیں ہے، اور کوئی رقم اس کے ذمہ واجب الادا نہیں ہے۔ اور رہی بات تمہارے قرض کی وہ تم جانو یا تمہارے قرض دار ۔ یہ کہہ کر لائن کاٹ دی.

مزید مضامین

متعلقہ خبریں

Back to top button