والدین سے حسن سلوک جہاد سے بھی افضل اور نافرمانی قتل سے بھی بڑا جرم

عبدالحلیم اطہر سہروردی ، صحافی و ادیب روزنامہ کے بی این ٹائمز گلبرگہ (کرناٹک)
اسلام دین فطرت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔مذہبِ اسلام جس کے ہم ماننے والے ہیں، جسکی فرماں برداری کا ہم نے اعلان کیاہے۔ اور جس اسلام نے ہم کو عزت بخشی ہے، وہ صرف ایک دین ہی نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات اورمستقل تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہے۔ اس دین میں عبادات، نماز، روزہ ،زکات، حج وغیرہ سے لیکر کھانے، پینے، سونے جاگنے، شادی بیاہ۔ حتی کہ جوبشری تقاضے ہیں، اسکی بھی رہنمائی اور ہدایات موجود ہیں۔والدین سے حسن سلوک کو اسلام نے اپنی اساسی تعلیم قرار دیا ہے۔ اور ان کے ساتھ مطلوبہ سلوک بیان کرنے کے لئے احسان کی جامع اصطلاح استعمال کی جس کے معانی کمال درجہ کا حسن سلوک ہے۔اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں باندھاہے ،
ان میں کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں کا درجہ دیا ہے اور کسی کوبیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی پاکیزہ نسبت عطا کی ہے؛ ر شتے بناکر اللہ تعالی نے ان کے حقوق بھی مقر ر فرمادیے ہیں ، ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کر نا ضروری ہے ، لیکن والد ین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں اپنی بندگی اورا طاعت کے فوراً بعد ذکر فرمایا ، یہ اس بات کی طرف اشا رہ ہے کہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے ۔قرآن وحدیث میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنی توحید وعبادت کا حکم دینے کے ساتھ والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے، جس سے والدین کی اطاعت ان کی خدمت اور ان کے ادب واحترام کی اہمیت واضح ہوجا تی ہے۔ احادیث میں بھی والدین کی فرمانبرداری کی خاص اہمیت وتاکید اور اسکی فضیلت بیان کی گئی ہے۔جس طرح قرآن حکیم میں والدین کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے اسی طرح کئی احادیثِ مبارکہ میں بھی والدین کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
قرآن مجید (سورہ بنی اسرائیل اور سورہ لقمان (میں ماں باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم اللہ نے توحید اور عبادت کے ساتھ ساتھ دیا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اپنے حق کے فورابعد والدین کے حقوق کی بات کی ہے۔حقوق العباد میں سب سے پہلے والدین کے حقوق آتے ہیں۔ والدین کو راضی کر کے جنت کے حقدار بن جائیں یا ناراض کر کے جہنم کے حقدار بن جائیں فیصلہ آپکا اپنا ہے۔اسلام دوحصوں پرمحیط ہے۔ ایک حقوق اﷲ۔یعنی نماز، روزہ، زکات، حج وغیرہ۔ دوسراحقوق العبادیعنی بندوں پر ایکدوسرے کے کیا حقوق ہیں۔
اس کے متعلق اﷲتبارک وتعالیٰ نے سب سے پہلے والدین کے حق کو مقدم کیا ہے۔ارشاد باری ہے:ہم نے انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے (سورۃ الاحقاف آیۃ پندرہ)۔ہر مرد اور عورت پر اپنے ماں باپ کے حقوق ادا کرنا فرض ہے۔ والدین کے حقوق کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد ہوتاہے’’اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو‘‘o اور ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجزو انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھاoاللہ تعالی نے جہاں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے وہیں پر ان کے لیے دعا کرنے کی تعلیم بھی ارشاد فرمائی ہے؛
چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراًیعنی: اے میرے پروردگار! تو میرے والدین پر رحم فر ماجیسا کہ انھوں نے بچپن میں (رحمت و شفقت کے ساتھ) میری پرورش کی ہے۔ہر نماز کے بعدوالدین کے لیے دعا کرنے کا معمول بنالیں، دو بہت آسان دعائیں جن کی تعلیم خود اللہ جلَّ شانہُ نے قرآن کریم میں دی ہے، ایک ماقبل والی اور دوسری یہ: رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ یعنی اے میرے پروردگار ! روزحساب تو میری، میرے والدین کی اور تمام ایمان والوں کی بخشش فرما۔
ایک مرتبہ سرور کونین رحمت العالمینﷺ نے ممبر پرچڑھتے ہوئے تین مرتبہ آمین فرمایا : بعد ازاں صحابہ کرام میں سے کسی نے سوا ل کیایارسول اللہﷺ ! کیابات ہے آپ ؐنے خلاف معمول تین مرتبہ آمین فرمایا : اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جب میں ممبر پرچڑھ رہاتھا ، اپنا ایک قدم ممبر پررکھا توجبرئیل علیہ السلام نے کہا: اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جس کواس کی زندگی میں والدین یادونوں میں کوئی ملے ہوں اوراس نے انہیں راضی نہیںکیا۔ تو میں نے آمین کہا، اوردوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو جبرئیل علیہ السلام نے کہاکہ وہ شخص ہلاک ہو جائے جس کو ماہ رمضان ملا ہواور اس کی مغفرت نہ ہوئی ہو تومیں نے آمین کہا، اورجب میں نے تیسراقدم رکھا توجبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیاگیاہو اوراس نے مجھ پر صلوۃ وسلام نہ بھیجاہو ، تو میں نے آمین کہا۔( الحدیث : باب فضائل رمضان )حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کی ناک غبار آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و رسوا ہو)۔ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہﷺ! وہ کون ہے؟ حضور ؐنے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔
احادیث میں ہیکہ ماں باپ کی نافرمانی کبیرہ گُناہ ہے۔کبیرہ گُناہ وہ ہوتا ہے جس کے ارتکاب پر قرآن کریم یا حدیث شریف میں سخت وعید وارد ہو۔حقوق العباد میں سب سے مقدّم والدین کے حقوق ہیں،جو شخص والدین کی نافرمانی کرتا ہے وہ قاتل سے بھی بڑھ کر مجرم ہے۔اللہ تعالیٰ نے ماؤں کی نافرمانی کو حرام قرار دیا ہے-ماں باپ دونوں کی نافرمانی سے بچنا ضروری ہے۔حتی کہ ماں باپ کے دوستوں، رشتے داروںاور جن کا اکرام مستحب ہے اُن سب سے حسنِ سلوک بھی ضروری ہے۔
حدیث کی رُو سے سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ سے دوستانہ تعلقات رکھنے والوں سے تعلق جوڑ کر رکھے(یعنی باپ کی محبّت اور دوستی کو نبھائے۔ماں باپ کی وفات کے بعد اُن کے رشتے داروںاوردوستوں سے تعلق برقرار رکھنا اور اُن سے حسنِ سلوک کا معاملہ کرنا بہت بڑی نیکی اور صِلہ رحمی کا تقاضا ہے،ماں باپ کے رشتے داروںاوردوستوں کو فراموش کر دینا اور اُن سے تعلق اُستوار نہ رکھنا شرعاً سخت ناپسندیدہ ہے۔حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا جو سعادت مند اولاد اپنے والدین کو محبت کی نظر سے دیکھتی ہے اللہ تعالی اس کی ہر نظر پر حج مبرور یعنی مقبول حج کا ثواب دے گا ،
صحابیؓ نے عرض کیا اگرچہ روزانہ 100مرتبہ دیکھے رسول اللہﷺنے فرمایا ہاں اللہ کی ذات بہت بڑی اور پاک ہے(بہیقی) نبی اکرم ﷺنے فرمایا کہ تمھارے ماں باپ تمھارے لئے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی ہیں(سنن ابن ماجہ)،ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے اور ماں باپ کو ناراض کرنے والے کے لئے نبی رحمت ﷺنے بد دعا فرمائی ہے۔صحابیؓ نے رحمت العالمین ﷺسے سوال کیا مجھ پر خدمت اور حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے تو آپ ؐنے تین مرتبہ ماں کا کہا اور چوتھی مرتبہ سوال کرنے پر فرمایا کہ باپ کا ہے اور فرمایا کہ اگر ماں باپ ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کرناادب و احترام اور حسن سلوک کا معاملہ رکھنا اور فرمایا کہ اللہ کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا عمل بہت پسند ہے ۔
امام طبرانی نے اس حدیث پاک کو نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیںنبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاوالد کی اطاعت میں اﷲ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ والدین کی نافرمانی اﷲتعالیٰ کی نافرمانی ہے۔مشکوۃ المصابیح میں حضرت ابوامامہ رضی اﷲعنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں عرض کیا: یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم والدین کا اولاد پر کیا حق ہے؟ ارشاد فرمایا: ھماجنتک و نارک ۔ وہ دونوں تمہاری جنت اور دوزخ ہیں۔والدین کے ساتھ حسن سلوک رزق و عمر میں اضا فہ کا سبب ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یعنی جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کی عمر دراز کردے اور رزق میں اضافہ فرمائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔
ایک حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تم اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو تمہا ری اولاد تمھارے ساتھ حسن سلوک کرے گی۔حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کس طرح کیا جائے ؟ تو انھوں نے فرما یا: تو ان پر اپنا مال خرچ کر ، اور وہ تجھے جو حکم دیں اس کی تعمیل کر ، ہاں اگر گناہ کا حکم دیں تو مت مان ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے فر ما یا کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ تم ان کے سامنے اپنے کپڑے بھی مت جھا ڑو، کہیں کپڑوں کا غبا ر اور دھول ان کو لگ نہ جا ئے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ کو کونسا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کی فرمانبرداری۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ بخاری، مسلم۔ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر دریافت کیا: میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کو ن ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری ماں ۔ اس شخص نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا باپ۔ بخاری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باپ جنت کے دروازوں میں سے بہترین دروازہ ہے۔ چنانچہ تمہیں اختیار ہے خواہ (اس کی نافرمانی کرکے اور دل دکھاکے) اس دروازہ کو ضائع کردو یا (اس کی فرمانبرداری اور اس کو راضی رکھ کر) اس دروازہ کی حفاظت کرو۔ ترمذی۔رسول اللہ ﷺسے جب بڑے گناہوں کے بارے میں دریافت کیا گیا توآپ ؐنے فرمایا خداکے ساتھ شریک ٹھہرانا ،ماں باپ کی نافرمانی و ایذارسانی کرنا،کسی بندہ کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا(بخاری شریف) والدین کے جواحسانات اولاد پر ہیںوہ تمام عمر کی خدمت سے بھی ادا نہیں ہو سکتے والدین نے پرورش کی ،مشقتیں اٹھائیں وہ سب معروف اور معلوم ہیں اس کے باوجود اگر کوئی تنگ دل شخص والدین کے حقوق ادا نہیں کرتا اور انہیںدکھ دیتا ہے تو وہ درحقیقت ایمان کی حقیقی دولت سے محروم ہے ۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء نے والدین کے حسب ذیل بعض حقوق مرتب کئے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کے حقوق ادا کرنے والا بنائے :دوران حیات حقوق: ان کا ادب واحترام کرنا۔ ان سے محبت کرنا۔ ان کی فرمانبرداری کرنا۔ ان کی خدمت کرنا۔ ان کو حتی الامکان آرام پہنچانا۔ ان کی ضروریات پوری کرنا۔ وقتاً فوقتاً ان سے ملاقات کرنا۔
بعد از وفات حقوق: ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی اور رحمت کی دعائیں کرنا۔ ان کی جانب سے ایسے اعمال کرناجن کا ثواب ان تک پہنچے۔ ان کے رشتے دار ، دوست ومتعلقین کی عزت کرنا۔ ان کے رشتے دار ، دوست ومتعلقین کی حتی الامکان مدد کرنا۔ ان کی امانت وقرض ادا کرنا۔ ان کی جائز وصیت پر عمل کرنا۔ کبھی کبھی ان کی قبر پر جانا ۔
نوٹ: والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاد کے درمیان مساوات قائم رکھیں اور ان کے حقوق کی ادائیگی کریں۔ عموماً غیر شادی شدہ اولاد سے محبت کچھ زیادہ ہوجاتی ہے، جس پر پکڑ نہیں ہے، لیکن بڑی اولاد کے مقابلے میں چھوٹی اولاد کو معاملات میں ترجیح دینا مناسب نہیں ہے، جس کی وجہ سے گھریلو مسائل پیدا ہوتے ہیں، لہذا والدین کو حتی الامکان اولاد کے درمیان برابری کا معاملہ کرنا چاہئے۔ اگر اولاد گھر وغیرہ کے اخراجات کے لئے باپ کو رقم دیتی ہے تو اس کا صحیح استعمال ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کی فرمانبردای کرنے والا بنائے اور ہماری اولاد کو بھی ان حقوق کی ادائیگی کرنے والا بنائے۔
یاد رہیکہ ٭ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔٭ باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔٭ رب کی رضامندی والدین کی رضامندی پرہے۔٭ رب کی ناراضگی والدین کی ناراضگی پر ہے۔٭ والدین کی فرمابرداری میں اﷲتعالیٰ کی فرمابرداری ہے۔٭ والدین کی نافرمانی میں اﷲتعالیٰ کی نافرمانی ہے۔
والدین کی خدمت و اطاعت اور تعظیم و تکریم عمر کے ہر حصے میں واجب ہے بوڑھے ہوں یا جوان، لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت سے ہے کہ اس عمر میں جاکر ماں باپ بھی بعض مرتبہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور عقل و فہم بھی جواب دینے لگتی ہے اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔ وہ خدمت کے محتاج ہوجاتے ہیں تو ان کی خواہشات و مطالبات بھی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا اولاد کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم میں والدین کی دلجوئی اور راحت رسانی کے احکام دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت (یعنی بچپن کا زمانہ) یاد دلایا کہ کسی وقت تم بھی اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بے عقلی کی باتوں کو پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جبکہ ان پر محتاجی کا یہ وقت آیا تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ ان کے ان سابق احسان کا بدلہ ادا کرو۔والدین کے ساتھ حسن سلوک کا بار بارتذکرہ آیا ہے والدین کا بڑا مقام ہے اور یہ مقام اللہ نے خودطے کر دیا ہے والدین حسن سلوک و آداب واحترام کے سب سے زیادہ حق دار ہیں ۔اولاد کی خوش بختی ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت کرے، وہ دنیا سے رخصت ہو جائیں تو ان کے لئے مغفرت کی دعا کرے ،اولاد کے نیک اعمال والدین کی بخشش اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
والدین ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں ، مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیتے ہیں ،یہاں تک کہ جب تک ہم بڑے نہیں ہوجاتے ہمارا ہر چھوٹے سے چھوٹا کام بھی ہمارے والدین ہی کرتے ہیں ۔پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انہیں ہماری ضرورت پڑنے لگتی ہے ۔ جس طرح بچپن میں ہم اپنے ہر کام کے لیے اپنے والدین کو ڈھونڈتے تھے آج وہ اپنے کاموں کے لیے ہماری طرف دیکھتے ہیں۔ اسی طرح انسان کے کردار بدلتے جاتے ہیں ۔زندگی کے ایک حصے میں وہ اپنی ضروریات کے لیے جس پر منحصر ہوتا ہے دوسرے حصے میں وہ اسی کا نگران بن جاتا ہے ۔ وقت کا پہیہ اسی طرح گھومتا رہتاہے ۔ لیکن کیا ہم اپنے کردار صحیحطرح ادا کررہے ہیں ؟
یہ ایک سوال ہے جو ہمیں اپنے آپ سے اکثرپوچھتے رہنا چاہیے۔زندگی میں آگے بڑھنے کی دوڑمیں ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نے اپنے والدین کوکہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہماری طرح ہمارے والدین کی عمر بھی بڑھ رہی ہے ۔ وہ بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں ۔ جو کل ہمارا سہارا بنتے تھے آج انہیں لاٹھی کی ضرورت ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو یہ رب العزت کی جانب سے دیا گیا ایک زبردست موقع ہے جب ہم والدین کی عظیم محبت ، تعاون اور دیکھ بھال کاشکریہ ادا کرسکتے ہیں ،
چونکہ اس بے لوث احسان کا بدلہ اتارناتو ہمارے بس کی بات نہیں ۔ اس مقصد کو پورا کرنے کا بہترین ذریعہ اپنے والدین کا خیال رکھنا ہے ۔ البتہ ہمیں پہلے یہ جاننا ہوگا کہ خیال رکھنا کہتے کسے ہیں؟یہ حقیقت ہے کہ ہم جنھیں زندگی بھر اپنا سربراہ مانتے آئے ان کے بارے میں یہ سوچنا مشکل ہے کہ وہ اب ہماری محبت اور توجہ چاہتے ہیں ۔ جن پر ہماری دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری تھی اب ہمیں ان کی دیکھ بھال کرنی ہے ، لیکن اگر ہم والدین کو ہی اپنا رول ماڈل بنا لیں تو یہ ذمہ داری ہمیں ذمہ داری نہیں لگے گی ۔ہمیں چاہیے کہ جب بھی ہمارے والدین کے ساتھ ہمارا رشتہ کمزور ہونے لگے ہم یہ سوچیں کہ ایسے موقع پہ ہمارے والدین ہمارے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے یا وہ اس تعلق کو پھر سے کس طرح استوار کرتے ۔ دیکھ بھال کرنا یا خیال کرنا کیا ہوتا ہے یہ ماں باپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔
جس طرح ہم نے باقی چیزیں ان سے سیکھیں ہیں ہمیں خیال رکھنا بھی اپنے والدین سے ہی سیکھنا چاہیے۔اگر ہم یہ ذمہ داری پوری ایمانداری کے ساتھ نبھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف ہماری یہ زندگی ہی نہیںبلکہ آئندہ آنے والی دائمی زندگی بھی ہمارے اس عمل سے سنور سکتی ہے اور ہم اپنی اولاد کے سامنے بھی ایک اچھی مثال قائم کرسکتے ہیں۔جو اولاد دینی تقاضوں سے بے خبر ہوتی ہے وہ ماں باپ کے حقوق سے بھی نا واقف ہوتی ہے فیشن کی پرستار اس اولاد کے نزدیک ماں باپ کی حیثیت گھر کے بوڑھے ملازم سے بھی کم ہوتی ہے اب ماں باپ کو ان کے پاس رہنا تو ہوتا ہے مگر دل ہی دل میں گھٹ گھٹ کر جی رہے ہوتے ہیں اور ان کی زندگی مر مر کر جینالہو آنے کا پیناکا مصداق بن جاتی ہے۔ اور نافرمان اولاد نہ زندگی میں ماں باپ کا اکرام و احترام کرتی ہے نہ موت کے بعد ان کے لیے استغفار کرتی ہے نہ ان کے نام کا صدقہ دیتی ہے نہ ان کے لیے دعا کرتی ہے ۔قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بات طئے ہے کہ والدین کی نافرمانی بہت بڑا گناہ ہے۔
والدین کی ناراضگی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔ لہذا ہمیں والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ خاص کر جب والدین یا دونوں میں سے کوئی بڑھاپے کو پہنچ جائے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا حتی کہ ان کو اُف تک نہیں کہنا چاہئے۔ ادب واحترام اورمحبت وخلوص کے ساتھ ان کی خدمت کرنی چاہئے۔ ممکن ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے ان کی کچھ باتیں یا اعمال آپ کو پسند نہ آئیں، آپ اس پر صبر کریں، اللہ تعالیٰ اس صبر کرنے پر بھی اجر عظیم عطا فرمائے گا، ان شاء اللہ۔
آخر میں التجاء ہیکہ جن کے والدین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک باحیات ہوں تو ان کو اللہ کی بہت بڑی نعمت سمجھ کر ان کی فرمانبرداری کریں، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، جتنا ہوسکے ان کی خدمت کریں اور ان کے حقوق کو ادا کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور جن کے والدین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہوں توان کے ساتھ اب حسن سلوک یہ ہے کہ ان کے لیے دعا کریں، اللہ سے ان کے لیے رحمت و مغفرت طلب کریں ،ان کی طرف سے صدقہ کریں ،
ان کی طرف سے نفلی حج و عمرہ کریں ،ان کے ایصال ثواب کیلئیمساجد ،دینی مدارس کی ضروریات کو پورا کرنے میں تعاون کریں،والدین کے قریبی رشتہ داروں اور تعلق والوں کے ساتھ حسن سلوک کریں، نفلی اعمال کر کے ان کے لیے ایصالِ ثواب کریں،اللہ تعالیٰ تمام اہلِ ایمان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی توفیق سے نوازے اور والدین کا سایہ ہم پر تادیر سلامتی کے ساتھ قائم رکھے۔، آمین، ثم آمین۔



