سیاسی و مذہبی مضامین

واٹس ایپ کی نئی پالیسی اوراس کے ذریعہ پھیلائی گئیں غلط فہمیاں

واٹس ایپ کی نئی پالیسی اوراس کے ذریعہ پھیلائی گئیں غلط فہمیاں
حافظ مجاہد الاسلام عظیم آبادی
منتظم البروج انٹرنیشنل اسکول پٹنہ واَونرروح حیات سینٹر (یوٹیوب)

عموما اس طرح کے موضوعات پر قلم نہیں اٹھاتا ہوں، لیکن واٹس کی نئی پالیسی کو لیکر لوگوں کے درمیان غلط فہمیوں کو دیکھ کر یہ محسوس ہوا کہ شاید لوگوں نے اس کو صحیح سے سمجھا نہیں یا شاید واٹس ایپ نے صحیح سے سمجھایا نہیں، خیر علم کسی بھی طرح کا ہو اگر اس سے لوگوں کا فائدہ ہوتو ہر کس و ناکس تک پہونچا دینا ہی ہمارا فریضہ ہے،

جیسا کہ کچھ دنوں قبل واٹس ایپ نے اپنی پرائیویسی پالیسی اپڈیٹ کی جس کے تحت واٹس ایپ اب اپنا ڈیٹا فیس بک یا فیس بک استعمال کرنے والی دوسری کمپنیوں کو شئر کر یگی، اگر آپ ۰۸ فروری تک اس پرائیویسی پالیسی کو قبول نہیں کرتے ہیں تو آپ کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ڈلیٹ بھی کیا جا سکتا ہے،

عام طور پر ہماری تو یہ عادت ہیکہ ہم کسی بھی کمپنی یا ایپ کے ذریعہ بنائی گئی پرائیویسی پالیسی کو نہیں پڑھتے ہیں اور AGREEکے بٹن پر کلک کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر اس بار یہ اپڈیٹ اتنی سرخیوں میں اس لیئے ہے کیونکہ بڑے بڑے BUSINESSMENنے اس کے خلاف آواز اٹھائی ، فی الحال دنیا کے سب سے مالدار انسان ELUN MUSK نے بھی جب اس کے خلاف ٹویٹ کیا تب لوگوں کو سمجھ آیا کہ ہاں ہماری پرائیویسی بھی کچھ اہمیت رکھتی ہے ورنہ سچ سچ بتائیں کیا اس سے پہلے کبھی بھی کسی کمپنی کی پرائیویسی پالیسی پر ہم نے اتنا توجہ دیاہے؟

شاید نہیں، واٹس ایپ کے اس نئے اپڈیٹ پر آئے دن اخبارات میں مضامین پڑھ رہاہوں اور اکثر مضامین کا لب لباب یہی ہیکہ واٹس ایپ کا استعمال بند کیا جائے حتی کے کسی نے یہ تک لکھ دیا کہ واٹس ایپ کمپنی اب آپ کی تصاویر اور میسجز تک کو دیکھ اورپڑھ سکتی ہے جبکہ اب بھی واٹس ایپ کا یہ دعوی ہیکہ ہم صارفین کے کسی بھی میسج کو نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی دیکھ سکتے ہیں ،

ان تمام نئی پالیسی کے بعد بھی واٹس ایپ ’’فیس بک اور انسٹاگرام میسنجرز ‘‘ سے کہیں زیادہ محفوظ ہے، واٹس ایپ کے نئے اپڈیٹ بہت کم ہی لوگوں نے صحیح سے سمجھا ہے، جن لوگوں کو یہ لگتا ہیکہ واٹس ایپ کمپنی اب ان کے میسجز پڑھ سکتی ہے تو میں سب سے پہلے ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنا چاہوں گا، واٹس ایپ میں END TO END ENCRYPTIONکے نام سے ایک فیچر ہے جس کے تحت واٹس ایپ کا یہ دعوی ہیکہ جو میسج آپ اگلے کو کرتے ہیں وہ صرف آپ دونوں کے بیچ میں ہی رہتا ہے حتی کے واٹس ایپ خود بھی آپ کے میسجز نہیں پڑھ سکتا، اور END TO END ENCRYPTION کا مطلب بھی یہی ہوتا ہیکہ آپ کا کوئی بھی میسج صرف دو لوگوں کے بیچ میں ہی رہتا ہے خود کمپنی بھی اسے نہ دیکھ سکتی ہے اور نہ ہی پڑھ سکتی ہے ،

جبکہ فیس بک اور انسٹاگرام پر ایسا نہیں ہے، مثلا آپ کو اگر ایک نئی CAR لینی ہے تو آپ اپنے کسی دوست کو فیس بک میسنجر پر میسج کرتے ہیں کہ بھائی مجھے ایک CARلینی ہے لہذا تم کوئی بہترین کمپنی مجھے بتلا دو، آپ نے اگر کبھی غور نہیں کیا تو اب ایک بار ٹیسٹ کر کے دیکھ لیں جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے اسی قسم کے ایڈز آپ کو ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں، کیا کبھی غور کیا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ فیس بک اور انسٹا گرام آپ کے میسجز کو دیکھتے ہیں اور وہاں سے آپ کے KEYWORDSکو کاپی کیا جاتاہے اور پھر اسی نسبت کے آپ کو ایڈز بھی دکھائے جاتے ہیں،

ویسے تو اگرسن 2014کی واٹس ایپ پالیسی کو مدنظر رکھیں تو اسمیں انہوں نے صاف ذکر کیا ہیکہ وہ کسی بھی طرح کا کوئی ایڈ اپنے پلیٹ فارم پر نہیں دکھائیں گے اور نہ ہی آپ کے واٹس ایپ میسجز سے کمپنی کوئی فائدہ اٹھائیگی یہ اصول اب بھی موجود ہے مگر واٹس ایپ نے اب اپنے الفاظ میں رد و بدل کرتے ہوئے لکھا ہیکہ ’’ہم آپ کے میسجز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا ئیں گے اور اگر مستقبل میں ہم نے اپنے پلیٹ فارم پر کبھی کوئی ایڈ دکھایا تو صارفین کو اس بارے میں ضرور اطلاع کیا جائے گا‘‘ ان تمام باتوں سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہیکہ ہمارے میسجز اور تصاویر وغیرہ محفوظ ہیں،

البتہ اس بات کو ذہن نشین کرتے چلیں کہ اگر آپ WHATSAPP BUSINESS کا استعمال کرتے ہیں تو اس صورت میں واٹس ایپ کمپنی آپ کے میسجز پڑھ سکتی ہے اور اس کا ڈیٹا شئر بھی کیا جا سکتا ہے، اس لئے آپ سبھی واٹس ایپ بزنس ایپ کے صارفین سے یہ گزارش ہوگی کہ کسی بھی کمپنی سے واٹس ایپ بزنس پر کوئی بات نہ کریں اور نہ ہی اپنے بینک تفصیلات وغیرہ شئر کریں کیونکہ اس کا غلط استعمال بھی کیا جا سکتا ہے، کچھ ضرورت ہو تو ایمیل پر ہی کسی کمپنی سے بات کریں، اب شاید کچھ لوگ یہ کہیں کہ کیا فائدہ END TO END ENCRYPTION کا ؟آئے دن لوگوں کے چیٹ لیک ہوتے رہتے ہیں، جیسے سوشانت سنگھ والے مسئلے پر ریا چکرورتی اور دیپپیکا پاڈوکون کے چیٹس لیک کئے گئے تھے، اور ابھی کل کی ہی بات ہے جب ارنب گوسوامی کے پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل چیٹ منظر عام پر آئے ہیں، تو آپ کو یہ بات میں بتلاتا چلوں کہ چاہے بڑی سے بڑی سیکیورٹی کا آپ استعمال کر لیں یا لاکھوں خرچ کر کے اپنے چیٹ کو محفوظ کر لیں ان سب کے باوجود بھی اگر ایک ہیکر چاہے تو آپ کے سارے میسجز اور میل کو ہیک کر سکتا ہے،

ہیکرز سے اپنے آپ کو بچانے کا شاید ہی کوئی راستہ موجود ہے البتہ یہ ضرور کہوں گے جتنا ہو سکے اپنی سیکیورٹی اور پاسورڈ کو مضبوط بنائیں اور ہر جگہ TWO STEP VERIFICATION کا استعمال کریں ، اب سوال یہ اٹھتا ہیکہ آخر واٹس ایپ کس طرح کا ڈیٹا ہم سے حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کی فہرست یہ ہے ۔

۱’آپ کونسا موبائل استعمال کرتے ہیں ‘ ۲ـ’آپ کونسا OSاستعمال کرتے ہیں‘ ۳’آپ کے موبائل میں کب کتنی بیڑی ہے ‘ ۴’ آپ کی نیٹورک اسپیڈ کیا ہے‘ ۵’آپ کا ٹائم ژون کونسا ہے‘۶’آپ کا لوکیشن کیا ہے ‘ ۷’آپ پروفائل فوٹو کونسا لگاتے ہیں‘ ۸’آپ کا اسٹیٹس کیا ہے‘( اسٹیٹس سے مراد آپ کا ABOUT SECTION ہے نہ کہ وہ اسٹیٹس جو عام طور پر ۲۴ گھنٹے کیلیے لگایا جاتا ہے) ۹’آپ کس نام سے واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں‘ ۱۰’آپ کے جتنے نمبرات ہیں ان کے تفصیلات جیسے ان کیپروفائل ان کے نمبراور اسٹیٹس وغیرہ کیا ہیں‘

یہ دس ایسے ڈیٹا ہیں جنہیں واٹس ایپ فیس بک یا دوسری کمپنیوں سے شئر کریگی ، اب یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہیکہ اگر آپ ان سارے تفصیلات کو شئر نہیں کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا چاہیئے ؟ سب سے آسان اور صاف راستہ تو یہی ہیکہ اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ ڈلیٹ کریں اور ٹلیگرام وغیرہ کا استعمال کریں یا اگر آپ واٹس ایپ کا استعمال کرنا چاہتے ہیں اور یہ بھی خواہش ہیکہ آپ کا ڈیٹا واٹس ایپ نہ لے تو اس کیلیے آپ اس طریقہ پر عمل کر سکتے ہیں،

عام طور پر سبھی کمپنیوں کے پاس آپ کے موبائل کی تفصیلات موجود ہوتی ہیں جیسے کونسا موبائل ہے، کونسا موڈل ہے، نیٹورک کونسا ہے وغیرہ وغیرہ تو اس کے شئر ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، جہاں تک بات رہی آپ کے پروفائل ، نام اور اسٹیٹس کی تو آپ ان کو ہٹا سکتے ہیں،

پروفائل آپ کچھ نہ لگائیں، اسٹیٹس اور نام کو بھی تبدیل کر دیں ، اس طرح سے آپ کے تفصیلات واٹس ایپ کمپنی حاصل نہیں کر پائے گی، اب سب سے اہم سوال یہ اٹھتا ہیکہ لوکیشن کا کیا کیاجائے؟ تو اس کیلئے آپ VPN کا استعمال کر سکتے ہیں ، VPN بہت ہی مفید ہوتے ہیںان کے بہت سے فوائد ہیں اور ان میں سب سے خاص فائدہ یہ ہے کہ یہ آپ کا لوکیشن تبدیل کر دیتے ہیں ، تو اس صورت کا استعمال کرتے ہوئے آپ اپنا لوکیش بھی شئر کرنے سے بچ سکتے ہیں،

بہر کیف اگر آپ ان تمام چیزوں کو نہیں کر سکتے ہیںتو واٹس ایپ ڈلیٹ کرنا ہی سب سے بہترین آپشن ہے اور اگر آپ کو واٹس ایپ کی پرائیویسی سے کوئی دقت نہیں ہے تو پالیسی کو ACCEPTکر کے بلاجھجھک آپ واٹس ایپ کا استعمال کر یں اور ہیکرز سے بھی خود کو بچا کر رکھیں۔

ؤاٹس ایپ کا اعلان،پرائیوسی پالیسی نہیں بدلے گی۔۔

متعلقہ خبریں

Back to top button