واٹساپ کی پرائیویسی پالیسی اور ہم
بقلم خود : محمد شعیب اکمل
پچھلے ایک ہفتے سے سوشل میڈیا کی ایپ… واٹساپ کی نئ پالیسی کو لے کر ہر شخص لکھ رہا ہے, بول رہا ہے, سوچ رہا ہے۔ تو میں نے سوچا اس بہتی گنگا میں، میں بھی ہاتھ دھولوں ، بات دراصل یہ ہے کہ میں آجکل سوشل میڈیا پر میں، بہت کم لکھ رہا ہوں، اسکی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے میدان میں بڑے بڑے اہل علم آگئے ہیں، ایسے میں ہم جیسے طالب علموں کا کیا کام..
.
جیت یہ بات تو طے شدہ ہے کہ آج کی دنیا میں خصوصاً جب آپ ٹیکنالوجی کی دنیا میں جی رہے ہیں , کوئ بھی چیز پرائیوٹ نہیں ہے، اور کم از کم پڑھے لکھے لوگ اس سچائ سے بخوبی واقف ہیں۔ آپ کا جی میل اکاؤنٹ،گوگل میپ، فیسبوک اور واٹساپ وغیرہ سب کچھ کسی نہ کسی کی تو نظروں میں ہے ہی !!
.
موجودہ وقت میں برصغیر کی اکثریت ‘واٹس اپ’ کا استعمال بہت کرتی ہے۔ اس وقت یہ جو شور مچا ہے کہ سب واٹس اپ ہٹا دو، کم از کم اس بندہء ناچیز کو تو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ بہت مناسب ہے کہ ہم دوسرے ایپس بھی استعمال کریں، اور فیسبوک یا واٹس اپ سے اپنی مصروفیات دوسری طرف بھی منتقل کریں, مگر پرائویسی کا شور کر کے اپنے لوگوں کو تتر بتر کرنا اور بری طرح کنفیوژ کر دینا یہ مناسب نہیں۔
.
ہم انٹرنیٹ کے کسی بھی حصے میں کوئ غیر قانونی یا غیر اخلاقی باتیں نہ کبھی کہتے/ لکھتے ہیں نہ کرنی چاہئے ! ضرورت کے بقدر ان کا استعمال کریں, اور یہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ اس شور شرابے سے صرف ہمارے ہی چند ہزار لوگ تتر بتر ہوں گے, باقی غالب اکثریت پر کوئ فرق نہیں پڑے گا۔ اور پھر چند دنوں بعد سب لوٹ کر اِدھر ہی آئیں گے۔
ہم اگر کر سکتے ہوں تو قانونی اعتبار سے اس کی کوشش کریں کہ "پرائیویسی” کے لئے کچھ قوانین اور ضابطے حکومتی سطح پر بن جائیں جن کی پابندی تمام سوشل ایپس اور سائٹس پر لازمی ہو !!!
باقی یہ ایپ کی تبدیلی یہ سب بظاہر ایک وقتی شور شرابا ہے , اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں ہماری ہر چیز پر "تیسری نگاہ” ہے, یہ اچھی طرح سمجھ لیجئے۔
.
پنٹاگن کی فائل ہیک ہو سکتی ہیں، رافائل ڈیل کی تمام دستاویزات چوری ہوسکتی ہیں اور سوشل میڈیا پر ہمارا ڈاٹا سیکیور ہے۔۔۔۔۔ کیا مذاق ہے بھائی۔۔۔۔۔ سمارٹ فون جیب میں رکھ کر پرائیویسی اور سیکورٹی کی بات بھی لطیفہ سے کم نہیں ، ہائی پروفائل میٹنگس میں سمارٹ فون باہر ہی سوئچ آف کر کے رکھوا لیے جاتے ہیں۔۔۔۔ ڈاٹا بیچنے کا مطلب تجارتی تقطہ نظر سے دیکھئے تو کچھ بھی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔۔ اس لیے ہڑکمپ مچانے سے کوئی حاصل نہیں۔۔۔۔ اس سلسلہ مولویوں کی لمبی لمبی تحریروں سے نہیں ماہرین کی آرا سے فائدہ اٹھانےجائیے تو وہ بھی اپنے اپنے ذوق و مفاد کے مطابق پرموٹ کرتے نظر آئیں گے مگر تکنیکی طور پر نفع و نقصان کو واضح کریں گے۔۔۔۔
.
ہمارا تو سیدھا سا موقف یہ ہے کہ سوشل میڈیا بلکل ہی ترک کرو اگر اپنی پرائیویسی کا اتنا ہی خیال ہے، باقی یہ ممکن نہیں ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی رہو اور پرائیویسی کا بھی رونا رو ۔ یہ محض ناواقفیت ہے، جب آپ انٹرنیٹ پر ہیں تو پرائیویسی بھول جائیں، اس لیے اسمارٹ فون ہاتھ میں لیکر آپ یہ سوچیں کہ آپ بند کمرے میں نگاہوں سے اوجھل ہے یہ خام خیال ہے۔ جس کو یقین نہ آئے جاکر ان کی پالیسی پڑھ لے، جب تک آپ کوئی غیر قانونی کام نہیں کرتے، تو آپ کو پرائویسی سے خدشہ کیا ہے…..!!؟
.
مفتی یاسر ندیم الواجدی ایک بہت بڑی علمی اور متحرک ہستی ہیں ، وہ سوشل میڈیا پر الحاد کے خلاف بہت اچھا کام کررہے ہیں، انہوں نے اپنی ایک پوسٹ میں بپ تُرکش سوشل میڈیا کا تذکرہ کیا مگر غالباً انھوں نے اس ایپ کی ٹرمس اینڈ کنڈیشن گہرائی سے نہیں بڑھی اور دلیل یہ دی کہ واٹساپ اور فیسبک پر کچھ بھی محفوظ نہیں، ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سب کے سب چور ہیں چاہے وہ ترکش بپ ایپ ہی کیوں نہ ہو،
.
حقیقت یہ ہے کہ واٹساپ اور بپ کے ترمس اینڈ کنڈیشن میں کوئی زیادہ فرق نہیں بلکہ بپ کی شرائط واٹساپ سے زیادہ خطرناک ہیں۔ واٹساپ صرف فیسبک کو انفارمیشن شیئر کرے گا جو خود واٹساپ کی مالک ہے مگر بپ ایپ ہر اس تھرڈ پارٹی کو آپکی کی انفارمیشن شیئر کر دے گا جو اسے پیسہ دے گا۔ اس ایپ کے شرائط میں صاف لکھا ہوا ہے کہ تھرڈ پارٹی کو ڈیٹا شیئر کیا جائے گا اور فی الحال مائیکروسافٹ اور گوگل پہلے سے تھرڈ پارٹی کے طور پر بپ سے اشتراک بنائیے ہوئے ہیں۔
.
مختصر یہ کہ آپکا کا انفارمیشن پوری طرح سیل میں لگا ہوا ہے اور جو چاہے اسے خرید سکتا ہے اور گوگل و مائیکروسافٹ پہلے سے خریدار ہیں۔ جب بپ ایپ کو اندھا دھند مقبولیت ملی گی تو اور بھی لوگ اس سے اشتراک کر سکتے ہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ فی الوقت سگنل اور ٹیلیگرام آج بھی محفوظ ہیں اور یہ کسی بھی کمپنی کے ساتھ آپکا انفارمیشن شیئر نہیں کرتے۔ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے، سوشل میڈیا سارے آپ کو مفت میں سرویس دے رہے تو ان کا مینجمنٹ کھائے گا کیا، جب یہ کمرشل بیسیس پر ہر سوشل میڈیا کا ایپ آپ کے ڈیٹا کے ساتھ آپ کی سوچ اور آپ کے ذہن کو بھی مانیٹر کررہا ہے، آپ کی پسند اور ناپسند کو بھی وہ جانتے ہیں، یہی ڈیٹا وہ کمرشل بیسیس پر دوسروں کو بیچتے ہیں، یہی نہیں بڑے بڑے سوپر اور ہائپر مارکٹس کے آئی پی کیمرے آپ کی برانڈنگ چائس کو مانیٹر کرتے ہیں
.
مجھے بپ ایپ سے کوئی دشمنی نہیں مگر جس مقصد کے لیے واٹساپ کے متبادل طور پر اسکا نام پیش کیا جارہا ہے یعنی ڈیٹا شیرنگ پرائیویسی تو بپ ایپ اس پر فٹ نہیں بیٹھتا۔ اگر کوئی اس ایپ کی شرائط سے متفق ہو اور وہ ترک بھائیوں کے ایپ کو استعمال کر کے پروموٹ کرنا چاہتا ہو تو کو حرج نہیں۔ ہم تو پہلے بھی واٹس ایپ استعمال کرتے تھے، آج بھی واٹس ایپ استعمال کر رہے ہیں اور آئندہ بھی واٹس ایپ استعمال کریں گے
.
اب آخر میں مفتی یاسر ندیم واجدی صاحب کی وضاحت بھی پڑھ لیں :
مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ میرے پاس اتنے میسجز آچکے ہیں کہ ہر ایک کا جواب دیا جانا ممکن نہیں ہے، اس لیے یہاں لکھ رہا ہوں۔
میری تحریر میں واضح طور پر لکھا ہے کہ میرے نزدیک بپ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک مسلم ملک کی کمپنی کی لانچ کردہ ہے، سہولیات بھی اس میں کافی ہیں۔ پرائیویسی میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ مضمون شروع ہی یہاں سے ہوا ہے۔ پھر یہ کوئی شرعی مسئلہ تو ہے نہیں، جس کو اچھی لگے استعمال کرے، جس کو اچھی نہ لگے چھوڑ دے، نہی ہم بپ کے شیر ہولڈر ہیں کہ آپ کے استعمال کا ہمیں کوئی ذاتی فائدہ ہے۔
.



