
سال 2021کو ختم ہونے اب بمشکل دو مہینوں کا وقت باقی بچ گیا ہے۔ اس برس کے دوران بھی کویڈ- 19 کی تباہی نے سارے عالم کے لوگوں کو متاثر کر رکھا ہے۔ لیکن اسی برس کے دوران دنیا نے کویڈ سے بچائو کی ویاکسین لگاکر اس وباء سے نمٹنے کا راستہ ڈھونڈ نکالا ہے۔
سال 2021ء کے دوران میری دانست میں دو بڑی اہمیت کی حامل خبریں سامنے آئیں جن پر خاص کر امت مسلمہ کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ مستقبل کے چیالنجس کا سامنا کرنے کے لیے صحیح خطوط پر تیاری کرسکیں۔ آخر وہ کونسی دو خبریں اور کونسی وجوہات ہیں جو ان خبروں کو اہم بناتی ہیںآیئے ملاحظہ کرتے ہیں۔
Kurt Westerguard کرٹ ویسٹر گارڈ کا تعلق ڈنمارک سے ہے۔ اس برس 13؍ جولائی کو اس شخص نے اپنی 86 ویں سالگرہ منائی۔ لیکن یہ سالگرہ کوئی بہت زیادہ خوشگوار اور یادگار نہیں تھی۔ چونکہ کرٹ طویل عرصے سے بیمار تھا۔ ادھر 13؍ جولائی 2021ء کو کرٹ نے اپنی 86 ویں سالگرہ منائی اس کے اگلے ہی دن 14؍ جولائی کو کرٹ کی بستر پر پڑے پڑے حالت نیند میں ہی موت واقع ہوگئی۔
قارئین کرام ڈنمارک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ ہر روز مرجاتے ہیں اور بہت سارے لوگ حالت نیند میں خالق حقیقی سے جاملتے ہیں۔ پھر ایک شخص کرٹ کے بارے میں جو کہ پہلے سے بیمار تھا اور وہ بھی اس کی حالت نیند میں موت کے بارے میں بات کرنا کیا اہمیت رکھتا ہے۔
آیئے ۔ اب میں بلا کسی مزید تمہید کہ کرٹ کے بارے میں یہ بھی بتلادینا چاہوں گا کہ کرٹ ہی وہ شخص تھا جس نے سال 2005ء میں حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کارٹون تیار کیے تھے۔ ان گستاخانہ کارٹون کی اخبار میں اشاعت کے بعد صرف ڈنمارک ہی نہیں سارے عالم کے مسلمانوں میں بے چینی پھیل گئی۔ دنیا کے کئی ملکوں میں ڈنمارک کے سفارت خانوں کے روبرو احتجاج منظم کیے گئے اور بعض میں ملکوں فسادات کی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔
سال 2015ء میں جب فرانسیسی میگزین چارلی ہبڈونے ان کارٹونس کو شائع کیا تو یہ تنازعہ اور بڑھ گیا۔ میگزین کے دفتر پر مبینہ طور پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا جس میں 12 لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ مغربی میڈیا نے ان دہشت گردوں کے لیے ’’مسلم عسکریت پسندوں‘‘ کی اصطلاح استعمال کی۔
گستاخانہ کارٹونس کو لے کر اس ساری ہلچل کے فوری بعد ان خاکوں کو بنانے والا کرٹ پہلے تو روپوش ہوگیا۔ بعد میں وہ ایک زبردست سیکوریٹی والے مکان میں منتقل ہوگیا تھا۔ سال 2008ء کے دوران ڈنمارک کے حکام نے محمد گیلے نام کے ایک شخص کو اقدام قتل اور دہشت گردی کے الزامات پر گرفتار کر کے 9 برس جیل کی سزا دی۔ اس شخص پر الزام تھا کہ اس نے چاقو کے ساتھ کرٹ کے گھر میں گھسنے کی کوشش کی۔ (بحوالہ بی بی سی ڈاٹ کام ۔ 19؍جولائی 2021)
بی بی سی لندن کی ہی رپورٹ کے مطابق بعد کے برسوں میں کرٹ اپنے محافظوں کے ساتھ ایک خفیہ رہائش گاہ میں منتقل ہوگیا تھا۔ ڈونچے ویلے ڈاٹ کام (جرمن براڈکاسٹنگ کارپوریشن)نے ڈنمارک کے ایک اخبار کے حوالے سے 19؍ جولائی 2021ء کو خبر دی کہ کرٹ پولیس کے پروٹیکشن کے ساتھ ایک خفیہ مقام پر مقیم تھا اور طویل عرصے سے بستر مرگ پر تھا اور نیند کی ہی حالت میں اس کی موت کے متعلق اس کے گھر والوں نے اس کی نیند میں موت کی تصدیق کی ہے۔ کرٹ کے کارٹونس متنازعہ تھے۔
ان کارٹونس کے سبب ڈنمارک کی خارجہ پالیسی کے لیے جنگ عظیم دوم کے بعد سب سے بڑا چیالنج پیدا ہوگیا تھا۔ سال 2010ء میں القاعدہ کی آن لائن میگزین Inspire کی جانب سے ایک ہٹ لسٹ جاری کی گئی تھی جس میں کرٹ کا نام بھی شامل تھا۔
قارئین کرام غور کیجئے کہ القاعدہ جیسی تنظیم کی باضابطہ ہٹ لسٹ میں شامل ہونے کے باوجود سینکڑوں دھمکیوں اور کچھ حملوں کے بعد بھی گستاخانہ کارٹون بنانے والا کرٹ طویل علالت کے بعد نیند کی حالت میں اپنے ہی بستر پر مرجاتا ہے اور دنیا بھر کا میڈیا مسلمانوں کو دہشت گرد کہتا ہے۔
وہ مسلمان جو اپنی جانوں اور مال سے بھی زیادہ محبت نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ سے کرتے ہیں۔ وہ نبیؐ کی شان میں گستاخی کرنے والے کارٹونسٹ کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔ ڈنمارک اور مغربی ممالک آزادی اظہار خیال کے نظریہ کے تحت اس گستاخ کارٹونسٹ کو آخری سانس تک ہر طرح کی سیکوریٹی فراہم کرتے رہے اور یہ گستاخ بالآخر اپنی طبعی موت مرگیا۔
کرٹ کی طبعی موت تو پہلی خبر تھی۔ دوسری خبر 4؍ اکتوبر 2021ء کی ہے۔ بی بی سی ڈاٹ کام کے مطابق پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخانہ کارٹون بنانے والے سویڈن کے (Lars Vilks) ولکس کی ایک سڑک حادثہ میں موت واقع ہوگئی۔
قارئین کرام یہ لارس ولکس کون تھا یہ بھی جان لیجئے۔ سال 2007ء میں لارس ولکس نے بھی پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے متنازعہ کارٹونس بنائے تھے۔ لارس ولکس کا تعلق سویڈن سے تھا۔ اس کے گستاخانہ کارٹونس کی اشاعت سے مسلم ملکوں میں زبردست ناراضگی پیدا ہوگئی تھی۔ اور بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج شروع ہوا تھا۔
یہاں تک کہ حالات کو بے قابو ہوتا ہوا دیکھ کر سویڈن کے اس وقت کے وزیر اعظم Fredrik Reinfeildt فریڈرک کو (22) اسلامی ملکوں کے سفرا سے ملاقات کر کے حالات کو نارمل کرنے میں تعاون کی اپیل کرنی پڑی۔لارس ولکس کو اپنی گستاخانہ پینٹنگس جس کو بعض اخبارات نے شائع بھی کیا تھا دھمکیاں دی گئی تھیں۔
سال 2009ء میں اس کو قتل کرنے کی ایک سازش بے نقاب کی گئی۔ سال 2010ء میں ولکس کے ساتھ احتجاجیوں نے دھینگا مشتی کی جس کے نتیجے میں اس کی آنکھوں کا چشمہ ٹوٹ گیا تھا۔ اس برس القاعدہ نے جو ہٹ لسٹ جاری کی تھی اس میں بھی ولکس کا نام شامل تھا۔ لارس ولکس کو سویڈن کی حکومت کی جانب سے باضابطہ مسلح محافظ فراہم کیے گئے تھے جو اس کی رہائش گاہ اور سفر کے دوران ساتھ ہوتے تھے۔
بی بی سی ڈاٹ کام کی 5؍ اکتوبر 2021ء کی رپورٹ کے مطابق 3؍ اکتوبر اتوار کی سہ پہر ولکس اپنے پولیس محافظوں کے ساتھ کار میں سفر کر رہا تھا جس کے دوران کار کا مقابل سے آنے والی ایک ٹرک کے ساتھ تصادم ہوگیا۔
یہ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ اس کے فوری بعد گاڑی میں آگ لگی اور حادثہ میں لارس ولکس کے ساتھ موجود اس کے دو پولیس کے محافظ بھی مرگئے۔ سویڈش پولیس نے اس واقعہ کی تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا۔ (بحوالہ بی بی سی ڈاٹ کام۔ 4؍ اکتوبر 2021ء کی رپورٹ)
قارئین کرام یہ دوسری خبر بھی اس حوالے سے اہمیت اختیار کرجاتی ہے کہ لارس ولکس نے بھی گستاخانہ کارٹونس تیار کرتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ یقینا مسلمان اس کی اس حرکت پر ناراض تھے۔
بعض گوشوں یہاں تک کہ القاعدہ کی طرف سے اس کو مارنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔ لیکن کوئی بھی اس کا بال بیکا نہیں کرسکا اور بالآخر وہ خود ایک سڑک حادثہ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ حالانکہ عراق میں موجود القاعدہ کی شاخ نے لارس ولکس کو مارنے پر ایک لاکھ امریکی ڈالر کے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔
لیکن لارس ولکس سویڈن کی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سیکوریٹی میں محفوظ زندگی گزار رہا تھا اور اپنے محافظوں کے ساتھ ہی سفر کے دوران پیش آنے والے ایک سڑک حادثہ میں اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
اس گستاخ رسول کارٹونسٹ کی حادثاتی موت ایک مرتبہ پھر اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہے کہ مسلمان دہشت گرد نہیں اور کچھ لوگ مسلمانوں کے نام سے دہشت گردی کرتے ہیں تو وہ مسلمان ہی نہیں ہوتے ہیں۔
اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو کوئی اسلام کا نام لے کر دہشت گردی کرتا ہے وہ مسلمان ہی نہیں ہوسکتا ہے۔ذرا غور کریں اگر مسلمان دہشت گرد ہوتا اور اسلام میں دہشت گردی کے لیے ذرا سی بھی جگہ ہوتی تو گستاخ رسول کبھی اپنی طبعی موت نہیں مرتے۔ کیونکہ مسلمانوں کے لیے اپنی جان و مال سے عزیز تر ہستی نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ہی ہے۔
جو مسلمان اپنی نبیؐ کے گستاخوں کو کچھ گزند نہیں پہنچاسکتے میرا سوال ہے کہ وہ کیسے کوئی دہشت گردی کی کاروائی کرسکتے ہیں اور بے قصور معصوم افراد کو موت کے گھاٹ اتار سکتے ہیں؟قارئین کرام ذرا غور کیجئے میڈیا نے مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے اور اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام آدمی کا معصوم ذہن پراگندہ ہوگیا اور وہ میڈیا کے پروپیگنڈہ کو صحیح سمجھنے لگا ہے۔
#اسلام کے پیغامِ #محبت کو عام کرنے کے لیے ادارے اپنے طور پر کام کرتے ہیں۔ انجمنیں اپنے طور پر کام کر رہی ہیں۔ اب ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ وہ نبی رحمت حضرت #محمد ﷺ کے اس اسوہ حسنہ کو اپنے عمل سے پیش کرنے کے لیے اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں کہ زبان سے محبت کے علاوہ کیا ہم اپنے عمل سے بھی نبی کی سیرت پاک کو دیگر برادران #عالم تک پہنچاسکتے ہیں یا ہم صرف نعروں پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
خدارا جائزہ لیجئے۔ کوئی چیز چھوٹی اور معمولی نہیں ہوتی ہے۔ دور حاضر میں چھوٹی چھوٹی سنتوں کے ذریعہ بھی بہت بڑا پیغام بہت سارے لوگوں تک پہنچایا جاسکتا ہے اور اسلام کے ساتھ ساتھ نبیؐ کے سچے کردار سے سارے عالم کو واقف کروایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ آپ رحمت المسلمین نہیں۔ رحمت العالمین بناکر بھیجے گئے ہیں۔
ذرا یہ بھی جان لیجئے کمیونزم کا علمبردار سویت #یونین بکھر گیا۔ ایک قطبی نظام میں امریکہ اپنے آپ کو واحد عالمی طاقت سمجھتا ہے اور سارے مغربی ممالک مل کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگرم عمل نظر آتے ہیں۔ کیونکہ یکے بعد دیگرے ایسی خبریں اور رپورٹس سامنے آرہی ہیں جس سے عیسائیوں کا اصل چہرہ #دنیا کے سامنے کھل کر آرہا ہے۔
بی بی سی #ڈاٹ کام کی 5؍ اکتوبر کی خبر ہے کہ فرانس میں 10 تا 13 برس کے بچوں کا گرجا گھروں میں جنسی استحصال ہوتا رہا ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 70 برسوں کے دوران 3 لاکھ 30 ہزار بچوں کا گرجا گھروں میں #جنسی استحصال ہوا ہے۔ لوگ اب اپنے بچوں کو گرجا گھر بھیجنے سے پہلے ہزار بار سونچنے لگے ہیں ا ور یہ تو صرف فرانس کے گرجا گھروں کے متعلق رپورٹ ہے۔ بقیہ ملکوں میں صورتحال کیا ہوگی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ایسے میں ہم یہ بھی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ آخر اسلام کے خلاف اور #مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیوں کی جارہی ہیں۔ سونچئے گا۔ جاگیئے گا اور اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ کیجئے گا۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



