
محمد اسد علی ،ایڈوکیٹ
انگریزی لفظ Gift کا تقریباً مطلب ہبہ کے مساوی ہوتا ہے لیکن یہ لفظ ہبہ کے ہم معنی نہیں۔ Gift کا دائرہ کار ہبہ سے زیادہ تر وسیع ہوتا ہے، قانونی منتقلی جائیداد۔
بابتہ Section 122 of the Transfer of Property Act کی دفعہ میں لفظ ’’گفٹ‘‘ کی تعریف بیان کی گئی لیکن قانون منتقلی جائیداد کی دفعات جو Gift سے مربوط ہیں، ان کا اطلاق مسلمانوں پر نہیں ہوتا ہے اور ہبہ کا طریقہ کار اپنایا گیا ہے اور یہ مسلم قانون کے دائرۂ کار میں شامل کیا گیا۔
(1) Hanafi Lawyer کے مطابق ہبہ کسی معاوضہ Purety without Consideration کے بغیر جائیداد کی کسی اور منتقلی کا حق دیتا ہے۔ حفنی قوانین میں ہبہ کی تعریف یہ ہے کہ وہ ایک ایسا فیض رساں عمل ہے جس کے ذریعہ حق جائیداد کسی معاوضہ کے بغیر کسی مخصوص فرد کو دیا جاتا ہے۔
(2) Ameer Ali کے مطابق ہبہ ایک رضاکارانہ تحفہ ہوتا ہے جو کسی جائیداد کو Without Consideration بغیر یا ایک شخص کی جانب سے دوسرے شخص کو دیا جاتا ہے تاکہ عطیہ حاصل کرنے والا گفٹ یا ہبہ کا حقدار ہو۔ جب کوئی شخص بغیر کسی Consideration کے اپنی چیز کسی دوسرے شخص کو تحفہ کے طور پر دیتا ہے، اسے قانون کے تحت ہبہ (Gift) کہتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا کسی زمین کا ہبہ ہوسکتا ہے؟ کون ہبہ کرسکتا ہے؟
کس کو ہبہ کیا جاسکتا ہے اور اس کے Essential Condition یعنی ضروری شرائط حسب ذیل ہیں۔ ہبہ میں دو افراد ہوتے ہیں جن میں ایک عطیہ دہندہ (Donor) اور دوسرا عطیہ حاصل کرنے والا (Donee) ہوتا ہے۔ عطیہ دہندہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ جائیداد کا مالک ہو اور وہ Indian Majority Act کی دفعات کے مطابق بالغ ہو اور اس نے 18 سال کی عمر مکمل کرلی ہو، اگر وہ کسی کے زیرسرپرستی ہو تو اس صورت میں اسے 21 سال کی عمر تک ہبہ کیلئے انتظار کرنا پڑے گا۔
اس کے علاوہ اس کی ذہنی حالت مستحکم ہونی چاہئے اور وہ عطیہ دیتے وقت کسی دباؤ، جبر بے جا اثر و رسوخ، غلط ترجمانی وغیرہ کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ Donne اس شخص کو کہتے ہیں جو Donor یا عطیہ دہندہ کی جانب سے جائیداد حاصل کرسکے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اس کا قبضہ Possession بھی حاصل کرسکے، ورنہ ہبہ مکمل نہ ہوگا جس وقت ایک عطیہ دہندہ عطیہ حاصل کرنے والے کو تحفے میں گفٹ دیتا ہے تو عطیہ حاصل کرنے والا اسے قبول کرلیتا ہے،
اس وقت عطیہ دہندہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اس نے عطیہ حاصل کرنے والا کو بطور گفٹ جائیداد دے رہا ہے، اسی وقت سے عطیہ دہندہ (Donor) کی ملکیت ختم ہوجاتی ہیں، اور Donee اسے قبول کرلیتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ Donor جائیداد حوالہ کردیتا ہے اور عطیہ حاصل کرنے والا جائیداد کا قبضہ حاصل کرلیتا ہے۔ اُسی لمحہ سے وہ جائیداد کا مالک بن جاتا ہے۔ عطیہ حاصل کرنے والا اگر زندگی کے دوران چاہئے تو اس جائیداد کو فروخت کرسکتا ہے،
رہن کرسکتا ہے اور کسی کو بھی بطور گفٹ تحفہ دے سکتا ہے جو اس کی جائیداد کا ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ جائیداد کی منتقلی اور وقف کے علاوہ دیگر کسی اور کے نام بھی کرسکتا ہے۔ اگر جائیداد کا کوئی حصہ باقی رہ جائے تو عطیہ حاصل کرنے والے کے ورثا اس جائیداد کے مالک ہوجاتے ہیں۔
عطیہ دہندہ یا اس کے ورثہ کو کسی بھی طرح سے اس جائیداد سے کوئی سروکار نہیں رہتا ہے۔ ہبہ غیرمشروط ہوتا ہے۔ مزید برآں ہبہ بغیر کسی معاوضہ کے دیا جاتا ہے۔ ہبہ کی صورت میں قبضہ ضروری ہے، ورنہ اس کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ گفٹ دو صورتوں میں منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
پہلا جسے عطیہ دیا گیا ہے، اس کی رضا مندی کے ساتھ، دوسرا عدالت کے حکم سے لیکن بعض حالات میں ہبہ ناقابل تنسیخ ہوتا ہے۔ یعنی اگر عطیہ دہندہ (Donor) کا انتقال ہوجائے تو اس کی اولاد اس جائیداد یا عطیہ کو واپس نہیں لے جاسکتی ہے۔ اگر عطیہ حاصل کرنے والا (Donee) کا انتقال ہوجائے تو معطی کی اولاد سے اس کا قبضہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ معطی جائیداد حاصل کرنے کے بعد اس کی اندھادھند فروخت نہ کرے اور مستقبل کی ضروریات و جائیداد کی افادیت کو ملحوظ رکھے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ معطی ذہنی طور پر صحت مند ہوتا ہے لیکن اس کے اطراف و اکناف کے ماحول کے بعض لوگ اپنے ذاتی مفاد پر اس کو ہبہ کی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ اس جائیداد کو کوڑیوں کے مول فروخت کردے ایسے لوگ صرف اپنی غرض کی تکمیل چاہتے ہیں اور ذاتی فائدے کے لئے دوسروں کو بے وقوف بنانا ان کا اصول ہوتا ہے۔
ضروری ہے کہ معطی اس جائیداد کا دور اندیشی اور ہوشیاری کے ساتھ تحفظ کرے اور اس کا استعمال ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں معطی کے ورثہ یا لواحقین کو اس جائیداد کی ضرورت ہو اور نادانی سے اس کی فروخت ان کے لئے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔



