
ممبئی:(اردودنیا.اِن)کورونا سے ہونے والی اموات کے درمیان مہاراشٹرا سے ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ مہاراشٹرا کے ممبئی سے ملحق ویرار کے وجئے ولبھ اسپتال میں آگ لگی ، جس کی وجہ سے آئی سی یو میں داخل 13 کوویڈ مریضوں کی موت ہوگئی۔ نصف شب میں اسپتال میں آگ لگی تھی ۔
मुंबई जवळच्या विरारमध्ये विजय वल्लभ रुग्णालयात अघ्नितांडव,#Breaking_news #Mumbai #fire #Hospital
13 जणांचा होरपळून मृत्यू @mybmc @CMOMaharashtra @rajeshtope11 @AUThackeray @AslamShaikh_MLA pic.twitter.com/Eib2m1mJ37— News18Lokmat (@News18lokmat) April 23, 2021
وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے مقامی انتظامیہ سے واقعے کے بارے میں بات کی ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔وجے ولبھ اسپتال میں نصف شب میں اچانک آگ لگی گئی جس سے مریضوں اور طبی عملے کے مابین ہاتھا پائی ہوئی۔ اسپتال کے سی ای او دلیپ شاہ نے بتایا کہ واقعے کے وقت اسپتال میں تقریبا 90 مریض داخل تھے۔واقعے کے عینی شاہد اویناش پاٹل نے بتایا کہ مجھے رات کے تقریباً 3 بجے ایک دوست کا فون آیا۔ اس کی ساس اس اسپتال میں داخل علاج تھی ۔
جب میں یہاں پہنچا تو اسپتال کے باہر فائر برگیڈیئر کی گاڑیاں کھڑی تھیں ۔ دوسری منزل پر موجود آئی سی یو پوری طرح سے دھویں میں ڈوبا ہوا تھا۔ صرف دو نرسیں تھیں ، کوئی ڈاکٹر نہیں تھا۔ آگ بجھانے میں نصف گھنٹہ لگا۔ ہم نے وہاں 8-10 لاشیں دیکھیں۔شاہ نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا ہے کہ اس وقت اسپتال میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر وہاں موجود تھے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسپتال حفاظت کے تمام اصولوں پر عمل پیرا ہے۔ واقعے کے بعد سے بہت سے مریضوں کو دوسرے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
مریض آتشزدگی میں مر رہے تھے ، نرسیں تماشہ دیکھ رہی تھیں
مہاراشٹر کے ویرار ویسٹ میں واقع وجئے ولبھ اسپتال کی دوسری منزل پر آئی سی یو میں نصب اے سی میں جمعہ کی صبح تقریباً3.30 بجے آتشزدگی پیش آگئی ، اس سے نکلنے والی چنگاری آئی سی یو میں گرتی ہے اور تھوڑی دیر بعد آگ پورے وارڈ میں پھیل جاتی ہے۔ مریضوں کے لواحقین کا الزام ہے کہ آگ لگنے کے دوران آئی سی یو میں نہ تو نرس تھی اور نہ ہی کوئی ڈاکٹروہاں موجود تھا۔ جب انہیں اس کا علم ہوا، تب تک وارڈ میں دھواں پھیل چکا تھا۔ حادثے کے وقت آئی سی یو میں 15 مریض وینٹی لیٹر پر تھے ، ان میں سے 14 کی موت ہوگئی ہے۔
عینی شاہد اویناش پاٹل نے بتایا کہ آئی سی یو میں مریض کے داخلے کے لئے 3 سے 4 لاکھ کا بل بنایا جاتا ہے ، لیکن سہولیات کے نام پر کچھ بھی دستیاب نہیں ہے۔ یہاں آگ سے بچاؤ کے لئے کوئی سامان بھی نہیں ہے، اگر آئی سی یو میں فائر اسپرنکلر ہوتا تو آگ پر فوری طور پر قابو پایا جاسکتا تھا۔اویناش نے بتایا کہ آگ لگنے کے بعد آئی سی یو کے باہر صرف 3 نرسیں موجود تھیں اور یہاں کوئی ڈاکٹر نہیں تھا۔
نرس کھڑے ہوکر تماشہ دیکھ رہے تھے ۔ اویناش نے مزید کہا کہ کچھ دیر بعد فائر بریگیڈ موقع پر پہنچی اور آگ بجھانا شروع کیا۔ 4 بجے کے قریب دھواں تھوڑا کم ہوا ،تو میں کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ نیچے چلا آیا، اور پھر کسی طرح اندر گیا۔ اندر جاکر دیکھا کہ 9 افراد بیڈ پر فوت شدہ حالت میں پڑے ہیں ، کسی طرح ہم انھیں ساتھ لے گئے۔ ان میں سے اکثر 5 بجے کے قریب ہی فوت ہوگئے تھے۔
باقی رہنے والوں کی حالت بھی نازک ہے۔ پال گھر کے ضلع مجسٹریٹ مانک راؤ نے بتایا کہ آئی سی یو میں کل 16- 17 مریض تھے۔ جس میں سے 4 مریض آتشزدگی کے بعد از خود باہر آگئے ، انہیں دوسرے وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔ سب کی حالت مستحکم ہے اور آئی سی یو کے دوسرے مریض بھی ٹھیک ہیں، آہستہ آہستہ سب کو دوسرے اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔واضح ہو کہ اس آتشزدگی سانحہ میں 13افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔



