دو مقدس مساجد کے انتظامات سنبھالنے میں شریک 34 خواتین
سعودی عرب خواتین کی توانائی میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔
ریاض، 25جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سعودی عرب خواتین کی توانائی میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ خواتین سعودی آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ بنتی ہیں اور کئی دہائیوں سے وہ بعض معاشرتی اور ثقافتی پابندیوں کے تحت معاشی امور پر میں بھرپور طریقے سے شریک نہیں تھیں۔ اب سعودی عرب نے اپنی خواتین کی مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کی تو انہیں حرمین شریفین کی دو مقدس ترین مساجد کے معاملات میں بھی شامل کیا ہے۔ دو مقدس ترین مساجد مسجد حرام اور مسجد نبوی کی انتظامیہ میں اس وقت 34 خواتین شریک ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جنہیں انتظامات میں قائدانہ کردار دیا گیا ہے۔ ان خواتین کو مینجرل عہدے دئیے گئے ہیں۔
دونوں مقدس مساجد کی جنرل پریذیڈنسی نے کہا کہ یہ فیصلہ ادارے کے ان فیصلوں کے ضمن میں کیا گیا ہے جس کے تحت صدارت عامہ دونوں مقدس مساجد کی خدمت کرنے کی اہلیت رکھنے والی خواتین کو موقع فراہم کرتی ہے۔ خیال رہے ان خواتین کو خواتین کے امور سے متعلق عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ان عہدوں پر بھی مرد حضرات ہی کی تقرریاں کی گئی تھیں۔صدارت عامہ نے اپنے اکاؤنٹ میں ان اہم عہدوں کے متعلق بتایا جن پر خواتین کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان میں امل بنت محمد ثنیان ہیں جنہیں سائنسی امور اور ویمنز اکیڈمی کے جنرل صدر کے انڈر سیکرٹری کے طور پر لگایا گیا ہے۔ مزنہ بنت عبد العزیز اللحیدان ان سائنسی امور اور ویمنز اکیڈمی کے لئے اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔
نجلا بنت معیلف الشریف کو انتظامی ، تربیت اور خواتین کی افزودگی کے امور کے لئے اسسٹنٹ انڈر سکریٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔تہانی بنت سعود العمر ی زبان اور خواتین کے ترجمے کے لئے معاون سیکرٹری ہیں۔ روان بنت عبد العزیز الردادی معاشرتی اور انسان دوست رضاکارانہ خدمات کے لئے اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔اس فیصلے میں ریڈنگ اینڈ ویمن سائنسی خواتین کی جنرل ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر کے طور پر نورہ بنت صیاف العمری کو لگایا گیا ہے۔ خواتین کی تربیت کی جنرل ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر سمر بنت احمد العمری ہیں۔
ایمان بنت محمد الحربی مسجد نبوی میں خواتین کی لائبریری کی جنرل ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر ہیں۔ ھند بنت مسعد الجھنی خواتین خواتین کے انتظامی امور کی جنرل ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر ہیں۔ سعودی ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے تحت پروگرامو ں میں سے ایک پروگرام کے ’’ مکہ روڈ‘‘ اقدام کے تحت خواتین پاسپورٹ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ اقدام پانچ ملکوں میں شروع کیا گیا ہے۔ ان ملکوں میں پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، مراکش اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔ اس اقدام کے تحت ان ملکوں کی حکومتوں کے لیے اپنے ہی ہاں حج کے انتظامات کو آسان بنانے کی سعی کی جاتی ہے۔



