مرکزی ٹیکسٹائل وزیر گری راج سنگھ نے جمعہ کو مظفر پور میں منعقد ایک پروگرام میں کہا کہ اگر آزادی کے وقت تمام مسلمانوں کو پاکستان بھیج دیا جاتا تو آج ملک میں لو جہاد نہ ہوتا۔ مرکزی وزیر کے اس بیان پر کانگریس لیڈر دانش علی نے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان گری راج سنگھ کی میراث نہیں ہے۔ کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ یہ ملک گری راج سنگھ کی میراث نہیں ہے۔ اس ملک کو انگریزوں سے آزاد کرانے کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ میں حکومت ہند کے ایک وزیر کے اس طرح کے بے بنیاد اور نامناسب بیان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ ملک گاندھی کا ملک ہے۔ ہمارا ملک مخلوط ثقافت کا ہے۔
ہمارے بزرگوں کے پاس مذہبی خطوط پر بنے ہوئے ملک میں جانے یا مخلوط ثقافت والے ملک میں رہنے کا اختیار تھا۔سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ ہندوستان میں رہنا پسند کریں گے۔وہ ایک ایسے ملک میں رہنے کو پسند کیا جہاں تمام ثقافتوں کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہوں۔ ہم نے مذہب کی بنیاد پر بننے والے ملک کو ٹھکرا دیا۔
سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مرکزی وزیر کو ایسی بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ وہ دن رات صرف زہر اگلتے ہیں۔اس کے بعد اترپردیش پولیس کی جانب سے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو لکھنؤ میں جئے پرکاش نارائن کے مجسمے پر پھولوں کی مالا چڑھانے سے روکنے کے واقعہ پر انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی سوچ یہ ہے کہ صرف ان ہی کے نظریاتی اور فکری اعتبار سے وابستہ شخصیات کو یاد کیا جائے۔
پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی سوچ یہ ہے کہ صرف ان ہی کی نظریات کے حامل افراد اور ان کے افکارو خیالات سے وابستہ شخصیات کو یاد کیا جانا چاہیے۔عظیم انسان، چاہے وہ کسی بھی نظریے سے تعلق رکھتے ہوں عظیم ہوتا ہے۔ ہم تمام عظیم انسانوں کا احترام کرتے ہیں۔آپ کو بتا دیں کہ جمعہ کو اکھلیش یادو کی رہائش گاہ کے باہر بیریکیڈنگ اور پولس لگا دی گئی تھی تاکہ انہیں وہاں جانے سے روکا جا سکے۔