سرورققومی خبریں

نابالغ ریپ کیس: سپریم کورٹ کا سخت موقف، 15 سالہ لڑکی کے اسقاط حمل پر روک سے انکار، حکومت کو قانون بدلنے کی ہدایت

کسی بھی نابالغ کو اس کی مرضی کے خلاف حمل جاری رکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا

نئی دہلی 30 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بھارت کی سپریم کورٹ آف انڈیا نے نابالغ ریپ متاثرہ لڑکی کے اسقاط حمل سے متعلق ایک نہایت اہم اور دور رس اثرات کے حامل کیس میں مرکزی حکومت کی کیوریٹیو پٹیشن مسترد کرتے ہوئے اپنے سابقہ حکم کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی نابالغ کو اس کی مرضی کے خلاف حمل جاری رکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور ناپسندیدہ حمل کسی پر تھوپا نہیں جا سکتا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیا باغچی کی بنچ نے سماعت کے دوران حکومت اور آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی جانب سے پیش کردہ دلائل پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ قانون کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے اور خاص طور پر ریپ متاثرہ افراد کے معاملات میں اسقاط حمل کی مقررہ مدت کی پابندی ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایسے حساس مقدمات کی سماعت ایک ہفتے کے اندر مکمل ہونی چاہیے تاکہ متاثرہ کو مزید ذہنی اذیت سے بچایا جا سکے۔

سماعت کے دوران ڈاکٹروں نے مؤقف اختیار کیا کہ 30 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ بچہ زندہ پیدا ہو مگر شدید جسمانی اور ذہنی مسائل کا شکار ہو۔ اس کے برعکس عدالت نے کہا کہ فیصلہ متاثرہ اور اس کے والدین کا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی ادارے یا حکومت کا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ متاثرہ اور اس کے اہل خانہ کو مکمل طبی معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ باخبر فیصلہ کر سکیں۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا، "یہ ایک کمسن بچی کا معاملہ ہے، اسے اس وقت تعلیم حاصل کرنی چاہیے، نہ کہ ماں بننے پر مجبور کیا جائے۔ اگر اسقاط حمل کی اجازت نہ دی گئی تو اسے زندگی بھر کے ذہنی صدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔” عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملک میں پہلے ہی بے سہارا بچوں کی بڑی تعداد موجود ہے، اس لیے ایسے معاملات میں انسانی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

قبل ازیں جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس اجول بھویان کی بنچ نے 24 اپریل کو 15 سالہ لڑکی کو 30 ہفتوں کے حمل کے طبی خاتمے کی اجازت دی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ آرٹیکل 21 کے تحت ہر فرد کو اپنے جسم کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ متاثرہ لڑکی دو بار خودکشی کی کوشش کر چکی ہے، جس کے پیش نظر اسقاط حمل کو ضروری قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ کے تحت عام طور پر 24 ہفتوں تک اسقاط حمل کی اجازت ہے، جبکہ مخصوص حالات میں یہ حد 28 ہفتوں تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ تاہم عدالت نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ قانون میں ترمیم کرے تاکہ ریپ متاثرہ اور نابالغ لڑکیوں کے لیے اس حد کو مزید لچکدار بنایا جا سکے۔

یہ فیصلہ نہ صرف خواتین کے حقوق بلکہ نابالغ ریپ متاثرین کی قانونی اور انسانی تحفظ کے حوالے سے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس کے مستقبل میں قانون سازی اور عدالتی فیصلوں پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button