سرورققومی خبریں

بیرون ملک سے MBBS کرنے NEET پاس کرنا لازمی، سپریم کورٹ

بیرون ملک سے میڈیکل کورسز کرنے کے لیے NEET UG کی اہلیت برقرار

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے میڈیکل کونسل آف انڈیا کے ضابطہ کو برقرار رکھتے ہوئے بیرون ملک سے ایم بی بی ایس کرنے کیلئے نیٹ یو جی (NEET UG) امتحان پاس کرنے کو لازمی قرار دیا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے 2018 میں لایا گیا یہ ضابطہ یقینی کرتا ہے کہ بیرون ملک میں میڈیکل کی پڑھائی کر رہے ہندوستانی طلبا ہندوستان میں میڈیسن کی پریکٹس کرنے کیلئے مطلوبہ معیارات کو پورا کریں۔عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں کہا کہ یہ ریگولیشن غیر جانبدار اور شفاف ہے اور کسی بھی قانونی دفعات یا آئین کے خلاف نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ ضابطہ انڈین میڈیکل کونسل ایکٹ 1956 کے کسی بھی نظم کے برعکس نہیں ہے اور نہ ہی کسی بھی طرح سے من مانی یا غیر مناسب ہے۔ نیٹ یو جی پاس کرنے کی ضرورت گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن ریگولیشن 1997 میں مقرر اہلیت کے معیار کو پورا کرنے کے علاوہ ہے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس بی آر گوئی اور کے ونود چندرن کی بنچ نے عرضی پر سماعت کی۔عرضی دہندگان نے ایم سی آئی کے ریگولیشن کو چیلنج کرتے ہوئے موقف پیش کیا تھا کہ اسے انڈین میڈیکل کونسل ایکٹ 1956 میں ترمیم کیے بغیر لایا گیا تھا۔ حالانکہ عدالت نے یہ مانا کہ میڈیکل کونسل کے پاس ایکٹ کی دفعہ 33 کے تحت ریگولیشن پیش کرنے کا حق تھا۔ سماعت کے دوران بنچ نے کہا کہ ہمیں ریگولیشن میں مداخلت کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔عدالت عظمیٰ نے ایک بار کے لیے چھوٹ دینے سے بھی صاف انکار کر دیا۔واضح رہے کہ سال 2018 سے ان ہندوستانی طلبا کے لیے نیٹ یوجی پاس کرنا لازمی کر دیا گیا ہے جو بیرون ملک سے ایم بی بی ایس کرکے ہندوستان میں ڈاکٹری کرنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button