
10 ریاستوں میں راجیہ سبھا کی 37 نشستیں خالی،کئی سینئر لیڈروں کی مدت ختم
راجیہ سبھا میں بڑی تبدیلیوں کا مرحلہ، کئی سینئر لیڈروں کی مدت کار ختم
نئی دہلی 18 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ملک کی 10 ریاستوں میں راجیہ سبھا کی مجموعی طور پر 37 نشستیں اپریل میں خالی ہو رہی ہیں، جس کے بعد ایوان بالا کی سیاسی تصویر میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ الیکشن کمیشن نے بدھ کو ان نشستوں کے لیے دو سالہ انتخابی عمل کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ اس مرحلے میں کئی اہم اور سینئر رہنما اپنی مدت کار مکمل کر رہے ہیں، جن میں این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار، راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نارائن سنگھ اور اوپیندر کشواہا جیسے نام شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نشستیں مہاراشٹر سے خالی ہو رہی ہیں جہاں 7 ارکان کی مدت کار ختم ہو رہی ہے۔ اس کے بعد تمل ناڈو سے 6 اور مغربی بنگال سے 5 نشستیں خالی ہوں گی۔ بہار سے بھی 5، اوڈیشہ سے 4، آسام سے 3 جبکہ چھتیس گڑھ، ہریانہ اور تلنگانہ سے 2-2 نشستیں خالی ہو رہی ہیں۔ ہماچل پردیش سے ایک نشست خالی ہونے والی ہے۔
مہاراشٹر سے ریٹائر ہونے والے نمایاں ارکان میں شرد پوار، پرینکا چترویدی، بھگوت کشن راؤ کراڈ، ڈاکٹر فوزیہ خان، دھیر شیل موہن پاٹل، رجنی پاٹل اور رام داس اٹھاولے شامل ہیں۔ بہار سے ہری ونش نارائن سنگھ کے ساتھ اوپیندر کشواہا، رام ناتھ ٹھاکر، امریندر دھاری سنگھ اور پریم چند گپتا کی مدت کار بھی مکمل ہو رہی ہے۔
اوڈیشہ سے ممتا موہنتا، مجیب اللہ خان، سجیت کمار اور نرنجن بشی ایوان سے سبکدوش ہوں گے، جبکہ مغربی بنگال سے ریت برت بنرجی، بکاش رنجن بھٹاچاریہ، سبرت بخشی اور موسم نور کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ تمل ناڈو سے این آر ایلنگو، پی سیلوراسو، ایم تھمبی دورئی، تروچی شیوا، کنی موزھی اور جی کے واسن بھی ریٹائرمنٹ کی صف میں ہیں۔
اسی طرح آسام سے رمیشور تیلی، بھونیشور کلیتا اور اجیت کمار بھوئیاں، چھتیس گڑھ سے کوی تیز پال سنگھ تلسی اور پھولو دیوی نیتام، تلنگانہ سے ابھیشیک منو سنگھوی اور کے آر سریش ریڈی، ہریانہ سے کرن چودھری اور رام چندر جانگڑا جبکہ ہماچل پردیش سے اندو بالا گوسوامی کی مدت بھی مکمل ہو رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخابات مختلف ریاستوں میں جماعتی طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتے ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں امیدواروں کے ناموں کا اعلان اور سیاسی جوڑ توڑ ایوان بالا کی آئندہ سمت کا تعین کرے گا۔



