قومی خبریں

تیل و گیس کے بعد امونیا گیس کی قیمتوں میں اُچھال،کولڈ اسٹوریج صنعت متاثر، کسانوں پر مہنگائی کا نیا وار

کولڈ اسٹوریج اور زرعی معیشت شدید متاثر،

نئی دہلی 06 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات اب صرف تیل، ڈیزل اور ایل پی جی تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کا دائرہ امونیا گیس تک پہنچ گیا ہے، جس نے کولڈ اسٹوریج صنعت اور زرعی معیشت کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ریاست اتر پردیش میں علی گڑھ سے وارانسی تک تقریباً 2500 کولڈ اسٹوریج اس بحران کی زد میں آ چکے ہیں، جس کے نتیجے میں آلو سمیت دیگر زرعی اجناس کے ذخیرہ پر منفی اثرات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

آگرہ میں کولڈ اسٹوریج ایسوسی ایشن کے مطابق ایک سیزن کے دوران اوسطاً 1.5 سے 2 ٹن امونیا گیس استعمال کی جاتی ہے، تاہم حالیہ دنوں میں اس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جہاں پہلے امونیا 60 سے 80 روپے فی کلو دستیاب تھی، وہیں اب 100 سے 130 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔

مین پوری اور فیروز آباد جیسے اضلاع میں صورتحال مزید سنگین بتائی جا رہی ہے، جہاں قیمتیں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں۔ کولڈ اسٹوریج آپریٹرز کے مطابق گزشتہ سال 70 روپے فی کلو میں دستیاب امونیا اب 140 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے، جس سے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

کانپور میں بھی امونیا کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہاں گیس کی قیمت 90 سے 95 روپے فی کلو سے بڑھ کر 110 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ ابھی تک کولڈ اسٹوریج کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو صارفین کو جلد ہی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فرخ آباد اور اٹاوہ میں سپلائی متاثر ہونے کے باعث امونیا گیس کی دستیابی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ جہاں پہلے 24 گھنٹے میں سپلائی ہو جاتی تھی، اب 48 گھنٹے تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ بعض مقامات پر قیمتیں تین سے چار گنا تک بڑھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب میرٹھ، سہارنپور، بجنور، شاملی، مظفر نگر اور باغپت میں فی الحال سپلائی معمول کے مطابق ہے، تاہم قیمتوں میں اضافہ وہاں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امونیا گیس کی قیمتوں میں یہی اضافہ جاری رہا تو اس کا براہِ راست اثر نہ صرف کولڈ اسٹوریج کے کاروبار بلکہ کسانوں، تاجروں اور عام صارفین پر بھی پڑے گا، جس سے زرعی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

علی گڑھ میں امونیا گیس کے 60 کلو والے سلنڈر کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو پہلے تقریباً 7200 روپے میں دستیاب تھا، اب بڑھ کر 15000 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس اچانک مہنگائی نے کولڈ اسٹوریج آپریٹرز کے اخراجات کا پورا توازن بگاڑ دیا ہے۔

کولڈ اسٹوریج اونرز ایسوسی ایشن کے صدر گرراج گوڈانی کے مطابق اس شعبے کو محض ایک کاروبار کے طور پر نہیں بلکہ زرعی نظام کا اہم حصہ سمجھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاگت میں مسلسل اضافہ نہ صرف کولڈ اسٹوریج کے کام کو متاثر کر رہا ہے بلکہ اس کے اثرات پورے زرعی ڈھانچے پر بھی پڑ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button