ایرانی انٹیلیجنس چیف ماجد خادمی اسرائیلی حملے میں شہید، آئی آر جی سی کی تصدیق
ایران-اسرائیل کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل
تہران 06 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے انٹیلیجنس چیف میجر جنرل ماجد خادمی کی شہادت نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے دشمن کی کارروائی قرار دیا ہے، جبکہ مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں حملے کی نوعیت اور ذمہ دار فریق کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
آئی آر جی سی کے مطابق ماجد خادمی پیر کے روز ایک “امریکی صہیونی دشمن کے دہشت گردانہ حملے” میں شہید ہوگئے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ ایک حساس سیکیورٹی مشن پر تعینات تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ ایران کے اندر ایک خفیہ مقام پر کیا گیا، جہاں اعلیٰ سطحی سیکیورٹی سرگرمیاں جاری تھیں۔ بعض ذرائع اس کارروائی کو اسرائیلی حملہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر رپورٹس میں امریکہ اور اسرائیل کی ممکنہ مشترکہ کارروائی کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم کسی فریق نے باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ماجد خادمی ایران کی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اسٹرکچر میں ایک کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ 2022 سے اہم ذمہ داریاں نبھا رہے تھے اور حالیہ برسوں میں انٹیلی جنس نظام کی قیادت کر رہے تھے۔ آئی آر جی سی نے اپنے تعزیتی بیان میں انہیں “قابل، تجربہ کار اور باصلاحیت رہنما” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طویل عرصے تک ملک کے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کئی برسوں سے براہ راست جنگ کے بجائے خفیہ کارروائیوں، سائبر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل بھی ایران کے سائنسدانوں اور اعلیٰ فوجی عہدیداروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن کا الزام اکثر اسرائیل پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ واقعہ اسی جاری خفیہ جنگ کا تسلسل ہو سکتا ہے، تاہم اس بار ہدف ایک اعلیٰ ترین سیکیورٹی عہدیدار ہونے کے باعث اس کے اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
ایرانی حکام نے اس واقعے کو “کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر براہ راست یا پراکسی گروپس کے ذریعے جواب دے سکتا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو کسی بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے، اور ماہرین کے مطابق ماجد خادمی کی ہلاکت اس تنازع کو مزید شدت دے سکتی ہے۔



