واٹس ایپ کا نیا فیچر: یوزر نیم سے چیٹ، فون نمبر شیئر کرنے کی ضرورت ختم
واٹس ایپ کا نیا یوزر نیم فیچر صارفین کی پرائیویسی
لندن 09 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ ایک بڑی تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے جو صارفین کے رابطے کے انداز کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی جلد ایسا فیچر متعارف کروانے والی ہے جس کے ذریعے صارفین بغیر فون نمبر شیئر کیے ایک دوسرے سے چیٹ کر سکیں گے۔
اب تک واٹس ایپ پر کسی بھی نئے شخص سے رابطہ کرنے کے لیے موبائل نمبر لازمی ہوتا تھا، لیکن نئے یوزر نیم فیچر کے ذریعے صارفین صرف اپنے مخصوص صارف نام کے ذریعے دوسروں سے جڑ سکیں گے۔ یہ نظام کسی حد تک دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسا ہوگا جہاں صارفین کو تلاش کرنا آسان ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس فیچر کی آزمائش اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں پلیٹ فارمز پر کی جا رہی ہے اور محدود صارفین کو اس تک رسائی دی جا چکی ہے۔ اگر یہ مکمل طور پر متعارف ہو جاتا ہے تو اسے واٹس ایپ کی تاریخ کی سب سے بڑی اپڈیٹس میں شمار کیا جائے گا۔
اس تبدیلی کا سب سے بڑا فائدہ صارفین کی پرائیویسی میں اضافہ ہے۔ نئے نظام کے تحت صارفین کو اپنا موبائل نمبر شیئر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، جس سے ذاتی معلومات کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ خاص طور پر وہ افراد جو اپنے نمبر کو خفیہ رکھنا چاہتے ہیں، اس فیچر سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہر صارف کو ایک منفرد یوزر نیم منتخب کرنا ہوگا، جس کے ذریعے دیگر افراد انہیں تلاش کر سکیں گے اور پیغامات بھیج سکیں گے۔ یہ طریقہ کار ٹیلیگرام اور سگنل جیسی ایپس میں پہلے سے موجود ہے، جہاں صارفین بغیر نمبر کے بھی رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔
تاہم، ماہرین نے اس حوالے سے کچھ خدشات بھی ظاہر کیے ہیں، جن میں غیر مطلوب پیغامات یا سپیم میں اضافہ شامل ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واٹس ایپ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئی پرائیویسی سیٹنگز بھی متعارف کروائے گا، تاکہ صارفین خود طے کر سکیں کہ کون انہیں پیغام بھیج سکتا ہے۔
یہ فیچر کاروباری افراد اور مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ یوزر نیم کے ذریعے وہ اپنے سامعین سے آسانی سے جڑ سکیں گے بغیر اس کے کہ انہیں اپنا ذاتی نمبر عام کرنا پڑے۔
فی الحال اس فیچر کو مرحلہ وار متعارف کروایا جا رہا ہے اور تمام صارفین تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کے مکمل نفاذ کے بعد واٹس ایپ پر رابطے کا طریقہ کار یکسر تبدیل ہو جائے گا۔



