قومی خبریں

طویل طلاقی تنازع کا خاتمہ: سپریم کورٹ کا شوہر کو 5 کروڑ روپے نان نفقہ ادا کرنے کا حکم

یہ شادی عملی طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے مکمل انصاف ضروری ہے

نئی دہلی 09 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے ایک طویل عرصے سے جاری ازدواجی تنازع کو ختم کرتے ہوئے شوہر کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی علیحدہ رہنے والی بیوی کو ایک مرتبہ میں 5 کروڑ روپے ادا کرے۔ عدالت نے اس معاملے کو “مہابھارت جیسی لڑائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شادی عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اس ایک دہائی پرانے تنازع کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ مکمل انصاف فراہم کیا جا سکے۔

تفصیلات کے مطابق، دونوں کی شادی سنہ 2010 میں ہوئی تھی اور ان کے دو بیٹے ہیں۔ سنہ 2016 میں تعلقات خراب ہونے کے بعد دونوں الگ ہو گئے، جس کے بعد قانونی لڑائی شروع ہو گئی۔ بیوی نے الزام لگایا کہ شوہر نے نہ تو اس کی اور نہ ہی بچوں کی مالی ذمہ داری پوری کی۔

بیوی ممبئی کے لوکھنڈوالا علاقے میں تین بیڈ روم کے فلیٹ میں رہ رہی تھی، جو اس کے سسر کی ملکیت تھا۔ شوہر چاہتا تھا کہ وہ مکان خالی کر دے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ شوہر نے نہ صرف بیوی بلکہ اس کے اہل خانہ اور وکلاء کے خلاف بھی متعدد مقدمات درج کیے۔

بیوی کے وکیل کے مطابق، شوہر جو خود ایک وکیل ہے، اس نے اپنے قانونی علم کا غلط استعمال کرتے ہوئے 80 سے زائد مقدمات درج کیے اور عدالت کے احکامات کے باوجود نان نفقہ ادا نہیں کیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ شوہر نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر کے عہدوں سے استعفیٰ دے کر اپنی مالی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب، شوہر نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ اس کے خلاف درج فوجداری مقدمات، جن میں گھریلو تشدد اور دیگر دفعات شامل ہیں، کی وجہ سے اسے ذہنی اذیت اور پیشہ ورانہ نقصان اٹھانا پڑا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے بچوں کو اس سے دور کیا گیا اور بیوی نے خود کو مالی طور پر کمزور ظاہر کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شوہر کی جانب سے دائر کیے گئے بیشتر مقدمات انتقامی نوعیت کے معلوم ہوتے ہیں اور اس کا رویہ منفی اور جھگڑالو رہا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بیوی کے تعلیم یافتہ اور برسر روزگار ہونے کے باوجود شوہر اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے بری نہیں ہو سکتا۔

فیصلے کے مطابق، عدالت نے شادی کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان جاری تمام دیوانی اور فوجداری مقدمات بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔ بچوں کی تحویل ماں کو دی گئی ہے جبکہ باپ کو ملاقات کا حق دیا گیا ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ شوہر ایک سال کے اندر 5 کروڑ روپے ادا کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی بیوی کو ہدایت دی گئی کہ رقم وصول کرنے کے بعد وہ دو ہفتوں کے اندر فلیٹ خالی کر دے۔ عدالت نے شوہر کو بھی پابند کیا کہ وہ آئندہ بیوی، اس کے اہل خانہ یا وکلاء کے خلاف کوئی نیا مقدمہ درج نہیں کرے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button