بین الاقوامی خبریں

ایران سے منسلک ہیکرز کا امریکی بحریہ پر بڑا سائبر حملہ، 2,379 فوجیوں کا خفیہ ڈیٹا لیک

یہ صرف ڈیٹا چوری نہیں بلکہ ایک نفسیاتی جنگ ہے

واشنگٹن 30 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اب روایتی جنگی محاذوں سے نکل کر ڈیجیٹل میدان تک پھیل چکی ہے۔اطلاعات کے مطابق ایران سے منسلک ایک ہیکر گروپ نے امریکی بحریہ کے خلاف بڑے پیمانے پر سائبر حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 2,379 امریکی فوجیوں کا حساس اور خفیہ ڈیٹا لیک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق 28 اور 29 اپریل کو خلیج فارس میں تعینات امریکی فوجیوں کو واٹس ایپ کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے۔ ان پیغامات میں فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی شناخت معلوم ہے اور انہیں اپنے اہل خانہ سے آخری رابطہ کرنے کی تنبیہ دی گئی۔ پیغامات میں ڈرون اور میزائل حملوں کی دھمکیاں بھی شامل تھیں، جبکہ فوجیوں کے نام، فون نمبر اور رہائشی پتے جیسی ذاتی معلومات بھی افشا کر دی گئیں۔

امریکی تفتیش کاروں کے مطابق "ہنڈلا ہیک” نامی گروپ، جو خود کو فلسطین کا حامی ظاہر کرتا ہے، دراصل ایران کی انٹیلی جنس سے جڑا ہوا ہو سکتا ہے۔ ہیکرز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی ایران کے علاقے مناب میں ایک اسکول پر حملے کے ردعمل میں کی گئی۔ لیک شدہ ڈیٹا کو ٹیلی گرام پر جاری کیا گیا، اور مزید معلومات منظر عام پر لانے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

سائبر حملے کے بعد امریکی وزیر دفاع نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ایران کی مایوسی قرار دیا اور سائبر سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ پینٹاگون اور امریکی سائبر کمانڈ نے فوجیوں کو ذاتی آلات کے استعمال میں احتیاط برتنے کی تاکید کی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ محض ڈیٹا چوری کا معاملہ نہیں بلکہ ایک منظم نفسیاتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد امریکی فوجیوں اور ان کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالنا ہے۔ اس پیش رفت نے واضح کر دیا ہے کہ جدید دور میں جنگ صرف میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button