سپریم کورٹ نے اراضی تنازعات کے حل کے لیے ریونیو جسٹس سروس پر حکومت سے جواب طلب کیا
اراضی تنازعات کے حل کے نظام میں وسیع اصلاحات ناگزیر ہیں
نئی دہلی 30 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ملک میں زمین کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار میں ممکنہ بڑی تبدیلی کے معاملے پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور ریاستوں سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے "ریونیو جسٹس سروس” کے قیام کی تجویز پر وضاحت مانگی ہے۔
یہ معاملہ وکیل اشونی اپادھیائے کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی کے ذریعے عدالت کے سامنے آیا۔ عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک میں تقریباً 66 فیصد سول مقدمات زمین کے تنازعات پر مشتمل ہیں، جن کی سماعت اکثر ایسے افسران کرتے ہیں جن کے پاس مناسب قانونی تعلیم یا تربیت نہیں ہوتی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ نظام کی وجہ سے نہ صرف غلط فیصلوں کا امکان بڑھ جاتا ہے بلکہ جائیداد کے حقوق سے متعلق طویل غیر یقینی صورتحال بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کی خرید و فروخت اور استعمال میں رکاوٹیں آتی ہیں اور قانونی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے عام شہریوں کی انصاف تک رسائی متاثر ہوتی ہے۔
عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ صورتحال آئین ہند کے آرٹیکل 14 (مساوات کا حق) اور آرٹیکل 21 (باوقار زندگی کا حق) کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اس لیے عدالت حکومت کو ہدایت دے کہ ایک باقاعدہ "ریونیو جسٹس سروس” قائم کی جائے، جس کے افسران کے لیے کم از کم قانونی قابلیت اور تربیت کو لازمی قرار دیا جائے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیا باغچی پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے معاملات پر پہلے بھی فیصلے آ چکے ہیں، اور عدالت حکومت کا مؤقف سننے کے بعد آئندہ کارروائی کرے گی۔
یہ معاملہ ملک کے عدالتی نظام میں اصلاحات کی ایک بڑی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر زمین کے تنازعات جیسے پیچیدہ اور طویل مقدمات کے تناظر میں۔



