بین الاقوامی خبریںسرورق

"امن کا نعرہ، جنگ کی حکمت عملی”- ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر ماہرین کی تنقید

امریکی پالیسی پر سوالات، ماہرین نے ٹرمپ کے مؤقف کو متنازع قرار دے دیا

واشنگٹن 30 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن کے دعوے ایک بار پھر سوالوں کی زد میں آ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ بظاہر امن کی بات کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ایسے اقدامات کرتے ہیں جو جنگی کیفیت کو بڑھا دیتے ہیں۔

خارجہ امور کے ماہر وائل عواد نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے کئی اہم خطوں میں کشیدگی کو ہوا دی ہے۔ ان کے مطابق وینزویلا، ایران اور روس۔یوکرین جنگ جیسے معاملات میں امریکی فیصلوں نے حالات کو مزید سنگین بنایا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حقیقی معنوں میں امن مطلوب ہو تو امریکہ کو اپنی سفارتی قوت استعمال کرتے ہوئے تمام فریقوں کو بات چیت کی میز پر لانا چاہیے، نہ کہ دباؤ اور عسکری اقدامات کو ترجیح دینی چاہیے۔

 وائل عواد کے مطابق ٹرمپ کی سوچ "امریکہ سب سے پہلے” اور "امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں” جیسے نعروں سے جڑی ہوئی ہے، جو موجودہ عالمی نظام میں تنازعات کو کم کرنے کے بجائے بڑھا سکتی ہے۔

عواد نے کہا کہ امریکہ کے پاس ایران کے حوالے سے مختلف راستے موجود ہیں، جن میں مفاہمت، دباؤ یا پابندیوں کا تسلسل شامل ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو یہ کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔انہوں نے ہندوستان اور ایران کے درمیان رابطوں کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایس جے شنکر اور عباس عراقچی کے درمیان بات چیت خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے جہاں سے توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ خلیج فارس کسی بھی بیرونی طاقت کے لیے کھلا میدان نہیں ہے اور کسی بھی مداخلت کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button