بین الاقوامی خبریںسرورق

امریکی صدر کا سخت مؤقف: ایران کی ناکہ بندی ختم نہیں ہوگی، بحران بڑھنے کی وارننگ

ایران پر امریکی ناکہ بندی برقرار: قالین سے خوراک تک صنعتیں شدید بحران کا شکار

واشنگٹن / تہران 30 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دباؤ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تہران امریکی خدشات کے مطابق اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ ان کے اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اس حکمت عملی کو فوجی حملوں سے زیادہ مؤثر سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے ایران کو اندر سے کمزور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی معیشت اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور اگر صورتحال یہی رہی تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

امریکی پالیسی کے تحت ایران کو معاشی طور پر گھیر کر مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی عسکری قیادت نے محدود نوعیت کے ممکنہ حملوں کے منصوبے بھی تیار کر رکھے ہیں تاکہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہو جائیں تو دباؤ کو مزید بڑھایا جا سکے۔

دوسری جانب ایران نے اس حکمت عملی کو جارحانہ اقدام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی جاری رہی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن مزید دباؤ برداشت کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ایران پر امریکی ناکہ بندی برقرار: قالین سے خوراک تک صنعتیں شدید بحران کا شکار

امریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کے مختلف صنعتی شعبے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ قالین سازی جیسی قدیم صنعت، جو کبھی برآمدات کا اہم ذریعہ تھی، اب زوال کا شکار ہے۔ اسی طرح ڈیری مصنوعات، تعمیراتی سامان اور دیگر بنیادی اشیاء کی پیداوار اور فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

فیکٹریاں بند ہونے لگی ہیں، خام مال مہنگا ہو گیا ہے اور کئی کاروباری سرگرمیاں رک چکی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ عام شہری مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایران کو ایک طویل معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

قالیباف کا الزام: امریکی حکمت عملی ایران کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف Mohammad Bagher Ghalibaf نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو اندرونی طور پر کمزور کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اقتصادی دباؤ کے ساتھ ساتھ سیاسی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ملک کو اندر سے ٹوٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف معاشی پابندیاں نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی ہے، جس کا مقصد ایران کو سیاسی اور سماجی طور پر عدم استحکام کا شکار بنانا ہے۔

امریکی فوج اور حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں اپنے اثرات دکھا رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں ایرانی معیشت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق تیل کی برآمدات میں کمی اور تجارتی سرگرمیوں میں سست روی اس بات کا ثبوت ہے کہ ناکہ بندی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ دباؤ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک ایران اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لاتا۔

اس کشیدگی کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر قدم اہم ہے۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو یہ تنازع ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button