بیوی کے ڈیڑھ سال میں تین مردوں سے تعلقات، نجی ویڈیوز لیک،شوہر کی خودکشی
میں نے اسے ہر خوشی دی، لیکن اس نے مجھے دھوکہ دیا
حیدرآباد 30 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) حیدرآباد میں ایک نہایت سنسنی خیز اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک سافٹ ویئر انجینئر نے اپنی بیوی کے تعلقات اور نجی ویڈیوز کے افشاء ہونے سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کر لی۔ اس معاملے نے پورے علاقے میں ہلچل مچا دی ہے اور پولیس کی تفتیش میں چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
پولیس کے مطابق آندھرا پردیش کے مارکاپور سے تعلق رکھنے والے سیتارام کی شادی سال 2018 میں نندیال کی رہائشی رینوکا سے ہوئی تھی۔ دونوں کے دو بچے بھی ہیں اور یہ خاندان حیدرآباد کے باچوپلی علاقے میں مقیم تھا۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے گھریلو زندگی میں کشیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔
تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ سیتارام نے اپنی موت سے قبل 19 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی خط لکھا تھا جس میں اس نے اپنی بیوی کے مبینہ رویے اور تعلقات کو اپنی خودکشی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ اس خط میں اس نے الزام لگایا کہ اس کی بیوی نے ڈیڑھ سال کے اندر تین مختلف افراد سے تعلقات قائم کیے۔
سیتارام نے خط میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان تعلقات کے دوران بنائی گئی نجی ویڈیوز میں سے ایک کو مبینہ طور پر ایک شخص نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر شیئر کر دیا، جسے دیکھ کر وہ شدید ذہنی صدمے میں آ گیا۔ اس نے لکھا کہ وہ ان مناظر کو دیکھ کر ٹوٹ گیا اور خود کو سنبھال نہ سکا۔
خط کے مطابق، سیتارام نے اپنی بیوی کے لیے ہر ممکن سہولت اور خوشی فراہم کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے باوجود اسے دھوکہ دیا گیا۔ اس نے یہ بھی ذکر کیا کہ اس کی غیر موجودگی میں ایک شخص کئی بار اس کے گھر آتا رہا اور اس کی بیوی کے ساتھ وقت گزارتا رہا۔ خط میں اس نے سوال اٹھایا کہ آخر اس کی بیوی کو کیا چاہیے تھا اور اس نے اس کے اعتماد کو کیوں توڑا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سیتارام نے رواں سال فروری میں حسین ساگر جھیل میں کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا تھا۔ واقعے کے بعد متوفی کے والدین کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ تفتیش کے دوران یہ 19 صفحات پر مشتمل خط برآمد ہوا جس میں کئی سنگین الزامات اور تفصیلات درج ہیں۔
حکام کے مطابق اس کیس میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سیتارام کی بیوی اور اس کے دو ساتھی شامل ہیں۔ پولیس اس معاملے کے تمام پہلوؤں کی باریکی سے جانچ کر رہی ہے تاکہ مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کی کہانی بیان کرتا ہے بلکہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور ذاتی زندگی کے معاملات کے افشاء ہونے کے سنگین نتائج کو بھی اجاگر کرتا ہے۔



