سوشل میڈیا پر وائرل ماں اور بیٹے کی تصویر جعلی نکلی، اے آئی کا فریب ثابت
وائرل جذباتی تصویر حقیقت نہیں بلکہ اے آئی کا فریب نکلی
جبل پور 02 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سوشل میڈیا پر ماں اور بچے کی ایک دل دہلا دینے والی تصویر تیزی سے وائرل ہوئی، جسے مدھیہ پردیش کے جبل پور میں برگی ڈیم کروز حادثے سے جوڑا جا رہا تھا، تاہم حقائق کی جانچ پڑتال میں یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ثابت ہوا۔
وائرل پوسٹس میں کہا گیا تھا کہ یہ تصویر حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن کے دوران لی گئی آخری تصویر ہے، جس میں ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ اس جذباتی دعوے نے صارفین کو متاثر کیا اور تصویر تیزی سے پھیل گئی۔
30 اپریل کو برگی ڈیم پر پیش آنے والے کروز حادثے میں ایک کشتی تیز طوفان کے باعث الٹ گئی تھی، جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک جبکہ 22 کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ حادثے کے بعد مذکورہ تصویر کو اسی واقعے سے جوڑ کر شیئر کیا جانے لگا۔
پی ٹی آئی فیکٹ چیک کے مطابق یہ تصویر حقیقی نہیں بلکہ اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں مختلف اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز استعمال کیے گئے، جن میں Hive کے ٹول نے اسے تقریباً 96 فیصد اے آئی سے تیار قرار دیا۔ SiteEngine نے بھی اے آئی ہونے کا امکان ظاہر کیا، جبکہ دیگر تجزیوں میں تصویر میں غیر معمولی عناصر سامنے آئے۔
ماہرین کے مطابق تصویر میں ہاتھوں کی غیر فطری ساخت، پانی کی غیر معمولی حرکت اور جلد کی حد سے زیادہ ہموار بناوٹ ایسے عناصر ہیں جو عام طور پر اے آئی تصاویر میں دیکھے جاتے ہیں۔
تحقیقات کے دوران جبل پور ضلع انتظامیہ نے بھی اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وائرل تصویر کا برگی کروز حادثے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ضلع کلکٹر نے واضح کیا کہ یہ تصویر یا تو اے آئی سے بنائی گئی ہے یا کسی اور ذریعہ سے لی گئی ہے۔
انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ تصاویر اور معلومات کو شیئر کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے کنفیوژن اور غلط معلومات پھیلتی ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر جذباتی مواد کتنی تیزی سے وائرل ہو جاتا ہے۔ اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کے بڑھتے استعمال کے باعث غلط معلومات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، اس لیے کسی بھی مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔



