قومی خبریں

برگی ڈیم حادثہ:وائرل ماں اور بچے کی تصویر جعلی نکلی، اے آئی سے تیار ہونے کا انکشاف

وائرل جذباتی تصویر حقیقت نہیں بلکہ اے آئی کا فریب نکلی

جبل پور 02 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے جبل پور میں برگی ڈیم پر پیش آنے والے المناک کروز کشتی حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر ماں اور بچے کی ایک جذباتی تصویر تیزی سے وائرل ہو گئی، جسے حادثے کے متاثرین سے جوڑا جا رہا تھا، تاہم ضلعی انتظامیہ نے اس دعوے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

انتظامیہ کے مطابق وائرل تصویر کا برگی ڈیم حادثے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جبل پور کلکٹر کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ تصویر یا تو اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی ہے یا کسی غیر متعلقہ ذریعے سے لی گئی ہے، اس لیے اسے حادثے سے منسلک کرنا درست نہیں۔

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برگی ڈیم پر پیش آنے والے حادثے کے بعد ریسکیو اور ریلیف کارروائیاں جاری ہیں۔ تیز طوفان کے باعث ایک سیاحتی کروز کشتی الٹ گئی تھی، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے، جبکہ کئی کو بحفاظت بچا لیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس حساس صورتحال میں غیر تصدیق شدہ اور جذباتی مواد کا پھیلاؤ مزید کنفیوژن اور متاثرہ خاندانوں کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور غیر مصدقہ تصاویر یا خبروں کو شیئر کرنے سے گریز کریں۔

یہ واقعہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جس میں اے آئی سے تیار کردہ یا گمراہ کن تصاویر ہنگامی حالات میں تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی نے حقیقت اور فریب میں فرق کرنا مشکل بنا دیا ہے، اس لیے صارفین کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

انتظامیہ نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں درست معلومات کی ترسیل نہایت اہم ہے تاکہ ریسکیو آپریشن متاثر نہ ہوں اور متاثرہ افراد کے احترام کو برقرار رکھا جا سکے۔ سوشل میڈیا صارفین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف تصدیق شدہ مواد ہی شیئر کرنا چاہیے۔

انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ تصاویر اور معلومات کو شیئر کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے کنفیوژن اور غلط معلومات پھیلتی ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر جذباتی مواد کتنی تیزی سے وائرل ہو جاتا ہے۔ اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کے بڑھتے استعمال کے باعث غلط معلومات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، اس لیے کسی بھی مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button