
ڈاکٹروں کی غلط تشخیص، آنکھوں سے محروم نومولود کی پیدائش کے معاملے میں ڈاکٹروں پر ایک کروڑ روپے جرمانہ
حمل کے دوران غلط طبی رپورٹ ایک خاندان کی زندگی بدل سکتی ہے۔
عادل آباد 12 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) تلنگانہ کے ضلع عادل آباد سے ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی مبینہ لاپرواہی کے سبب ایک خاتون نے ایسے نومولود کو جنم دیا جس کی دونوں آنکھیں موجود نہیں تھیں۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ خاندان شدید صدمے میں مبتلا ہو گیا۔
متاثرہ خاتون بھاگیہ شری نے بتایا کہ حمل کے دوران وہ ہر ماہ اسپتال جا کر جانچ اور اسکین کرواتی رہی۔ ہر مرتبہ ڈاکٹروں کی جانب سے یہی کہا گیا کہ بچہ مکمل طور پر صحت مند ہے اور کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں۔ خاندان نومولود کی آمد کے انتظار میں خوش تھا، لیکن زچگی کے وقت حقیقت سامنے آنے پر سب حیران رہ گئے۔
بھاگیہ شری کے مطابق کئی مرتبہ جانچ کے باوجود اتنی بڑی جسمانی کمی کا پتہ نہ چلنا سنگین غفلت ہے۔ انہوں نے انصاف کے لیے صارف کمیشن (Consumer Commission) سے رجوع کیا اور ڈاکٹروں پر غلط رپورٹ دینے کا الزام عائد کیا۔
معاملے کی سماعت کے دوران کمیشن کے صدر جابیز شامیول نے کہا کہ حمل کے دوران درست طبی جانچ نہ کرنا اور غلط رپورٹ جاری کرنا واضح لاپرواہی کے دائرے میں آتا ہے۔ کمیشن نے متاثرہ خاتون کو ذہنی اور مالی نقصان پہنچنے کو بھی اہم قرار دیا۔
صارف کمیشن نے اپنے فیصلے میں بھاگیہ شری کو ایک کروڑ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ عدالتی اخراجات کی مد میں چونتیس ہزار روپے دینے کی بھی ہدایت جاری کی گئی۔
اس فیصلے کو طبی شعبے میں ذمہ داری اور احتیاط کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق حاملہ خواتین کی جانچ سے متعلق ہر رپورٹ ایک خاندان کے مستقبل پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس معاملے نے طبی لاپرواہی کے سنگین نتائج کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔



