نئی دہلی 22 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)انڈین ریلوے میں سفر کرنے والے بیشتر مسافروں کو اس بات کی مکمل جانکاری نہیں ہوتی کہ اگر ان کی ٹرین چھوٹ جائے تو کیا وہ اسی ٹکٹ پر کسی دوسری ٹرین میں سفر کرسکتے ہیں یا نہیں۔ ریلوے قوانین کے مطابق ہر ٹکٹ صرف مخصوص ٹرین، تاریخ اور کلاس کے لیے ہی قابل قبول ہوتا ہے۔
ریلوے کے قواعد کے مطابق اگر کسی مسافر نے کسی ایکسپریس ٹرین میں سلیپر یا اے سی کلاس کا ریزرویشن کرایا ہو اور وہ ٹرین چھوٹ جائے تو عام طور پر اسی ٹکٹ پر دوسری ٹرین میں سفر کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک درست ٹکٹ ہونے کی صورت میں کسی بھی ٹرین میں سفر کیا جاسکتا ہے، لیکن ریلوے قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔
البتہ جنرل یا اَن ریزروڈ ٹکٹ کے معاملے میں ضابطے مختلف ہیں۔ اگر کوئی مسافر ریلوے اسٹیشن کاؤنٹر یا ریل ون ایپ کے ذریعے جنرل ٹکٹ حاصل کرتا ہے تو وہ اسی روٹ پر چلنے والی دوسری ٹرین یا جنرل کوچ والی ٹرین میں سفر کرسکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ٹکٹ پر درج تاریخ اور منزل کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔
ریلوے ذرائع کے مطابق جنرل ٹکٹ محدود وقت کے لیے ہی قابل استعمال ہوتا ہے اور عموماً یہ چند گھنٹوں تک ہی مؤثر مانا جاتا ہے۔ اگر مسافر مقررہ مدت کے اندر دوسری ٹرین میں سوار ہوجائے تو اسے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
کچھ خاص حالات میں اگر کنیکٹنگ ٹرین ریلوے کی تاخیر کی وجہ سے چھوٹ جائے تو مسافر اسٹیشن حکام سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ اگر ایک ہی پی این آر نمبر پر اگلا سفر درج ہو یا تاخیر ریلوے کی جانب سے ہوئی ہو تو حکام متبادل انتظامات فراہم کرسکتے ہیں۔
ریلوے حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سفر کے لیے کم از کم 30 سے 45 منٹ پہلے اسٹیشن پہنچیں۔ اس کے علاوہ پلیٹ فارم نمبر اور ٹرین کی موجودہ صورتحال ایپس یا ریلوے اطلاعاتی نظام کے ذریعے پہلے سے معلوم کرلینے سے ٹرین چھوٹنے جیسے مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔



