اسرائیل کی حفاظت امریکہ پر بھاری، ’تھاڈ‘ انٹرسیپٹر کا نصف ذخیرہ ختم ہونے کا دعویٰ
اسرائیل کے دفاع میں امریکہ نے اپنی فوج سے زیادہ میزائل انٹرسیپٹر استعمال کیے: رپورٹ
واشنگٹن 22 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے دفاع میں جدید میزائل شکن نظام ’تھاڈ‘ کے وسیع استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اسرائیل کی حفاظت کے لیے اپنے مجموعی ’تھاڈ‘ انٹرسیپٹر ذخیرے کا تقریباً نصف حصہ استعمال کر لیا۔
رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ جنگی حالات کے دوران امریکہ نے اسرائیل کے دفاع میں 200 سے زیادہ ’تھاڈ‘ انٹرسیپٹر داغے۔ اس کے علاوہ مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات امریکی بحری جہازوں سے 100 سے زائد جدید دفاعی میزائل بھی فائر کیے گئے، جن میں ’اسٹینڈرڈ میزائل-3‘ اور ’اسٹینڈرڈ میزائل-6‘ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ اسرائیلی فوج نے تقریباً 100 ’ایرو‘ انٹرسیپٹر اور قریب 90 ’ڈیوڈس سلنگ‘ انٹرسیپٹر داغے۔ ان میں سے بعض میزائل یمن اور لبنان میں ایران نواز گروپوں کی جانب سے داغے گئے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے استعمال کیے گئے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں ایران کے خلاف دوبارہ حملے کیے گئے تو امریکہ کو مزید دفاعی انٹرسیپٹر استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں۔ عہدیدار کے مطابق اسرائیل نے اپنی بعض میزائل دفاعی بیٹریاں دیکھ بھال کے لیے عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جس سے دفاعی دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے فوجی مراکز پر مشترکہ حملے کیے۔ ان حملوں کے بعد خطے میں کئی روز تک شدید فوجی تصادم جاری رہا۔ بعد ازاں دونوں فریقوں کے درمیان عارضی جنگ بندی نافذ کی گئی، جبکہ اب سفارتی سطح پر مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ان خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ دفاعی کارروائیوں میں متوازن کردار ادا کیا۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق دونوں ممالک نے جنگی طیاروں، بغیر پائلٹ دفاعی نظاموں اور جدید فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔
واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے بھی مشترکہ فوجی تعاون کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے خطے میں اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل رابطہ کاری اور قریبی تعاون کے ساتھ کارروائیاں انجام دیں۔



