مصنوعی ذہانت AI کے بڑھتے اثرات، میٹا نے 8 ہزار ملازمین کو ملازمت سے نکال دیا
مستقبل اب انہی کا ہوگا جو مصنوعی ذہانت کے ساتھ تیزی سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
واشنگٹن 12 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث جہاں عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہیں ٹیکنالوجی کی دنیا بھی ایک بڑے تغیر سے گزر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے استعمال نے عالمی ٹیک سیکٹر میں ملازمتوں کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسی سلسلے میں فیس بُک کی بانی کمپنی میٹا نے 20 مئی کو تقریباً 8 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میٹا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرمارک زکربرگ کمپنی کو ایک نئے ماڈل کے تحت منظم کر رہے ہیں، جہاں چھوٹی مگر زیادہ مؤثر ٹیموں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ حالیہ سہ ماہی نتائج کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل میں وہی ملازمین کمپنی کے لیے زیادہ اہم ہوں گے جو کم وسائل کے ساتھ بڑے منصوبوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
زکربرگ کے مطابق مصنوعی ذہانت سے چلنے والے جدید آلات نے کام کرنے کے انداز کو یکسر بدل دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ایک یا دو افراد وہ کام چند دنوں میں مکمل کر لیتے ہیں جس کے لیے پہلے بڑی انجینئرنگ ٹیموں کو کئی ماہ درکار ہوتے تھے۔ اسی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے میٹا اپنے داخلی ڈھانچے کو زیادہ مختصر اور تیز رفتار بنا رہی ہے۔
کمپنی کے اندر انتظامی سطح پر بھی بڑی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ میٹا میں اب ایسا نظام نافذ کیا جا رہا ہے جہاں درجنوں انجینئروں کی نگرانی کے لیے محدود تعداد میں منتظمین رکھے جائیں گے تاکہ فیصلہ سازی کا عمل تیز ہوسکے اور اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
میٹا رواں برس مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر غیر معمولی سرمایہ خرچ کر رہی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز، جدید چپس اور اے آئی ماڈلز کی تربیت پر کمپنی 125 سے 145 ارب ڈالر تک خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کمپنی کی چیف فائننشل آفیسر سوسان لی Susan Li کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں بنیادی ڈھانچے پر خرچ تقریباً دوگنا ہو چکا ہے، جس کے باعث کمپنی کے بجٹ اور ملازمین کے اخراجات کے درمیان توازن متاثر ہوا ہے۔
اسی معاشی دباؤ کے تحت ملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمپنی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بدلتی صلاحیتوں کے باعث اب یہ طے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کسی ٹیک کمپنی کا مثالی حجم کیا ہونا چاہیے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو بھی فکر میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے بعد میٹا کے حصص میں تقریباً 6 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
ادھر کمپنی کے اندر کام کرنے والے ملازمین بھی نئی پالیسیوں سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میٹا نے ایک داخلی نگرانی نظام متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے ملازمین کی کمپیوٹر سرگرمیوں، کلک، کی بورڈ کے استعمال اور ماؤس کی حرکت تک کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ کارکردگی جانچنے کے عمل میں بھی جدید خودکار نظام استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت انسانوں کی ملازمتیں کم کر دے گی یا ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی۔ میٹا کی نئی حکمت عملی نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ کمپنی کا واضح اشارہ ہے کہ آنے والے دور میں وہی افراد کامیاب تصور کیے جائیں گے جو مصنوعی ذہانت کے ساتھ تیزی، مہارت اور مؤثر انداز میں کام کر سکیں گے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ مصنوعی ذہانت پر ہونے والی یہ بھاری سرمایہ کاری اور کمپنی کے نئے ڈھانچے کی حکمت عملی میٹا کو مستقبل میں کس حد تک معاشی استحکام اور تجارتی فائدہ پہنچا پاتی ہے۔



