
عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حکم پر حکومت کا اعتراض، سپریم کورٹ سے نظرثانی کی درخواست کرے گی
کومت عمران خان کا طبی معائنہ سرکاری اعلیٰ درجے کے اسپتال میں کرانے کی خواہاں
اسلام آباد، 19 اگست 2026 (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں)پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت نے نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے دیا گیا حکم قیدیوں کو دستیاب طبی سہولیات سے متعلق قانونی دائرہ کار سے آگے ہے، اس لیے حکومت مناسب قانونی راستہ اختیار کرے گی۔
مقامی میڈیا کے مطابق اعظم نذیر تارڑ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ حکومت نے عدالتی حکم کے مختلف پہلوؤں اور متعلقہ قوانین کا جائزہ لیا ہے۔ ان کے مطابق حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سزا یافتہ قیدیوں کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے موجود قانونی ضوابط میں نجی اسپتال سے متعلق ایسی ہدایت کی گنجائش واضح نہیں ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ حکومت خاص طور پر عمران خان کے طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال جانے کی ہدایت میں مناسب ترمیم کی درخواست کرے گی۔ حکومت کی خواہش ہے کہ سابق وزیراعظم کا طبی معائنہ کسی سرکاری اعلیٰ درجے کے اسپتال میں کرایا جائے، جبکہ ضرورت پڑنے پر دیگر بڑے طبی اداروں کے ماہرین کو بھی میڈیکل بورڈ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق قانون میں قیدی کی طبی حالت کا جائزہ لینے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا طریقہ موجود ہے۔ یہی بورڈ اس بات کا تعین کرسکتا ہے کہ قیدی کا علاج جیل کے اندر ممکن ہے یا اسے مزید طبی سہولت کے لیے جیل سے باہر اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر قیدیوں کو طبی معائنے کے لیے نجی اسپتالوں میں منتقل کرنے کا اصول عام کردیا جائے تو ملک بھر میں ایسے ہزاروں قیدی موجود ہیں جو مختلف بیماریوں اور طبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اسی قانونی طریقہ کار کے تحت عمران خان کے طبی معائنے کا انتظام چاہتی ہے۔
اس سے ایک روز قبل سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے طبی معائنے کے حوالے سے حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ حراست میں موجود افراد کی زندگی، صحت، عزت اور سلامتی کا تحفظ ریاست اور عدالت کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔
عمران خان کی صحت سے متعلق معاملے پر پاکستانی میڈیا میں بھی مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ روزنامہ ڈان نے اپنے اداریے میں کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کئی ماہ سے کسی نہ کسی طبی مسئلے کا سامنا کرتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم جیل حکام ان کی بیماری سے متعلق خدشات کی مسلسل تردید کرتے رہے ہیں۔
ڈان کے اداریے میں سابق حکمرانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھی سوال اٹھایا گیا اور کہا گیا کہ ریاست کے لیے ضروری ہے کہ زیرحراست سابق رہنماؤں کے ساتھ بھی انسانی اور مناسب قانونی رویہ اختیار کیا جائے۔



