
دسویں جماعت کے طلبہ کے ہاتھوں استاد کا قتل: ایک المیہ، ایک موقعِ بیداری کا-ڈاکٹر محمد مصطفے علی سروری
دسویں جماعت کی عمر میں قتل کا خیال کیسے آیا؟
کچھ خبریں دیکھکر کر ایک طرف رکھی جا سکتی ہیں۔ کچھ خبریں پڑھ کر بھلائی جا سکتی ہیں۔ لیکن کچھ واقعات دل میں ایک سوال بن کر رہ جاتے ہیں۔ نلگنڈہ ضلع کے کونڈاملے پلی میں ناگارجن اسکول کی پرنسپل روپا ریڈی کے قتل کا کیس ایسا ہی ہے۔ پولیس کی تفصیلات سننے کے بعد ایک سوال جو ہر سنجیدہ شہری کو شدید بے چین کر کے رکھ دیا وہ یہ کہ جن ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہیے تھیں، ان میں چاقو کہاں سے آئے؟
یہ صرف ایک کرائم اسٹوری نہیں بلکہ ہمارے خاندانی نظام، تعلیمی نظام، معاشرتی اقدار اور اخلاقیات پر ایک کھلا سوال ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے اگر میں قارئین کو پس منظر بتادوں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
کیس کا پس منظر اور جائزہ
یہ واقعہ تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ کے کونڈاملے پلی میں ناگارجن اسکول کا ہے جہاں کی پرنسپل روپا ریڈی کو قتل کر دیا گیا۔ اس قتل کے مرتکب خود اس اسکول کے دسویں جماعت کے دو طلبہ تھے جن کی عمر تقریباً 15 سے 16 سال بتلائی گئی ہے۔ اس ماہ کی 11 تاریخ کو ان طلباءنے چاقو سے 27 وار کر کے روپا ریڈی کا قتل کیا اور ان کا مقصد رقم اور فون چوری کرنا تھا۔
پولیس کی تحقیقات میں اہم انکشافات
پولیس نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں اور تقریباً 70 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا۔ ابتدائی طور پر 13 مشتبہ طلبہ سے پوچھ گچھ کی گئی جن میں سے دو ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔
تحقیقات میں سب سے اہم ثبوت ایک ملزم کے پاس سے ملا جس کے پاس سے 1.54 لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے۔ چونکہ نوٹوں پر خون کے دھبے بھی تھے، اس لیے انہیں فارنسک لیب بھیجا گیا جہاں یہ ثابت ہوا کہ یہ خون روپا ریڈی کا ہی تھا۔
ملزمان نے پیشگی منصوبہ بندی کی تھی۔ ان میں سے ایک ملزم ایک ماہ قبل گووا گیا تھا اور اسے کسی بھی طرح پیسہ کمانے کی شدید خواہش تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ روپا ریڈی کے گھر میں اسکول کی فیس کی رقم رکھی جاتی ہے چنانچہ قتل سے پانچ دن پہلے ہی انہوں نے گھرکے اطراف جرم کی ریکی کر لی تھی۔
واقعہ کے دن وہ ماسک پہن کر روپا ریڈی کے گھر پہنچے اور دیوار کود کر اندر داخل ہوئے۔ تاہم دیوار کودتے ہوئے ان میں سے ایک کا ماسک چہرے سے نیچے گر گیا جس کی وجہ سے روپا ریڈی نے اسے پہچان لیا۔ پہچانے جانے کے خوف سے انہوں نے چاقو سے 27 وار کیے اور بعد میں پرنسپل کا فون اور نقد رقم لے کر فرار ہو گئے۔
پولیس نے ملزمان کے پاس سے 1.54 لاکھ روپے نقد، ایک آئی فون اور روپا ریڈی کا فون برآمد کر لیا ہے۔ چونکہ دونوں ملزمان نابالغ ہیں، اس لیے انہیں جووینائل جسٹس کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔
ایک خاتون ٹیچر کے بیدردانہ قتل کے اس واقعہ نے جو اہم سوالات اٹھائے ہیں ان میں:
پہلا سوال: دسویں جماعت کی عمر میں قتل کا خیال کیسے آیا؟
دسویں جماعت ایک طالب علم کی زندگی کا انتہائی اہم مرحلہ ہے۔ اس عمر میں بچوں کو مستقبل کے خواب دیکھنے چاہئیں۔ ڈاکٹر بننے کا، انجینئر بننے کا، پولیس یا فوج میں شامل ہونے کا، والدین کا نام روشن کرنے کا۔ یہ خواب دیکھنے کی عمر ہے، قتل کرنے کی نہیں۔
پھر بھی اس عمر میں ایک لڑکے کے ذہن میں یہ خیال کیسے آیا کہ اسے پیسے چاہیے اور ان پیسوں کے لیے ایک انسان کو مارا جاسکتا ہے؟ کیا یہ ایک دن میں پیدا ہونے والا خیال تھا یا یہ طویل عرصے سے بڑھتی ہوئی کسی ذہنی حالت کی آخری شکل تھی؟
پیسوں کی کشش، عیاشی میں دلچسپی، شراب جیسی عادتیں، بائیکس کا شوق، غصہ اور غلط صحبت جیسی تمام چیزیں ایک لڑکے کی سوچ کو کس حد تک متاثر کر سکتی ہیں، یہ قتل اسی بات کا ثبوت ہے۔
دوسرا سوال: ہم اپنے بچوں کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟
ہمیں اپنے بچوں کے نمبر معلوم ہیں، ان کا رینک معلوم ہے، ان کی کامیابی کا فیصد یاد ہے لیکن کیا ان کے دل کا حال معلوم ہے؟ نمبر کم ہوں تو ہم فوری توجہ دیتے ہیں، رینک کم ہو جائے تو پریشان ہو جاتے ہیں، پڑھائی میں پیچھے رہ جائیں تو اسکول جا کر بات کرتے ہیں لیکن کیا ان کے رویے میں تبدیلی آئے تو ہم غور کرتے ہیں؟
ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہے ہیں، کہاں جا رہے ہیں، کس کے ساتھ گھوم رہے ہیں، بار بار پیسے کیوں مانگ رہے ہیں، اپنے فون میں کیا دیکھ رہے ہیں، کیا ان کی باتوں اور سوچ میں غصہ بڑھ رہا ہے، کیا وہ نشیلی اشیاء کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
اسکول میں نمبر کم ہوں تو ہم بچوں کی پڑھائی پر نظر رکھتے ہیں لیکن اگر اخلاقیات گر جائیں تو کیا کریں؟ ہم بچوں کو مہنگی تعلیم تو دے رہے ہیں لیکن کیا انھیں صحیح معنون میں زندگی جینا سکھا رہے ہیں؟
تیسرا سوال: ہمارا تعلیمی نظام کہاں ناکام ہوا؟
اسکول کا مطلب صرف نصابی کتابیں، امتحانات رینک اور نمبر نہیں ہیں بلکہ یہ شخصیت کی تعمیر کی جگہ ہے۔ اگر کسی طالب علم کے رویے میں اچانک تبدیلی آئے، نئے دوست بن جائیں، بلا وجہ پیسے خرچ کرنے لگے، شراب یا دیگر نشہ آور اشیاء کا اثر نظر آئے، غصہ اور چڑچڑاپن بڑھ جائے تو اسکول کو بھی اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ضرورت پڑے تو کونسلنگ فراہم کرنی چاہیے۔
کیونکہ ایک طالب علم کو امتحان میں ناکام ہونے سے بچانا جتنا اہم ہے، اسے زندگی میں غلط راستے پر جانے سے بچانا اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
چوتھا سوال: خاندانی نظام کی کمزوری
ایک وقت تھا جب خاندان خود ایک اسکول تھا۔ دادا دادی، نانا نانی بچوں کے لیے ہمیشہ گھروں پر موجود ہوتے تھےوہ صرف کہانیاں نہیں سناتے تھے بلکہ اچھے اور برے کی باتیں کرتے اور پہچان کرواتے تھے۔ ہماری تاریخ، ثقافت، روایات اور خاندانی اقدار سے بچوں کو روشناس کراتے تھے۔ بڑوں کا احترام کرنا، چھوٹوں سے محبت کرنا، دوسروں کے درد کو سمجھنا، غلطی ہو جائے تو مان لینا یہ سب زندگی کا حصہ ہیں۔
کیا اب ہم اپنے بچوں کو وقت دے رہے ہیں یا انہیں ایک سے بڑھکر ایک چیزیں تو دے رہے ہیں لیکن وقت نہیں دے پا رہے؟ اسمارٹ فون خرید کر دے سکتے ہیں، مہنگی تعلیم فراہم کر سکتے ہیں، ضرورت کی ہر چیز خرید کر دے سکتے ہیں لیکن ان کے پاس بیٹھ کر پوچھنے کے لیے کہ تمہارے دل میں کیا ہے، ہم کتنا وقت نکال رہے ہیں؟
پانچواں سوال: معاشرہ کہاں کھڑا ہے؟
معاشرہ بھی اس المیے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا کیا پیغام دے رہا ہے، سوشل میڈیا کیا اثرات ڈال رہا ہے، جرائم کی خبروں کو مرچ مصالحہ لگا کر دو کوڑی کے نام نہاد یو ٹیوبرس کیسے نوجوان ذہنوں کو متاثر کررہے ہیں کہ بچے جرم سے نفرت کے بجائے مجرمین کو اپنا رول ماڈل سمجھنے لگے ہیں اور پیسے کو کامیابی کے حصول کا واحد پیمانہ کیوں بنا دیا گیا ہے اور اخلاقیات کو کس نے کمزور کیا ہے، یہ سب غور طلب ہیں۔
ہم بچوں کو سکھا رہے ہیں کہ پیسے کیسے کمائے جائیں لیکن یہ نہیں سکھا رہے کہ پیسوں کے لیے کیا نہیں کرنا چاہیے۔ ہم سکھا رہے ہیں کہ زندگی میں کیسے جیتا جائے لیکن یہ نہیں سکھا رہے کہ جیت اور ہار دونوں سچ ہے ہارنے پر خود کو کیسے سنبھالا جائے۔ ہم آزادی دے رہے ہیں لیکن ذمہ داری نہیں سکھا رہے۔ ہم بتا رہے ہیں کہ غصہ آنا فطری ہے لیکن یہ نہیں سکھا رہے کہ اس غصے پر کیسے قابو پایا جائے۔
آگے کیا ہوگا؟
روپا ریڈی کی موت ایک خاندان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا صدمہ ہے جبکہ دو بچوں پر قتل کے الزامات ان کے خاندانوں کے لیے ایک اور سانحہ ہیں۔ قانون تو اپنا کام کرے گا لیکن معاشرہ اپنا کام کب کرے گا؟ ذرا سونچئے۔
یہ سوال صرف ان دو لڑکوں میں جواب تلاش کرنا کافی نہیں بلکہ جواب تلاش کرنا ہوگا خاندان میں، اسکول میں، دوستوں کے ماحول میں اور ہمارے معاشرے میں۔
بچوں کے جرم کرنے کے بعد ان پر تنقید کرنا بہت آسان ہے لیکن جرم کرنے کی نوبت آنے سے پہلے ہی ان کا ہاتھ تھام لینا اصل ذمہ داری ہے۔
اگر ہم اس واقعے کو صرف ایک کرائم نیوز سمجھ کر بھول گئے تو ہم اصل سبق کھو دیں گے۔ ہماری ذمہ داری صرف اپنے بچوں کو ایک اچھا مستقبل دینا ہی نہیں بلکہ انہیں ایک اچھا انسان بنا کر اس مستقبل کی تعمیر کرنا بھی ہے۔
ہمیں بچوں کو وقت دینا ہوگا، ان کے رویے میں تبدیلی پر نظر رکھنی ہوگی، ان سے کھل کر بات کرنی ہوگی، انہیں غلط اور صحیح کا فرق سکھانا ہوگا، اسکولوں میں کونسلنگ کو لازمی بنانا ہوگا اور معاشرے میں اخلاقیات کو فروغ دینا ہوگا۔
یہ واقعہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ بیداری اب سب سے اہم ضرورت ہے، یہ واقع ایک انتباہ بھی ہے اور ایک موقع بھی کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کی سمت درست کریں۔ جو ہم آج بچوں کو دیں گے وہی کل ہمارا معاشرہ کا مستقبل ہوگا۔
اور روزہ محشر ہم سے سوال ہوگا کہ ہم نے اپنی اولاد کی تربیت خود کی یا یہ کام اسکول کالجز کے بھروسے چھوڑ دیا تھا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔
مضمون نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ وصحافت میں بطور اسوسی ایٹ پروفیسر کار گذار ہیں۔



