
شادی مبارک اسکیم پر اسٹے برقرار، تلنگانہ ہائی کورٹ کا اسٹے ختم کرنے سے انکار
عدالت نے ریاست کی مالی صورتحال اور اسکیموں کے اخراجات پر محکمہ خزانہ سے حلف نامہ طلب کرلیا، مزید سماعت 24 اگست کو ہوگی۔
حیدرآباد، 21 اگست 2026 (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)تلنگانہ میں شادی کے لیے مالی امداد فراہم کرنے والی شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیموں کے معاملے میں ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو فوری راحت دینے سے انکار کردیا ہے۔ عدالت نے ان اسکیموں پر پہلے سے عائد اسٹے ختم کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکومت سے اسکیموں کے مالی بوجھ اور ریاست کی مجموعی مالی صورتحال سے متعلق مزید وضاحت طلب کی ہے۔
جسٹس این وی شروَن کمار نے ایڈووکیٹ وجے گوپال کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں 2014 کے بعد مختلف سرکاری احکامات کے ذریعے شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیموں کے نفاذ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اتنی بڑی فلاحی اسکیموں کے لیے اہلیت کے اصول اور سرکاری رقم خرچ کرنے کا طریقہ صرف انتظامی احکامات کے بجائے مناسب قانونی بنیاد کے تحت ہونا چاہیے۔
اس معاملے میں عدالت نے ریاستی حکومت کے محکمہ خزانہ سے حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے۔ عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ حکومت ان اسکیموں کے اخراجات کس طرح پورے کر رہی ہے اور کیا ان کی ادائیگی جاری رکھنے کے لیے قرض لیا گیا ہے۔ عدالت نے ریاست کے قرض اور مالی ذمہ داریوں سے متعلق بھی تفصیلی وضاحت طلب کی ہے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ اسٹے کی وجہ سے اسکیموں کے مستحقین کو رقم کی ادائیگی متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اسکیموں کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں رقم مختص کی جا چکی ہے اور کابینہ بھی اس بجٹ کی منظوری دے چکی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے صرف شادی کی مالی امداد تک معاملہ محدود نہیں رکھا بلکہ ریاست میں دیگر زیر التوا ادائیگیوں کا بھی ذکر کیا۔ جسٹس شروَن کمار نے زمین دینے والے متاثرین کے معاوضے، فلاحی اسکیموں کے واجبات، ریٹائرڈ ملازمین اور سرکاری ملازمین کی زیر التوا ادائیگیوں کے بارے میں حکومت سے سوالات کیے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ ریاست اپنی مالی ترجیحات کس بنیاد پر طے کر رہی ہے۔
شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیموں پر ابتدائی طور پر 12 اگست کو اسٹے لگایا گیا تھا، جس کے بعد مستحقین کو مالی امداد کی نئی ادائیگیوں پر روک لگ گئی تھی۔ اب 20 اگست کی سماعت میں بھی عدالت نے اس اسٹے کو ختم نہیں کیا۔
حکومت ان اسکیموں کو جاری رکھنے کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہے، جبکہ عدالت میں اسکیموں کی قانونی بنیاد، مالی ذمہ داریوں اور سرکاری رقم کے استعمال سے متعلق سوالات پر مزید سماعت جاری ہے۔
عدالت نے معاملے کی مزید سماعت کے لیے 24 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔



