تلنگانہ کی خبریں

حیدرآباد میں SIR مہم کے دوران نوٹس کی پرنٹنگ میں تاخیر، 12.5 لاکھ ووٹرس کو نوٹس کا چیلنج

12.5 لاکھ ووٹرس کو نوٹس جاری کرنے کا چیلنج، وقت کی کمی سے 15 EROs پر روزانہ 40 ہزار کیس نمٹانے کا دباؤ

حیدرآباد، 21 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) حیدرآباد میں ووٹر لسٹوں کی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران 12.5 لاکھ سے زیادہ ووٹرس کو جاری کئے جانے والے نوٹس کی پرنٹنگ میں تاخیر نے انتظامیہ کے سامنے بڑا چیلنج کھڑا کردیا ہے۔ نوٹس کی تیاری اور تقسیم میں تاخیر کے باعث اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ محدود وقت اور صرف 15 الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرس (EROs) کے ذریعے اتنی بڑی تعداد میں ووٹرس کی دستاویزات کی جانچ اور اعتراضات کی سماعت مقررہ مدت میں کیسے مکمل ہوگی۔

حیدرآباد ضلع کی حالیہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں مجموعی طور پر 27,95,225 ووٹرس درج ہیں۔ SIR کے دوران ریکارڈ کی جانچ اور 2002 کی فہرست سے تفصیلات ملانے کے عمل میں بڑی تعداد میں ایسے ووٹرس کی نشاندہی ہوئی جن کے ریکارڈ میں مکمل مطابقت نہیں پائی گئی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 5,80,908 ووٹرس کی تفصیلات 2002 کی SIR فہرست سے مکمل طور پر میاپ نہیں ہوسکیں، جبکہ مزید 6,72,678 ووٹرس کے نام، والدین کے نام اور دیگر بنیادی معلومات میں تضادات یا غلطیاں سامنے آئیں۔

ان دونوں زمروں کو ملا کر حیدرآباد ضلع میں 12,53,586 ووٹرس کو نوٹس جاری کئے جانے ہیں۔ تاہم نوٹس کی پرنٹنگ کا کام تاحال مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تقسیم اور اس کے بعد دستاویزات کی جانچ کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ نوٹس جاری کرنے، اعتراضات وصول کرنے اور متعلقہ ووٹرس کی سماعت کے لئے آخری تاریخ 16 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔

حکام کے سامنے اصل مشکل وقت اور عملے کی محدود تعداد ہے۔ ضلع حیدرآباد میں اعتراضات اور سماعت کے عمل کے لئے صرف 15 EROs دستیاب ہیں۔ اگر 16 ستمبر تک 12.5 لاکھ سے زیادہ معاملات نمٹانے ہوں تو ہر ERO کو مجموعی طور پر روزانہ ہزاروں کیسوں سے نمٹنا پڑے گا، جس سے کام کے غیر معمولی دباؤ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

SIR کے دوران فیلڈ سطح پر ڈیٹا کی جانچ اور ریکارڈ کی تصدیق میں مختلف نوعیت کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں اینومریشن فارم میں درج نام یا سرنیم کا 2002 کی ماسٹر لسٹ سے مطابقت نہ رکھنا، والدین اور بچوں کی عمر میں غیر معمولی فرق، ایک ہی والدین کے بچوں کی عمر میں نو ماہ سے کم کا فرق، خاندانی رشتوں سے متعلق معلومات میں تضاد اور سرپرستی یا رہائشی پتے کے ریکارڈ میں بے قاعدگیاں شامل ہیں۔

عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ کسی ووٹر کو نوٹس ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا ووٹ فرضی قرار دے دیا گیا ہے یا اسے ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ نوٹس جاری کرنے کا مقصد ریکارڈ میں موجود معلومات کی دوبارہ جانچ اور ووٹر کی تفصیلات کی تصدیق کرنا ہے۔ متعلقہ ووٹر کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق مطلوبہ دستاویزات پیش کرکے اپنی تفصیلات درست ثابت کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے ووٹر کی تاریخ پیدائش کے لحاظ سے دستاویزات کی مختلف شرائط مقرر کی ہیں۔ یکم جولائی 1987 سے پہلے پیدا ہونے والے ووٹرس کو مقررہ 12 اقسام کے دستاویزات میں سے کوئی ایک ثبوت ERO کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ یکم جولائی 1987 سے 2 دسمبر 2004 کے درمیان پیدا ہونے والے ووٹرس کو اپنے شناختی ثبوت کے ساتھ والدین میں سے کسی ایک کا شناختی ثبوت یا متعلقہ سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوگا۔

اسی طرح 2 دسمبر 2004 کے بعد پیدا ہونے والے ووٹرس کے لئے اپنے شناختی ثبوت کے ساتھ والد اور والدہ دونوں کے شناختی ثبوت یا سرٹیفکیٹس پیش کرنا ضروری ہوگا۔ نوٹس کی پرنٹنگ اور تقسیم میں تاخیر کے درمیان انتظامیہ کے لئے سب سے اہم کام یہ ہے کہ باقی ماندہ وقت میں لاکھوں ووٹرس تک نوٹس پہنچانے، دستاویزات وصول کرنے اور سماعت کا عمل مؤثر انداز میں مکمل کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button