تلنگانہ کی خبریں

تلنگانہ میں ممنوعہ اراضی کی شکایات کے لیے ٹول فری نمبر، تین دن میں 400 کالز موصول ہوئیں

22A فہرست سے متعلق 6,000 معاملات زیر غور، حکومت نے شکایات تین سے پانچ دن میں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی

حیدرآباد، 21 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): تلنگانہ میں ممنوعہ اراضی اور 22A فہرست سے متعلق شکایات درج کرانے کے لیے شروع کیے گئے ٹول فری کال سینٹر پر تین دن کے دوران تقریباً 400 کالز موصول ہوئی ہیں۔ حکومت نے شہریوں کی شکایات براہ راست متعلقہ حکام تک پہنچانے اور ان کے ازالے کی نگرانی کے لیے یہ سہولت شروع کی ہے۔

جمعرات 20 اگست کو کال سینٹر پر مجموعی طور پر 116 شکایات درج کی گئیں۔ ضلع وار تفصیلات کے مطابق رنگاریڈی سے سب سے زیادہ 23 شکایات موصول ہوئیں، جبکہ میڈچل-ملکاجگیری سے 17 شکایات درج کی گئیں۔ سنگاریڈی اور سدی پیٹ اضلاع سے 10،10 شکایات موصول ہوئیں۔

ممنوعہ اراضی یا 22A فہرست سے متعلق مسائل کی شکایت درج کرانے کے لیے شہری ٹول فری نمبر (1800-599-4788) پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ کال سینٹر کے ذریعے موصول ہونے والی درخواستیں متعلقہ حکام تک پہنچائی جا رہی ہیں تاکہ شکایات کا جائزہ لے کر ضروری کارروائی کی جا سکے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یادادری بھونگیر ضلع کے آتماکور منڈل کے رہائشی یادگیری نے شکایت درج کراتے ہوئے بتایا کہ ان کا 240 مربع گز کا پلاٹ ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق سروے نمبر 630 سے متعلق قانونی تنازع صرف ایک پلاٹ تک محدود تھا، تاہم پورے سروے نمبر کی اراضی کو ممنوعہ فہرست میں شامل کر دیا گیا۔

تلنگانہ کے وزیر محصولات پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے حکام کے ساتھ ٹیلی کانفرنس کے دوران کال سینٹر کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ کال سینٹر کے ذریعے موصول ہونے والی ہر درخواست کو ذمہ داری کے ساتھ لیا جائے اور مسئلہ حل ہونے تک اس کی نگرانی کی جائے۔

وزیر نے یہ بھی کہا کہ ممنوعہ جائیدادوں سے متعلق بعض مسائل ریونیو حکام کی جانب سے فہرستیں تیار کرنے میں ہونے والی غلطیوں کے باعث پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق بعض معاملات میں مناسب تصدیق کے بغیر ممنوعہ جائیدادوں کی فہرستیں رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کو بھیج دی گئیں، جس کے نتیجے میں کچھ ایسی اراضی بھی فہرست میں شامل ہو گئی جو ممنوعہ قرار نہیں دی جانی چاہیے تھی۔

پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے بتایا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق نظرثانی شدہ فہرست رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کو بھیجی جا رہی ہے۔ اس عمل میں تقریباً 6,000 ایسے معاملات شامل ہیں جن میں لوگوں نے اپنی جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیے جانے کو چیلنج کیا ہے۔ نظرثانی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ان معاملات کو نمٹانے کی کارروائی کی جائے گی۔

وزیر نے کہا کہ متعلقہ سرکاری احکامات، کارروائی اور میمو بھی ریکارڈ میں اپ لوڈ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض سرکاری اراضی کو ممنوعہ یا باقاعدہ قرار دی گئی زمینوں کی فہرست سے نکالنے سے متعلق ضروری دستاویزات بھی اپ لوڈ کیے جا رہے ہیں تاکہ ریکارڈ میں وضاحت پیدا ہو سکے۔

پونگولیٹی نے رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ ممنوعہ جائیدادوں کے معاملے کی وجہ سے جن افراد کی رجسٹریشن رک گئی ہے، ان کے لیے اضافی سلاٹس مختص کیے جائیں۔ انہوں نے زیر التوا رجسٹریشن مکمل کرنے کے لیے اضافی اوقات میں کام کرنے کی بھی ہدایت دی۔

وزیر نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ممنوعہ اراضی سے متعلق مسائل پر گھبرانے کے بجائے اپنی درخواست ریونیو یا رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے متعلقہ دفتر میں جمع کرائیں۔ ان کے مطابق حکومت ایسے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھتے ہوئے تین سے پانچ دن کے اندر حل کرنے کی کوشش کرے گی۔

حکام کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ کال سینٹر کے ذریعے موصول ہونے والی شکایات کی تعداد، نوعیت اور ان پر ہونے والی کارروائی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے۔ وزیر نے چار اضلاع سے موصول ہونے والی درخواستوں کی صورتحال بھی طلب کی ہے تاکہ زیر التوا معاملات کو جلد نمٹایا جا سکے۔

Telangana Prohibited Land Complaint Toll-Free Number: Call 1800 599 4788

متعلقہ خبریں

Back to top button