
دارالعلوم دیوبند کے نیچے شیو مندر ہونے کا دعویٰ، ہندوتوا تنظیم نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا
ہندو رکشا دل کا احتجاج، عدالتی سروے کا مطالبہ، دیوبند نہیں ’دیو ون‘ تھا: دعویٰ
سہارنپور 23 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش کے ضلع سہارنپور میں واقع مشہور اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند ایک نئے تنازع کا مرکز بن گئی ہے۔ ہندو رکشا دل کے ارکان نے ضلع ہیڈکوارٹر میں دھرنا دے کر مطالبہ کیا کہ دارالعلوم دیوبند کے احاطے میں مبینہ قدیم دفن شدہ شیو مندر کے دعوے کی تحقیقات کرائی جائے۔
للت شرما کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج کے دوران مظاہرین نے سہارنپور میں پولیس کے ساتھ حالیہ جھڑپ کے معاملے پر رکن پارلیمنٹ اقراء حسن کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ اقراء حسن نے پولیس افسران کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا، اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
احتجاج کے دوران للت شرما نے دعویٰ کیا کہ دارالعلوم دیوبند کے احاطے سے تقریباً 14 فٹ نیچے ایک “قدیم دفن شدہ شیو مندر” موجود ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں “منصفانہ اور شفاف تحقیقات” کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم عدالت کے ذریعے قانونی مداخلت بھی حاصل کرے گی تاکہ انتظامی سطح پر تحقیقات ممکن بنائی جا سکیں۔
للت شرما نے ضلع انتظامیہ کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آثار قدیمہ کے محکمے اور متعلقہ حکام کے ذریعے سائنسی سروے کرایا جانا چاہیے تاکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ بعد ازاں ہندو رکشا دل نے الزام لگایا کہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اور اس کی جانچ تکنیکی اور آثار قدیمہ کے طریقوں سے ہونی چاہیے۔
تاہم اب تک اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی سرکاری ثبوت سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی مقامی انتظامیہ یا حکومت کی جانب سے کسی باضابطہ تحقیقات یا سروے کا اعلان کیا گیا ہے۔
احتجاج کے دوران بعض شدت پسند عناصر کی جانب سے خاتون رکن پارلیمنٹ اقراء حسن کے خلاف متنازع تبصرے بھی کیے گئے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ اس دوران کشیپ برادری کی حمایت کے سوال پر للت شرما نے دعویٰ کیا کہ حسن کی حمایت کرنے والے “حقیقی برادری کے افراد نہیں ہیں”، جس کے بعد سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔
مظاہرین تقریباً ایک گھنٹے تک ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر موجود رہے، نعرے بازی کرتے رہے اور اپنے مطالبات پر مشتمل یادداشت انتظامیہ کے حوالے کی۔ احتجاج کے دوران للت شرما نے ایک اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا، 14 فٹ نیچے شیو لنگ ملے گا، اور اگر نہ ملا تو میں پھانسی کے لیے تیار ہوں۔”
اس معاملے نے مغربی اتر پردیش میں جاری سیاسی اور سماجی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس تنازع سے متعلق مختلف دعوے اور ویڈیوز گردش کر رہے ہیں، جن میں کہا جا رہا ہے کہ موجودہ دیوبند دراصل قدیم “دیوی ون” تھا، جو ہندو تہذیب کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔
دوسری جانب دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ادارے کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق معاملہ فی الحال مجسٹریٹ کے علم میں ہے، تاہم کسی باضابطہ جانچ یا سروے کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔
دارالعلوم دیوبند برصغیر کی اہم ترین اسلامی درسگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جس کا قیام 1866 میں عمل میں آیا تھا اور دنیا بھر میں اس کے لاکھوں وابستگان موجود ہیں۔



